ایگزیکٹ انتظامیہ 3 سے 4 ماہ کے اندر ضمانت پر رہا ہو سکتی ہے

ایگزیکٹ انتظامیہ 3 سے 4 ماہ کے اندر ضمانت پر رہا ہو سکتی ہے

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پاکستان میں سائبر کرائمز کے خلاف قانون کی عدم موجودگی ،ایگزیکٹ انتظامیہ کے لیے باعث رحمت بن سکتی ہے۔ اور شعیب شیخ سمیت دیگر ملزمان ناکافی قوانین کے سہارے3سے 4 ماہ کے اندر ضمانت پر رہا ہوسکتے ہیں۔ایف آئی اے کی طرف سے درج کئے جانے والے مقدمے میں ضابطہ فوجداری اور الیکٹرانک ٹرانزکشن آرڈیننس کی لگائی جانے والی دفعات میں زیادہ سے زیادہ 7سال تک ۔جبکہ انسدا د منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کسی بھی ملزم کو ایک سے 10سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔معلوم ہواہے کہ ایف آئی اے کراچی نے جعلی ڈگری سکینڈل میں ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ ، وقاص عتیق اور دیگر ملزما ن کے خلاف ضابطہ فوجداری کے دفعہ 420/468/474 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010کے علاوہ الیکٹرانک ٹرانزکشن آرڈیننس 2002کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کا 7جون تک جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔تاہم خدشہ ہے کہ ایگزیکٹ انتظامیہ ناکافی قوانین کا سہارا لیکر تین سے چار ماہ کے اندر ضمانت پر رہا ہوسکتی ہے۔اور بعد ازاں مقدمے سے بری بھی ہوسکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایگزیکٹ انتظامیہ کا فعل سائبر کرائمز کے زمرے میں آتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک میں سائبر کرائمز کے خلاف قانون موجود نہیں ہے۔اور اس حوالے سے پریوینشن آف سائبر کرائمز ایکٹ2015کا مسودہ جو کہ متنازعہ حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے۔قبل ازیں ملک میں سائبر کرائمز کا قانون نافذ تھا۔جو گزشتہ دور حکومت میں کالعدم قرار دیدیا گیا۔اس قانون کے تحت سائبر کرائم کی سزا موت تک مقرر تھی۔ لیکن مذکورہ قانون کے خاتمے کے بعد اس حوالے سے نیا قانون موجود نہیں ہے۔ اور ملک میں کمپیوٹر وغیرہ پر فراڈ کرنے والوں سے الیکٹرانک ٹرانزکشن آرڈیننس 2002کے تحت نمٹا جاتا ہے۔لیکن یہ قانون سائبر کرائم کے حوالے سے تشنہ پایا جاتا ہے۔ اور ہرطرح کے سائبر کرائم کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔ کچھ یہی صورتحال ایگزیکٹ سکینڈل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے شعیب شیخ وغیرہ کے خلاف دائر کئے جانے والے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 402/468/474لگائی ہیں۔ جو کسی شخص کی دھوکا دہی اور دھوکے سے تیار کئے جانے والی دستاویزات کو بطور اصل دستاویزات پیش کرنے کے حوالے سے ہیں۔ ان دفعات کے تحت کسی بھی مجرم کو زیادہ سے زیادہ 7سال تک قید و جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔اسی طرح مقدمے میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010کی دفعہ لگائی گئی ہے۔ دفعہ 4کے سیکشن ون کے تحت منی لانڈرنگ ثابت ہونے پر کسی بھی مجرم کو ایک سے 10سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔جبکہ دی الیکٹرانک ٹرانزکشن آرڈیننس 2002کی دفعہ 37(3)کے تحت سائبر جعلسازی کرنے والے کو زیا دہ سے زیادہ 7سال تک قیدیا 10لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سائبر کرائمز ایکٹ کی عدم موجودگی کے باعث شعیب شیخ وغیرہ قوانین کے ناکافی ہونے کی وجہ سے تین سے چار ماہ کے اندر ضمانت پر ہا ہوسکتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر