حکمرانوں کا سیاسی وجود پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش ہے،طاہر القادری

حکمرانوں کا سیاسی وجود پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش ہے،طاہر القادری

 لاہور(خبر نگار خصوصی)عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کینیڈا سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی مضحکہ خیز اور انصاف کا خون ہے۔ہمیں نواز شریف ،شہباز شریف ،رانا ثناء اللہ، آئی جی اور توقیر شاہ کے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں براہ راست ملوث ہونے کے حوالے سے رتی برابر بھی شک نہیں۔ مضحکہ خیز رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں انصاف لینے سڑکوں پر آ گئے ،اپنا یہ حق انصاف ملنے تک استعمال کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سربراہ افواج پاکستان، سکیورٹی اداروں اور پوری قوم کے علم میں لارہا ہوں کہ شریف سلطنت پاکستان میں داعش کا راستہ ہموار اور آپریشن ضرب عضب کی قربانیوں کو ضائع کرنے کے راستے پر چل رہی ہے۔ جب تک یہ حکمران مسلط رہیں گے دہشتگردی ختم نہیں ہوگی۔سلطنت شریفیہ کا سیاسی وجود پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہے ان حکمرانوں کی وجہ سے پہلے طالبان آئے اب ان کے ظالمانہ رویوں کے باعث داعش کا راستہ ہموار ہورہا ہے۔ پریس کانفرنس میں مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق عباسی، ناظم اعلیٰ تنظیمات شیخ زاہد فیاض، جواد حامد،میڈیا ایڈوائزر نوراللہ صدیقی، راجہ زاہد بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جون میں پاکستان آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آنے سے قبل لندن میں دہشتگردی کے خلاف لکھی جانے والی اپنی 25کتابوں میں سے 15 کتابوں کی تقریب رونمائی کی تقریب میں شرکت کرونگا۔ 10 کتابیں اردو اور 15 انگریزی اور عربی میں ہیں۔ پاکستان آ کر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے فروغ کیلئے تیار کیے گئے نصاب کی بھی تقریب رونمائی ہو گی۔ یہ نصاب بڑی محنت سے تیار کیا ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس سے نوجوان نسل کو دہشت گردی سے دور رہنے کے حوالے سے ترغیب ملے گی۔ انہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی سلمان ڈمی کردار ہے جسے فرار بھی انہی حکمرانوں نے کروایا ،ڈاکٹر توقیر شاہ جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا اہم کردار ہے اسے ڈبلیو ٹی او میں سفیر بنوادیا گیا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام ملزمان کو اہم عہدوں پر فائز کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کہتے ہیں مجھے واقعہ کا علم صبح9 بجے ہوا جبکہ ساری شہادتیں 11 بجے کے بعد ہوئیں۔ جے آئی ٹی نے ڈھٹائی کے ساتھ یہ کیسے لکھ دیا کہ وزیراعلیٰ کا واقعہ سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ڈیل کرنے یا ایسی پیشکش پر غور کرنے اور ڈیل کے جھوٹے الزام لگانے والے پر اللہ کی لعنت ہو، ہمیں خریدنا تو دور کی بات حکمران ہمارے غریب شہید کارکنوں کے لواحقین کو کروڑوں اربوں کی آفر دینے کے باوجود نہ خرید سکے،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا مل جاتی تو ڈسکہ کا واقعہ نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ 21 مئی سے شروع ہونے والا احتجاج جون کے وسط تک 40 شہروں میں جاری رہے گا، واپسی پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرونگا۔ جون میں انشاء اللہ پاکستان میں ہوں گا۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لندن میں نہ کوئی پہلے باضابطہ اتحاد بنا تھا نہ آئندہ کوئی غلط فہمی میں رہے، چودھری برادران نے باقاعدہ وقت لیکر لندن میں ملاقات کی تھی جبکہ عمران خان سے ملاقات اتفاقیہ تھی۔

مزید : صفحہ آخر