پیپلز پارٹی کا قصہ، بلاول بھٹو پھر خبروں میں!

پیپلز پارٹی کا قصہ، بلاول بھٹو پھر خبروں میں!
پیپلز پارٹی کا قصہ، بلاول بھٹو پھر خبروں میں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 تجزیہ : چودھری خادم حسین

پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پریس سیکرٹری محترم بشیر ریاض کہتے ہیں تو مان لینا چاہیے کہ باپ بیٹے یا فیملی میں کوئی اختلاف نہیں اور بلاول بھٹو کسی بھی لمحے پاکستان آکر پارٹی سنبھال سکتے ہیں، حال ہی میں خبر شائع ہوئی کہ دبئی میں باپ کی بچوں کے ساتھ ملاقات ہوئی جو فریال تالپور کی کوشش سے تھی اور بلاول کو فری ہینڈ دینے پر اتفاق ہوگیا ہے، ایسی خبریں اس وقت سے چل رہی ہیں جب بلاول نے کراچی کے جلسے میں تقریر کی اور چند چیلنج دے دئیے تھے، یہ تقریر آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی سے متصادم تھی، چنانچہ اختلاف ہوا اور بلاول سیاست بتا کر لندن چلے گئے اور یہاں خبروں کا موضوع رہے۔ اب تک بھی حتمی خبر نہیں بنی۔

بہرحال ہم نے بہت پہلے عرض کیا تھا کہ تنازعہ سیاسی ہی نہیں، انتظامی اور خاندانی بھی ہے، اس کا حل تو اس وقت نظر آگیا تھا جب آصف زرداری نے بچوں کے حوالے سے کہا کہ بلاول اور آصفہ سیاست کریں گے، بختاور کو کاروبار اور اراضی کی دیکھ بھال سے دلچسپی ہے۔ یہ بظاہر عام سی بات تھی لیکن اس کی گہرائی کا اندازہ حالات جاننے والوں ہی کو ہے کہ اراضی اور کاروبار کا انتظام ایک ہاتھ سے حقیقی وارثوں تک منتقل ہونے کا انتظام کر دیا گیا اور بڑا اختلاف دور ہوگیا، اب مسئلہ سیاست کا تھا اس کیلئے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پالیسی اپنی اپنی ہے، تاہم اتفاق موجود ہے، ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ بلاول سیاست ہی سے انکار کر دیں ایسی صورت میں آصفہ بھٹو سیاست کرے گی، تاہم ابھی تک یہی درست ہے کہ بلاول بھٹو قیادت سنبھالنے کی تیاری کئے بیٹھے ہیں اور وہ قیادت سنبھال کر یا اس سے پہلے تنظیمی تبدیلیاں ضرور کریں گے، وہ اپنی والدہ والی ایگزیکٹو کمیٹی بھی بحال کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال کچھ انتظار کرلیں سسپنس بھی ختم ہونے والا ہے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کچھ بھی ہوں، ایک باپ تو ہیں جن کا بیٹا دو سال سے اغوا کرلیا گیا ہے، دو سال کے بعد جب بیٹے کی باپ سے بات ہوئی تو ان کی کیفیت کا اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے، اب یوسف رضا گیلانی وفاقی حکومت، آرمی چیف اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان رابطوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ حیدر گیلانی کی واپسی یقینی بنائی جائے اور بچھڑا بیٹا واپس آجائے بتایا تو نہیں گیا تاہم گیلانی کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا القاعدہ کی تحویل میں ہے اور بات چیت جاری ہے، کامیابی کیلئے دعاگو ہیں۔

ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ چودھری نثار علی خاں کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے اور پھر سے گلے شکو ے جاتے رہے، یہ اپنے طور پر کوئی خبر نہیں کہ دونوں ہی خاموش تھے اور اپنا اپنا کام کر رہے تھے۔ اب مل کر کریں گے کہ تحفظات دور ہوگئے ہیں؟ مبارک، ویسے یہ خبر نہیں۔ روٹھے تھے ناراض نہیں تھے۔

مزید : تجزیہ