ای میل، ٹوئٹر پوسٹس، ٹیکسٹ میسجز میں اختصار سے زبان کی اصل ہیئت ہی تبدیل ہونے لگی

ای میل، ٹوئٹر پوسٹس، ٹیکسٹ میسجز میں اختصار سے زبان کی اصل ہیئت ہی تبدیل ہونے ...

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ای میل، ٹوئٹر پوسٹس، ٹیکسٹ میسجز وغیرہ نے تحریر میں جس اختصار پن کو جنم دیا اس سے زبانوں کی اصل ہیئت ہی تبدیل ہوتی جا رہی ہے، لفظوں کو اس قدر اختصار کے ساتھ لکھا جانے لگا ہے کہ ان کی شکل ہی تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور آہستہ آہستہ اصل الفاظ متروک ہوتے جا رہے ہیں۔ جب اختصار پسندی کے شوق میں الفاظ اس قدر احذاف و ترامیم کی زد میں ہیں تو بھلا تحریر میں رموز و اوقاف جیسی چھوٹی چیز کا کون خیال رکھے گا، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے اور شاید اس سے سبق بھی حاصل کریں کہ ’’کوما‘‘ کی ایک چھوٹی سی غلطی نے امریکی حکومت کو 1ملین ڈالر کا ٹیکہ لگوا دیا۔امریکی حکومت نے پھل دار درختوں کے درآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی اور ملک میں ان درختوں کی افزائش کے لیے پھل دار درختوں کی درآمد کوٹیکس فری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے حکومت کی طرف سے ٹیکس ٹیرف میں ترمیم کی گئی۔ ترمیم کے لیے جو فقرہ لکھا گیا اس میں ایک ’’کوما‘‘ غلط لگ گیا۔اصل فقرہ یوں تھا ’’Fruit plants, Tropical and semi Tropical‘‘ جو غلطی سے ’’Fruit, Plants........‘‘ لکھ دیا گیا۔ اصل فقرے کا مطلب یہ تھا کہ گرم اور نیم گرم ملکوں سے پھل دار پودوں کی درآمد ٹیکس فری ہو گی، ایک کوما غلط لگنے سے فقرہ یوں ہو گیا ’’گرم اور نیم گرم ممالک سے پھلوں اور پودوں کی درآمدٹیکس فری ہو گی۔ مالٹے، لیموں اور دیگر پھلوں کے تاجروں نے امریکہ کی اس غلطی سے خوب فائدہ اٹھایا ،ٹیکس فری پھل امریکہ کو برآمد کر کے امریکہ کو ٹھیک ٹھاک چونا لگا دیا۔ حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہونے تک اسے پھلوں پر ٹیکس کی مد میں 1ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا تھا۔

مزید : علاقائی