آنکھوں کو خطرناک بیماری سے بچانے کے لئے کنٹیکٹ لینز کا استعمال احتیاط سے

آنکھوں کو خطرناک بیماری سے بچانے کے لئے کنٹیکٹ لینز کا استعمال احتیاط سے
آنکھوں کو خطرناک بیماری سے بچانے کے لئے کنٹیکٹ لینز کا استعمال احتیاط سے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برمنگھم (نیوز ڈیسک) انسانی جسم پر حملہ آور ہونے والے متعدد جراثیموں اور کیڑوں کے بارے میں آپ نے سنا ہوگا لیکن انسانی آنکھ میں داخل ہوکر اسے کھا جانے والے جرثومے کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں۔ اے کیسٹیلانی نامی جرثومہ آلودہ ماحول سے آنکھ میں پیدا ہونے والے ایک انفیکشن کے نتیجے میں منتقل ہوتا ہے اور آج کل کنٹیکٹ لینز کا بڑھتا ہوا شوق اس خوفناک مسئلے کی بنیادی وجہ بن رہا ہے۔ ماہرین چشم کا کہنا ہے کہ اگر منہ دھونے، نہانے یا کسی دیگر سرگرمی کے دوران آلودہ پانی آنکھ کے اندر چلا جائے تو کنٹیکٹ لینز کی وجہ سے یہ پانی آنکھ کے کارنیا پر موجود رہتا ہے جس کے باعث انفیکشن پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ انفیکشن اے کیسٹیلانی جرثومے کو جنم دیتا ہے جو آنکھ کے گوشت کو کھانا شروع کردیتا ہے اور اس کی انتہائی چھوٹی جسامت کی وجہ سے فوری طور پر اس کا سراغ لگانا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہ جرثومہ آنکھ کے بیرونی حصے سے داخل ہوکر اندر تک گھس جاتا ہے اور بروقت اس کا علاج نہ ہوسکے تو نابینا پن مقدر بن جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرناک جرثومے سے بچنے کے لئے آلودہ پانی کو آنکھوں سے دور رکھیں اور کنٹیکٹ لینز استعمال کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان کی جراثیم کش محلول سے صفائی کریں جس کے متعلق ڈاکٹر سے رہنمائی لینا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی یقینی بنائیں کہ لینز پہننے کے بعد ہی میک اپ کی کسی چیز کو ہاتھ لگایا جائے تاکہ میک اپ میں موجود کیمیکل اجزا کنٹیکٹ لینز تک نہ پہنچ سکیں۔

مزید : علاقائی