یوم تکبیر ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز دن

یوم تکبیر ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز دن

پاکستان کی تاریخ کا وہ تاریخ ساز لمحہ بھلانا ممکن ہی نہیں ہے جب ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے دنیا بھر کی مخالفت مول لے کر پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے سلسلۂ راس کوہ میں 1000 میٹر کی گہرائی میں چاغی ون اور چاغی ٹو کے نام سے یکے بعد دیگرے 7 ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو دنیا بھر میں سربلند کر دیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے پاکستان ٹیلی ویژن پر فتح مندی کے جذبات سے سرشار لہجے میں کامیاب ایٹمی دھماکوں کا اعلان کیا تو پورا ملک نعرۂ تکبیر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ پوری قوم سڑکوں، گلیوں، چوکوں، چوراہوں پر نکل آئی اور اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہوگئی کہ اس روزاللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جس ایٹمی قوت سے نوازا ، دنیا اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔

14 اگست 1947ء کو وجود میں آنے والا ایک ناتواں ملک جو ابھی اپنے قدموں پر بہتر طریقے سے کھڑا بھی نہ ہونے پایا تھا کہ دشمن کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہوکر 16 دسمبر 1971ء کو دولخت ہوگیا، پاکستان لیلۃ القدر کو وجود میں آیا تھا اس وقت یہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت تھی لیکن 1971ء کو جب یہ اپنوں ہی کی سازشوں کا شکار ہوکر دولخت ہوا تو قوم سے اپنے آنسو سنبھالے نہ جا رہے تھے، قوم ایسے پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ جیسے حقیقی معنوں میں کوئی اپنا بچھڑ گیا ہو، قیام پاکستان کے بعد پاکستانیوں کو خوشی کا کوئی حقیقی لمحہ اگر میسر آیا تو 28 مئی 1998ء کا وہ دن تھا جب پاکستان نے اپنے ازلی دشمن بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چاغی میں ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کا نہ صرف غرور توڑا بلکہ دنیا کو یہ پر امن پیغام بھی دے دیا کہ اب پاکستان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنے لب و لہجے کو کنٹرول میں رکھا جائے، اب بات برابری کی سطح پر ہوگی، کوئی یہ نہ سمجھے کہ پاکستان کمزور ہے، پاکستان کمزور ہوتے ہوئے بھی طاقتور ہے،اور پاکستانی قوم اپنی ایٹمی قوت کا بھرپور دفاع کرنا جانتی ہے، پھر تاریخ نے یہ ثابت بھی کیا کہ پاکستانی قوم نے اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود ہر اس موقع پر متحد قوم ہونے کا ثبوت دیا جب بھی ملک کو ضرورت پڑی اور اپنی ایٹمی طاقت کی حفاظت پر معمولی کوتاہی بھی نہ برتی، آج دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ذمہ دار ملک ہے بلکہ اس کے شہری بھی ذمہ دار قوم ہے اور ضرورت پڑنے پر پاکستانی قوم متحد ہوکر دشمن کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کرسکتی ہے۔

تحریک آزادی پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ 1940ء کا دن سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ جس دن برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے منٹو پارک لاہور میں منعقدہ جلسہ عام میں ایک علیحدہ وطن پاکستان کے حصول کی جدوجہد کیلئے عملی اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور پھر 7 سال کے عرصے میں 14 اگست 1947ء کو لیلۃ القدر کو پاکستان دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی مملکت کے طور پر ابھرا۔ پاکستان کے قیام کے اول روز سے ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا تھا، پاکستان کو نہ تو اس کے حصے کے اثاثے ملے اور نہ ہی تقسیم صحیح طریقے سے ہوسکی۔ کشمیر جسے پاکستان کی شہہ رگ کہا جاتا ہے، اس پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے، 1948ء میں جب قبائلی مجاہدین مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے ہی والے تھے کہ بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ چلے گئے اور پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی ثالثی تسلیم کرے اور کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کے استصواب کے ذریعے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کو حل ہونے دے۔ لیکن 1948ء سے تاحال بھارت ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے اور وہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں استصواب رائے کرانے سے گریزاں ہے۔

جنوبی ایشیاء میں مسئلہ کشمیر وہ واحد تنازعہ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی وقت ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے کیونکہ بھارت مسلسل مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ تنازعہ کشمیر کے باعث اب تک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان براہ راست تین بار تصادم ہوچکا ہے، تاہم سرد جنگ آج بھی جاری ہے اور ابھی دور دور تک اس کا اختتام ہوتا دکھائی نہیں دیتا، کارگل کی آگ اگر نہیں پھیلی تو اس کا کریڈٹ بھی دونوں ملکوں کی جمہوری قیادت اور ایٹمی طاقت کو جاتا ہے۔

بھارت نے 11اور 13مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کئے تو اس سے پاکستان میں بے چینی اور بے یقینی کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔ ہندوستان کی ایٹمی طاقت پاکستان کی آزادی اور عزت دونوں کیلئے ایک بڑا چیلنج تھی۔ ایٹمی قوت نے بھارت کے جنگی جنون میں مبتلا حکمرانوں کا دماغ مزید خراب کر دیا اور انہوں نے پاکستان کیخلاف جارحانہ بیانات اور اقدامات کا آغاز کر دیا۔ بھارت کے حکمرانوں اور متعصب سیاستدانوں کا لب و لہجہ توہین آمیز اور تکبر سے بھرا ہوا تھا۔ تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں پاکستان سے آزاد کشمیر چھین لینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے بارے میں مغرب کا دوہرا معیار بھی عیاں ہوچکا تھا۔ پاکستان کو مسلسل دباؤ اور خطرات کا سامنا تھا۔ ایسے میں قوم کو ایک نڈر قیادت اور پاکستان کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت تھی۔ ہندوستان کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد خطے میں طاقت کا توازن بری طرح بگڑ گیا تھا۔ برصغیر پر جنگ کے خطرات منڈلا رہے تھے۔ کشمیر کی آزادی کا خواب بکھرتا ہوا دکھائے دے رہا تھا۔ یہ صورتحال میاں محمد نواز شریف اور ان کی کابینہ کیلئے ایک بڑا امتحان تھی، انہوں نے پورے تحمل اور بھرپور طاقت سے اس کا جواب دیا۔ اس آزمائش میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بجا طور پر قوم کی امیدوں پر پورا اترے۔ پاکستان کے غیور عوام گھاس کھانے اور اپنے پیٹ پر پتھر باندھنے کیلئے بھی تیار تھے لیکن انہیں کسی قیمت پر بھارت کی بالادستی قبول نہیں تھی۔ ہندوستان کے تکبر کا جواب پاکستان نے نعرۂ تکبیر سے دیا۔

ایٹمی دھماکوں سے قبل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے جہاندیدہ والد محترم میاں محمد شریف جو فہم و فراست اور استقامت کا پیکر تھے، ان سے مشاورت کرنے اور کابینہ سمیت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے بعد ایٹمی دھماکوں کا آبرو مندانہ اور جرأتمندانہ فیصلہ کیا۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان اور فرانس سمیت متعدد ممالک پاکستان پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے۔ قومی ہیرو اور پاکستان کے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہتے ہیں کہ امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کیلئے دباؤ کے ساتھ ساتھ میاں محمد نواز شریف کو مراعات کا لالچ بھی دیا حتیٰ کہ ان کے پرائیویٹ اکاؤنٹ میں 100ملین ڈالرز کی خطیر رقم جمع کروانے کی پیشکش بھی کی لیکن صدآفرین ہے میاں محمد نوازشریف پر جو عالمی بالخصوص امریکی دباؤ کے سامنے ڈٹ گئے اور پاکستان نے ہندوستان کی بالادستی کا خواب چکنا چور کرکے برصغیر میں طاقت کا توازن قائم کر دیا۔ برصغیر میں ایٹمی طاقت کی دوڑ کا آغاز انڈیا نے کیا اگر وہ ایسا نہ کرتا تو شاید پاکستان بھی اس دوڑ میں شامل نہ ہوتا۔ تاہم پاکستان کی جوہری صلاحیت خالصتاً پر امن اور دفاعی مقاصد کے لئے ہے۔پاکستان آج بھی جیو اور جینے دو کے اصول پر کار بندہے۔

یوم تکبیر اپنے نام کی طرح ایک بڑا دن ہے۔ یہ دن قومی توقیر اور ہمارے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔ یوم تکبیر ایک قومی دن ہے اور اسے قومی دن کی طرح منایا جانا چاہیے۔ زندہ دل قومیں اپنے قومی دن تجدید عہد اور جوش و خروس کے ساتھ منایا کرتی ہیں۔ یوم تکبیر کے حوالے سے پرویز مشرف کے دور میں سرکاری سطح پر تقاریب کا انعقاد نہ کیا جانا قابل افسوس ہے، تاہم اس حوالے سے ہر سال پاکستان کے محب وطن عوام نے گھر گھر قومی پرچم لہرائے اور چراغاں کرکے زندہ دل قوم ہونے کا ثبوت دیا۔ یوم تکبیر صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نہیں ہر سچے پاکستانی کا دن ہے۔ امسال بھی مسلم لیگ (ن) سمیت محب وطن جمہوری قوتوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم تکبیر منانے کا اہتمام کیا ہے۔ جاپان، برطانیہ، امریکہ، فرانس اور کینیڈا میں بھی مسلم لیگ (ن) کے پرچم تلے یوم تکبیر کی تقریبات شایان شان انداز سے منائی جائے گی۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل محمد ضیاء الحق سے میاں محمد نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور بالخصوص ایٹمی دھماکے کرنے والی وہ ٹیم جس نے چاغی میں دن رات محنت کرکے وہ سرنگ بنائی جس میں دھماکے کئے گئے سمیت وہ تمام شخصیات قابل تحسین و صد قابل احترام ہیں جنہوں نے پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی، اسے پروان چڑھایا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ جن حالات میں میاں محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا وہ ان کی وطن دوستی کا تابندہ ثبوت ہے۔ میاں محمد نواز شریف بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں اس لئے کامیاب رہے کیونکہ ان کے ساتھ عوام کی طاقت اور پارلیمنٹ کی سپورٹ تھی۔ اگر انہیں بھی جنرل پرویز مشرف کی طرح تن تنہا فیصلے کرنے کی عادت ہوتی تو وہ صدر بل کلنٹن کے ایک بار کہنے پر ہی ان کے تمام مطالبات مان کر پاکستان کی داخلی خود مختاری اور آزادی کو قربان کر دیتے جس طرح پرویز مشرف نے 9/11 کے بعد اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل کی ایک فون کال پر ان کی تمام شرائط تسلیم کرلی تھیں۔ مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت بحال اور سیاسی قیادت برسر اقتدار تھی۔ حالات و واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ صرف قومی قیادت ہی مقبول فیصلے کرسکتی ہے۔ پاکستان کے میزائل پروگرام نے بھی سیاسی اور جمہوری دور حکومت میں کامیاب تجربات کے مراحل طے کئے۔ آج اگر پاکستان اپنے دشمن ہندوستان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرسکتا ہے تو اس کا کریڈٹ بھی ہماری نڈر سیاسی قیادت کو جاتا ہے۔ الحمدللہ آج کوئی ملک پاکستان کی سالمیت کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے خطرات کا پروپیگنڈہ بے بنیاد اور دیوانے کا خواب ہے۔ جو ملک ایٹم بم بنا سکتا ہے وہ اس کی حفاظت بھی کرسکتا ہے۔ امریکہ کو خوامخواہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کے نیو کلیئر اثاثوں کو کس سے خطرہ ہے یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور منتخب حکومت بخوبی جانتی ہے۔

آج جب قوم ایک مرتبہ پھر اپنے منتخب اور مقبول وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں متحد و منظم ہے اور ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ یوم تکبیر منا رہی ہے۔ آج پاکستان 1998ء کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور معاشی طور زیادہ مستحکم ہے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جس طرح منتخب حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کیا گیا۔ قوم اس کا خمیازہ گزستہ 14'12سال میں بھگت چکی ہے ۔ اگر 1999ء میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو ختم نہ کیا جاتا تو یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ آج ملک میں اندھیروں کا راج نہ ہوتا، ملک میں لوڈشیڈنگ کا جو طوفان آیا ہوا ہے اس کے پیچھے فرد واحد کے وہ فیصلے ہیں جنہوں نے ملک کو صرف اندھیروں ہی کی نذر نہیں کیا بلکہ دہشت گردی کے عفریت کے سپرد بھی کر دیا، آج پاک فوج اور جمہوری قیادت ایک پلیٹ فارم پر متحد ہے، آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ملک بھر سے دہشت گردوں کو چن چن کر کیفرکردار تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ملک میں دہشت گردوں کے روپ میں بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اپنے مذموم مقاصد پورے کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا ، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ افراد پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کر رہے ہیں جس سے پاکستان معاشی طور پر کمزور ہو۔

پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے بالخصوص اقتصادی راہداری کے حوالے سے بھی ’’را‘‘ متحرک ہوچکی ہے اور پاکستان کے بعض سیاستدان دانستہ یا غیر دانستہ طور پر پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے جو منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں اس سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آجانی چاہیے کہ وہ کس کی زبان بول رہے ہیں، اس سے قبل کالاباغ ڈیم کا منصوبہ بھی اسی طرح متنازعہ بنایا گیا۔ لہٰذا پاک فوج اور قومی قیادت کو چاہیے کہ ’’یوم تکبیر‘‘ کے موقع پر دشمن کی چالبازیوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھے، آج ایک مرتبہ پھر قوم کو 28 مئی 1998ء والے جذبے اور ولولے کی ضرورت ہے، قوم کو متحد ہوکر دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے ہیں، پاک چین اقتصادی منصوبوں کا بروقت پایہ تکمیل تک پہنچنا ازحد ضروری ہے کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے بڑا دھماکہ ثابت ہوگا۔ قوم کو متحد ہوکر میاں محمد نوازشریف کی حکومت اور ہاتھ مضبوط کرنے ہیں۔ پاکستان کی بقاء، ترقی اور خوشحالی میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور انشاء اللہ یہ منصوبہ ضرور کامیاب ہوگا۔

***

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...