یوم تکبیر

یوم تکبیر

ناصر بشیر

اپنی تاریخ کے سارے دِنوں میں سب سے اچھا دن

نہ بھولے گا یہ چاغی کے پہاڑوں سے نکلتا دِن

صدائے نعرۂ تکبیر گونجی تھی بیاباں میں

خدا کی کبریائی کا ہُوا اعلان سارا دِن

جھلک دکھلا رہا تھا ذرے ذرے میں نیا سورج

فلک کی آنکھ نے دیکھا نہیں ایسا چمکتا دِن

ہماری جرأتِ رندانہ پر حیران تھا عالم

اِسی جرأت سے روشن ہے ہماری شب، ہمارا دِن

کیلنڈر کے ہر اک صفحے کی ہر تاریح روتی ہے

کسی کی مہربانی سے مگر اک مسکرایا دِن

نشانِ سرخ روئی ہے، مقامِ سرفرازی ہے

مَیں نازاں ہوں کہ میری زندگی میں پھر یہ آیا دِن

مزید : ایڈیشن 1