تھالی کے بینگن

تھالی کے بینگن
تھالی کے بینگن

  

گھونسلہ بنانے کا تصور پرندوں کو تو وجدان نے ودیعت کیا تھا ،البتہ انسان نے اپنے لئے گھر بنانے کا تخیل ادھر سے ہی مستعا ر لیا ۔کہا جاتا ہے کہ روئے زمین پر سب سے پہلے سماج بن مانس کے جتھے نے تشکیل دیا تھا کہ پھر یہیں سے حضرتِ انسان نے ساتھ رہنا سیکھا۔ شکار کا طریقہ درندوں سے اور گنگنانا کوئل سے ہی آدم کے بیٹے نے پایا ۔سو سوالوں کا ایک سوال کہ ڈوبتی ناؤ سے جان بچانے کے لئے کود جانا،ابن الوقتی،زمانہ شناسی یا قدرے مثبت الفاظ میں عملیت پسندی کے اوصاف انسان نے کہاں سے پائے ؟مخبر صادق تو یہی کہا کئے کہ یہ صفات انسان نے یقیناتھالی کے بینگن سے سیکھی ہوں گی ۔تھالی کے بینگن اور معتبر مخبر کو کیا خبر کہ تا ایں دم یہ فن پاک سر زمین پر با کمال و تمام پہنچا چاہتا ہے ۔

ثقہ فقہی اصول کہ کوئی حرام فعل حلال کو فاسد نہیں کرتا ۔۔۔لمحہ بھر کو علیحدہ دھریئے اور یہ بھی بھول بسر جایئے کہ بول کے بجرے سے برخاست ہونے والے صحافتی جگے فقہی موشگافیوں سے شناسا نہ تھے ۔۔۔لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ بول کے باغِ رضواں میں اٹکھلیاں کرتی بادِ بہاری ان کے بدون دم توڑ دے؟اداروں کو دوام ہوتا ہے نہ کہ افراد کو اور ہاں یہ بھی بجا کہ افراد ہی اداروں کی نیو اٹھاتے اور انہیں کمال و اقبال سے سرفراز کیا کئے ۔افراد کی پشت پر اگر اداروں کی طاقت و بسالت نہ ہو تو بڑے سے بڑا فرد اور اپنے تئیں خلوت میں انجمن ہونے والا بڑے سے بڑا مہان بھی کس کا م کا ؟بول کی بسم اللہ سے قبل ہی اس کے بانی مبانی اگر بھونچال کے مقابل کھڑے نہ رہ سکے ،اگر بندوبستِ استمراری سے پہلے ہی بدحواسی میں بوجھل دل کے ساتھ انہوں نے بساط پلٹ دی تو یہ کوئی اچھی مثال نہیں بابا!مقصود و مطلوب ’’بول‘‘ کی طرفداری و جانبداری نہیں کہ اگر یہ ریت اور رسم چل نکلی تو میڈیا کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگانا خاصا آسان ہو جائے گا۔بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ سہانے سمے صبح کی تازگی اور شام کی تیرگی کا حظ اٹھانے والوں کوکٹھن اور کڑے سماں کی دھوپ میں بھی دباؤ کا سامنا کرنا چاہئے تھا ۔یہ نہیں کہ ادارے نے جن افراد کو سر چڑھایا تھا ،وہ اس کی خاطر سولی چڑھ جاتے ،یہ بھی نہیں کہ ادارے نے جن افراد پر گل پاشی کی وہ اس کے لئے مخالفوں پر الزام تراشی کرتے۔ کم از کم الزامات ثابت ہونے تک تو ادھر ہی رہا کئے کہ اخلاقی طور پر تو یہی حق ان پر فائق تھا ۔یہ کیا کہ:

اتنے ہی جری تھے حریفان آفتاب

تھوڑی سی دھوپ چمکی تو سائے میں آ گئے 

جعلی ڈگریوں کے سمندر میں قانونی پیچیدگیوں اور آئینی گتھیوں کا بھی پُر اسرار جزیرہ ہوتا ہے ،جس سے صداقت اور ثبوت تلاش کرتے کرتے اک عرصہ بیتا کئے۔ سائبر سپیس میں کاغذی تعلیمی ادارے بنانا اور جعلی ڈگریاں دھڑا دھڑ بیچنا آسان اور اس فراڈ کو پکڑ کر عدالت کی حقیقی دنیا میں ٹھوس شواہد سے ثابت کرنا یا اس کا خاتمہ کرنا خاصا مشکل ہے ۔دنیا بھر میں ہر سال 10لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت ہوتی ہیں اور یہ کالا اور پاپی دھنداسالانہ ایک ارب ڈالر سے بھی بڑا کا روبار ٹھہرا۔ کہا جاتا ہے کہ جعلی تعلیمی اداروں اور دو نمبر ڈگریوں سے نمٹنے کے لئے تو ترقی یا فتہ ممالک میں بھی کوئی خاص قوانین نہیں کہ ہوتے تو کم ازکم ایسے جرائم میں کمی ممکن تھی۔ عجلت اور عافیت سے مستعفی ہونے والے صحافی کیا ان حقائق سے نا آگاہ تھے؟اڑتی چڑیا کے پر گن لینے ،دیوار کے اس پار دیکھنے اور ربع صدی تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے کے دعویداروں نے ثابت تو یہی کیا ہے کہ وہ اپنی ناک سے بھی آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں پاتے۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا نہ کہ ’’ایگزیکٹ‘‘مجرم ثابت ہوتی اور عدالت سے فیصلہ صادر ہو جاتا اور بس۔گو مالک ایک ہے ،لیکن ادارے تو الگ الگ تھے اور ہر ادارے کی جزا وسزا اپنی اپنی ہوتی ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ایک کا جرم دوسرے کے کمزور کندھوں پر ڈال دیا جائے ؟

حتمی تجزیے میں مستعفی ہونے والوں نے رات بھر سوت کاتا اور صبح کاذب میں ہی اپنے ہاتھوں سے اسے الجھا ڈالا۔سفید بالوں والے نادانوں نے چھوٹے عامل صحافی کارکنان کا مستقبل ہی تارتار نہیں کیا ۔۔۔ایک ایسے ادارے کا بھی گلہ گھونٹنے کی سعی نا محمود کی جو شاید آنے والے ایام میں بہتوں کے لئے شجر سایہ دار بن سکتا تھا۔ شعیب شیخ نامی پُر اسرار بشر دنیا میں سب سے بڑا مجرم ہو سکتا ہے ،لیکن اس پر جتنے بھی الزامات دھرے گئے ،وہ لمحہ موجود تک محض الزام ہی ہیں کہ جن کی صداقت ثابت ہونا ابھی باقی ہے ۔ٹائی ٹینک کی تیا ری میں بھلے سے سامان دو نمبر صرف ہوا ہو ،اس کے معمار بے شک جیل کاٹ چکے ہوں اور اس کی سچائی کی پائیداری پر بلا شبہ انگلیاں ہی کیوں نہ اٹھ رہی ہوں ۔۔۔اس کا ڈوب کر شکست و ریخت کا شکار ہو جانا بھی کسی المیہ سے کم کہاں!اور المیہ بھی ایسا جو اس کے ناقص و ناتمام ملاحوں کے ہاتھوں ظہور پذیر ہو اہو ۔

مزید : کالم