خبروں کے پیچھے۔۔۔!

خبروں کے پیچھے۔۔۔!
خبروں کے پیچھے۔۔۔!

  

گزشتہ دس، پندرہ روز سے تین، چار خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں، جن پر گفتگو بھی ہو رہی ہے اور بحث بھی، جبکہ ان خبروں میں نت نئے زاویے نکالے اور تلاش کئے جا رہے ہیں۔ اس گفتگو یا بحث میں ہر مکتبۂ فکر کے لوگ شامل ہیں، جن میں سیاسی شخصیات بھی ہیں،اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی، صحافی بھی اور سول سوسائٹی کے لوگ بھی۔ بدقسمتی سے ہم جن موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں، وہ غالباً لاحاصل اس لئے رہتی ہے کہ کبھی ہم نے ان کا کوئی حل نہیں ڈھونڈا، یعنی ان میں جو پوشیدہ مسئلے یا مسائل ہوتے ہیں، وہ ہماری گفتگو کا موضوع اور حاصل تو رہتے ہیں، لیکن اس بارے میں کبھی غور نہیں کرتے کہ آخر ان میں چھپے مسائل کا حل کیونکر اور کیسے ممکن ہے؟

جن خبروں نے گزشتہ دس، پندرہ ر وز میں سر اُٹھایا، اُن میں سے ایک خبر ایگزیکٹ کمپنی سے متعلق تھی۔ دوسری خبر ذوالفقار مرزا کے حوالے سے آتی رہی جو سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے شوہر اور سابق وزیر داخلہ سندھ ہیں۔ جوڈیشل کمیشن بھی گاہے بہ گاہے خبروں میں رہا۔ یہ وہی جوڈیشل کمیشن ہے جو مبینہ انتخابی دھاندلی کی انکوائری کر رہا ہے اور جس کو تشکیل پائے 45روز سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ واضح رہے کہ یہ جوڈیشل کمیشن45 روز کے لئے تشکیل پایا تھا۔ صدارتی آرڈیننس کے مطابق یہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہو چکی ہے، مگر یہ کہا جا رہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کو، جو اعلیٰ اختیاراتی کمیشن ہے، اپنے قیام کی مدت بڑھانے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ ایک اور خبر جو بڑی دلچسپی سے سنی گئی، وہ پی ٹی آئی سے متعلق تھی، جس کے سربراہ عمران خان نے بنی گالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے اپنے ہی نامزد کردہ، الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کی بات کی۔ اس ٹریبونل کے سربراہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین تھے جو عمران خان کے ہی نامزہ کردہ تھے۔

جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سے رپورٹ جیسے ہی منظر عام پر آئی اور میڈیا کی زینت بنی تو عمران خان اس رپورٹ پر سخت برہم ہی نہیں، بہت زیادہ ناراض بھی ہوئے اور غصے کی حالت میں نہ صرف یہ الیکشن ٹریبونل توڑ دیا، بلکہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹریبونل کے مزید اجلاس بلانے سے بھی روک دیا۔ عمران خان کا یہ فیصلہ جیسے ہی سامنے آیا، اُن پر شدید تنقید ہونے لگی۔ خود اُن کی پارٹی میں اُن کو ہدفِ تنقید بنایا جانے لگا۔ غیر جانبدار مبصر بھی عمران خان کی ذات کو نشانہ بنانے لگے۔ مخالفین کے ہاتھ جیسے کوئی اہم کام لگ گیا۔ انہوں نے بھی عمران خان کے فیصلے پر تنقید اور الزامات کے وہ نشتر چلائے کہ بالآخر عمران خان کو بھی سمجھ آ گئی کہ اُن کا فیصلہ غلط تھا۔ انہیں جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی سربراہی میں قائم ہونے والا ٹریبونل نہیں توڑنا چاہئے تھا۔ یہاں ایک بات پھر درست ثابت ہوئی کہ عمران خان کو ’’یوٹرن‘‘ لینے کی پرانی عادت ہے اور کہتے ہیں عادتیں کبھی تبدیل نہیں ہوتیں۔ اس لئے اس پر مزید کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔

رہی سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کی بات، تو آج کل وہ خاصے اشتعال میں ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر پی پی پی رہنماؤں کے خلاف جس قسم کے تند و تیز بیانات دے رہے ہیں اور جس طرح کے سنگین الزامات لگا رہے ہیں، اُس نے پیپلز پارٹی ہی نہیں، دیگر سیاسی حلقوں میں بھی طوفان کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے ذوالفقار مرزا کے خلاف اب تک چھ سے زیادہ مقدمات درج کرائے جا چکے ہیں، جن میں دہشت گردی کی سنگین دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ سندھ پولیس کی جانب سے ذوالفقار مرزا کو گرفتار کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن مرزا صاحب سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے حفاظتی ضمانت پر ہیں، اس لئے سندھ پولیس ابھی تک اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، البتہ مرزا صاحب کے کچھ ساتھیوں کو ضرور زیر حراست لے لیا ہے اور باقاعدہ گرفتاری بھی ڈال دی ہے۔لگتا ہے ذوالفقار مرزا اور آصف علی زرداری کے مابین چلنے والا یہ معاملہ اب دبنے والا نہیں، جوں جوں دن گزریں گے، اسے اور ہَوا ملے گی۔ذوالفقار مرزا یہ خدشہ بھی ظاہر کر چکے ہیں کہ پولیس کے ہاتھوں مروایا جا سکتا ہے۔

ایگزیکٹ کمپنی کا معاملہ بھی مسلسل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کی خبر کے بعد ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف ایف آئی اے یا حکومت کی جانب سے جو ایکشن شروع ہوا ہے، اُس میں اب بہت تیزی آ گئی ہے، جس نے ایگزیکٹ کے دوسرے پراجیکٹ ’’بول‘‘ کو بھی متاثر کیا ہے اور ’’بول‘‘ کے اہم لوگ جعلی ڈگری سکینڈل کے بعد اسے چھوڑ گئے ہیں، جس سے اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے اور اس کا آن ایئر ہونا بھی مشکوک ہو گیا ہے۔

مزید : کالم