کچھ شکایات ہمارے ایک دوست کی

کچھ شکایات ہمارے ایک دوست کی
کچھ شکایات ہمارے ایک دوست کی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیارے دوستو سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے ، دوستو ہم بھی اچھے ہی ہیں لیکن ہمارے ایک دوست جن کا ، کراچی سے تعلق ہے کے مزاج گرامی بخیر نہیں لگتے ، مجتبیٰ رفیق ہمارے ایسے دوست ہین جن کا ہمارے ساتھ فیس بک پر رابطہ رہتا ہے۔اور زیادہ تر وہ ہمیں اپنا دکھڑا سناتے ہی نظر آتے ہیں۔ ہمارے دوست مجتبیٰ رفیق کو شکوہ ہے کہ وہ بے روزگار ہیں، بے روزگاری ہمارے ملک کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کو پیان کرنا خاصا مشکل کام ہے ۔ ہمارے دوست مجتبیٰ رفیق کا شمار بھی پاکستان کے ایسے باہمت باصلاحیت ، ، نڈر نوجوانوں میں کیا جا سکتا ہے جن میں ملک کے لئے اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ ہو تا ہے،، اور اگر یہ کہا جائے کہ ایسے نوجوان جو ہمہ وقت اپنی جان ہتھیلی پہ لے کر چلتے ہیں تو بھی غلط نہ ہو گا ۔

یہ بھی بتلا دیتے ہیں کہ ہمارے نوجوان دوست کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جب پاکستان نے اٹھائیس مئی کو چاغی کے مقام پر دھماکے کئے تو اس وقت یوم تکبیر کا نام بھی ہمارے دوست مجتبٰی رفیق نے ہی تجویز کیا تھا۔اور اسی لئے اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے جناب مجتبیٰ رفیق کو انکی خدادا صلاحیتوں اور قوم کی خدمت کرنے اور یوم تکبیر کا نام تجویز کر نے کے لئے خصوصی تعریفی اسنا د بھی دیں اور اور نقد انعام کا بھی وعدہ کیا گیااور نہ صرف یہ بلکہ سرکاری طور سے انھیں نوکری دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔لیکن تاحال آج تک حکومتی سطح پر کیا گیا وعدہ بھی پو را نہ ہو سکا ۔ مجتبیٰ رفیق کو شکوہ ہے کہ آج تک انھیں نہ ہی تو سرکاری نوکر ی ملی اور نہ ہی وہ نقد رقم انعام میں ملی جس کا اعلان کیا گیا۔

ہمارے دوست ہم سے اکثر کہتے ہیں کہ ہماری جناب وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کرواد یں ، تاکہ میں انہیں انکا وعدہ یاد دلواؤں۔اور کچھ دن پہلے تو انھوں نے ایک اور فرمائش کر دی کہ جی اب اٹھائیس مئی کو یوم تکبیر کی تقریب ہو رہی ہے جسکے لئے انھیں دعوت نہیں ملی ، اور ہمیں بھی حیرانی ہو ئی کہ یوم تکبیر کا نام تجویز کر نے والے کو یوم تکبیر کی تقریب کے لئے مدعو ہی نہیں کیا گیا ۔ یوم تکبیر بھی آپ کو پتہ ہے کہ کتنا بڑا خوشی کا موقع تھا پاکستانیوں کے لئے ،، جس دن حکومت پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو ایک انوکھا پیغام بھی دے دیا بلکہ طاقت کا مظاہرہ کر کے بھی دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان بھی کسی سے کم نہیں ۔

اٹھائیس مئی بھی آنے والی ہے اور اسی مناسبت سے یوم تکبیر کی تقریبات بھر پور طریقے سے کرنے کے لئے تیاریاں بھی شروع ہیں ، لیکن کتنے دکھ کی بات ہے کہ یوم تکبیر کی تقریبات کے موقع پر ہمارے ایک ایسے نوجوا ن دوست کو ناراض کیا جا رہا ہے کہ ہم کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔لیکن یہ ضرور کر سکتے تھے کہ اپنے پیارے دوست کی آواز اعلیٰ حکام تک اور وزیر اعظم پاکستان تک پہنچائیں جو ہم نے پہنچا دی اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری بات سن کر اعلیٰ حکام کا دل ضرور نرم پڑے گا اور ہمارے پیارے دوست مجتبیٰ رفیق کو نوکری بھی ضرور ملے گی اور اور وہ انعامی رقم بھی انکو ملے گی اور انہیں یوم تکبیر کی تقریب میں بطور مہمان سرکاری طور سے بلوایا جائے گا۔

مزید : کالم