بات کرنی مشکل مجھے۔۔۔!

بات کرنی مشکل مجھے۔۔۔!
بات کرنی مشکل مجھے۔۔۔!

  

عجیب گو مگو کی کیفیت ہے، جو دل کہتا ہے اسے ضبط تحریر میں لانا مشکل ہے اور جو دماغ کہہ رہا ہے اسے بھی سو فیصد صحیح نہیں مانا جا سکتا، یہی کشمکش ہے کہ لکھنے میں تاخیر ہو رہی ہے، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، ہمیشہ ایک سے زیادہ موضوعات سامنے ہوتے ہیں اور صرف یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کس پر بات کی جائے اور یہ فیصلہ جلد ہی ہوجاتا ہے، لیکن آج جس بارے میں لکھنے کو جی چاہتا ہے اُسے ضبط تحریر میں لانے کے لئے وقت درکار ہے اور پھر یہ بھی تو سوچنا ہے کہ کیا اس کیفیت میں اس موضوع سے انصاف ہو سکے گا یا پھر خوف کی حالت برقرار رہے گی۔

ڈسکہ میں ہونے والی افسوس ناک خونی واردات سیدھے سادے پرائے میں پولیس کی زیادتی ہے اور متعلقہ ایس ایچ او گرفتار بھی ہو گیا، لیکن حالات و واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ معاملہ اتنا بھی سیدھا سادا نہیں، جتنا اسے بنا دیا گیا ہے، فائرنگ تک نوبت پہنچنے میں کئی مراحل ہیں، اس سے قبل ٹاؤن کے کلرک کی پٹائی، ملازمین اور سائلین کا جھگڑا اور پھر پولیس کی آمد، توتکار، دھکے اور فائرنگ نتیجہ دو وکیل صاحبان جان سے گئے اور بعض زخمی بھی ہوئے، پھر سب تتر بتر ہو گئے لیکن۔۔۔ اس کے بعد جو ہوا اسے کس کھاتے میں ڈالیں، قانون نافذ کرنے والوں نے تو جو کیا سو کیا، احتجاج کرنے والوں نے کون سا رُخ دکھایا، الیکٹرونک میڈیا کی فوٹیج سب کچھ دکھا رہی ہے کہ کس طرح گاڑی توڑی گئی، جلائی گئی، مکانات کو آگ لگی اور مکین جان بچا کر بھاگے۔ پھر یہ بھی دکھایا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے ’’تشریف لایئے‘‘ والے دروازہ کی تشریف کیسے صاف کی گئی اور اسے نذرِ آتش کیا گیا اور اندر جا کر کھڑکیوں کو پتھر مارے گئے۔

بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنوں کی کال پر لبیک کہا گیا، مُلک بھر کے وکلا نے کام بند کر دیا، ہڑتال کی اور کسی مقدمہ میں پیش نہیں ہوئے، سائلین دور دراز سے آ کر پریشان ہوئے۔ اب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سوگ دو روز آگے بڑھا دیا، جی پی او چوک میں کیمپ لگا لیا جو ’’مجرموں‘‘ کی سزاؤں پر عمل درآمد کے حوالے سے ہے اور مطالبہ کیا کہ ’’مجرموں‘‘ کی سزا تک کیمپ جاری رہے گا اور قتل کی سزا کا کسے علم نہیں۔

کسی فریق کی حمایت اور کسی کی مخالفت کئے بغیر یہ تو یاد دلایا جا سکتا ہے کہ وکلا کی ہڑتال سے سائلین کو پریشانی ہوتی ہے کہ وہ دور دراز سے آ کر خوار ہوتے ہیں اور بعض کیس طویل ہو جاتے ہیں اور یہاں تو معاملہ ایک تھانیدار، ان کے ساتھیوں اور وکلا کے درمیان ہے۔ حالات کا ایک احتیاطی جائزہ تو یہ ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر عدالت عالیہ سے پولیس کو ہٹا لیا گیا اور اس کی جگہ حفاظتی انتظامات رینجرز نے سنبھال لئے ہیں، لیکن یہ کب تک اندازہ نہیں!

اس معاملے میں فریقین کی پوزیشن سے ایک اندازہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ملزم تھانیدار کو اپنی وکالت بھی خود ہی کرنا پڑے گی، اس کا محکمہ اس کے لئے کچھ نہ کر سکے گا اور اسے کوئی وکیل میسر نہیں ہو گا کہ کراچی سے خیبر تک سب احتجاج پر ہیں، حالانکہ یہ ہر ملزم کا حق ہے کہ اسے پیروی کے لئے وکیل میسر آئے۔ یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ پرانے دور میں ایسا ہو چکا ہے۔

یہ ایوبی دور کی بات ہے کہ ایک بیرسٹر کی جرمن اہلیہ کے ساتھ زیادتی ہو گئی، واقعہ طشت ازبام ہوا، ملزم قیصر مواز کے والد بریگیڈیئر(ر) مواز تھے، جبکہ ساتھی ملزم فوزی علی کاظمی بھی کھاتے پیتے گھرانے کا تھا، جسے محترم احمد سعید کرمانی نے عدالت کے سامنے پیش کیا اور یہیں سے اس وقت کے پرنٹ میڈیا کو خبر ملی اور ہم اس کی رپورٹنگ میں شریک ہوئے۔بار روم نے فیصلہ کیا کہ ان کے ساتھی بیرسٹر کی اہلیہ کے ساتھ زیادتی ہوئی، ملزم کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ مدعیہ کے شوہر بیرسٹر داؤد ہمارے ساتھی ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے سینئر ادارتی رکن محمد ادریس(مرحوم) کے بھائی بھی تھے۔ ملزم کو وکیل نہ ملا، ہمیں یاد ہے کہ بریگیڈیئر صاحب گجرات کے ایک سینئر وکیل شیخ تاج کو مشکل سے منا کر لائے اور انہوں نے پیروی کی تھی۔

ہماری صرف اتنی گزارش ہے کہ قانون نافذ کرنے اور قانون کے رکھوالوں کو اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے کہ جہاں ایک کے حق کی حد ختم ہو، دوسرے کا حق شروع ہو جاتا ہے۔ واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور غیر متعصبانہ تفتیش اور تحقیق ضروری ہے، اصل حقائق کے مطابق ہی سب کچھ ہونا چاہئے۔ امن بھی ضروری۔ یہ جلاؤ گھیراؤ، ہماری سیاست نہیں۔

مزید : کالم