مصنوعی مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے

مصنوعی مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے
مصنوعی مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے

رمضان المبارک کے مہینے میں عوام کو تھوڑی سی سہولت دینے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت نے رمضان پیکیج متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت تو اس مرتبہ یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے دالیں، چینی وغیرہ پر پانچ روپے کلو گرام کی رعایت دینے کے لئے ڈیڑھ ارب روپے زراعانت فراہم کرے گی۔ گزشتہ سال حکومت نے اس نیک کام کے لئے دو ارب روپے رکھے تھے، لیکن اس مرتبہ محاصل کا ٹارگٹ پورا نہ ہونے کی وجہ سے زرِاعانت میں کمی کی گئی ہے۔پہلے فیصلہ کیا گیا تھا کہ چینی فی کلو تین روپے سستی کی جائے گی، لیکن پھر اس فیصلہ پر نظرثانی کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کا اعلان کیا گیا اور رمصان المبارک میں چینی یوٹیلٹی سٹورز پر پانچ روپے فی کلو بازار سے سستی دستیاب ہو گی۔ پنجاب حکومت کا پیکیج ہر لحاظ سے وفاقی حکومت سے بہتر ہے اور خصوصاً آٹے پر معقول سبسڈی دی گئی ہے، لیکن وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت اگر چاہیں تو اپنے اداروں کی قانونی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر اتنی بڑی رقم خرچ کئے بغیر ہی سستی مصنوعات فراہم کرنے کا بندوبست کر سکتی ہیں، مثلاً چینی تو پاکستان میں پیدا ہوتی ہے۔ گزشتہ حکومت میں جب اس کی قیمت چوبیس روپے کلو سے اٹھائیس روپے کلو ہوئی تو میڈیا نے ایک شور مچا دیا، بالکل اسی طرح جس طرح آج کل سستے بازاروں، یعنی اتوار بازاروں پر عوام کو ملنے والی رعائتوں کے بارے میں منفی رپورٹنگ کی جاتی ہے۔ چینل انٹرویو کرتے ہیں کہ اتوار بازاروں میں معیاری اشیاء دستیاب نہیں، سبزی اور پھلوں کی قیمتیں خریداروں کی قوتِ خرید سے باہر نکل گئیں، جبکہ دلچسپ بات ہے کہ وہ جس شخص کا انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں، اس کے ہاتھ میں تین چار تھیلے ہوتے ہیں، جن میں کھانے پینے کی وہ اشیاء ہوتی ہیں جو اس نے اتوار بازاروں سے خریدی ہوتی ہیں۔ کوئی چینل یا اس کا رپورٹر یہ سوال نہیں کرتا کہ اگر اتوار بازار میں غیر معیاری اشیائے خوردونوش مل رہی ہیں تو پھر آپ نے یہاں سے اتنی ڈھیر ساری خریداری کیوں کی ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے اس سال بھی نیکیاں کمانے کے لئے حکم دیا ہے کہ محمدی دستر خوان بچھائے جائیں، جہاں روزے داروں کی افطاری کا تسلی بخش انتظام ہو۔ ساتھ ہی رمضان بازاروں کے اہتمام کا حکم بھی جاری کیا ہے، لیکن ان سب کے باوجود ذخیرہ اندوزوں نے آپس میں ایکا کرکے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس سال بھی رمضان کا ثواب تو روزے داروں کو حاصل کرنے دیں گے، لیکن بینک بیلنس اپنا بڑھائیں گے۔ یہاں پر اگر پنجاب حکومت بروقت اقدام کرے تو عوام کو مصنوعی مہنگائی سے نجات مل سکتی ہے۔ بدقسمتی سے صوبائی حکومت میں اصولاً ہر شہر میں ایسی کمیٹیاں ہونی چاہئیں جو مارکیٹوں پر مسلسل نظر رکھیں اور بروقت اقدام اٹھا کر عوام کو ذخیرہ اندوزوں کے لالچ سے محفوظ رکھیں، لیکن یہ صرف بدقسمتی ہے کہ ایسی کمیٹیاں اول تو موجود ہی نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ صارفین کی بجائے اپنے مفاد کو سامنے رکھتی ہیں۔

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ راوی دریاکے قریب لاہور کی بہت بڑی فروٹ اور ویجیٹیبل مارکیٹ ہے، وہاں سے روزانہ ایک نرخنامہ جاری ہوتا ہے، جس میں روزانہ سبزیوں اور پھلوں بشمول پولٹری کے روزانہ ریٹس درج ہوتے ہیں۔ اس نرخنامہ کو آج تک وزیراعلیٰ کی معائنہ ٹیم سمیت کسی نے بھی دیکھنا پسند نہیں کیا ہے کہ دیسی لیموں سبزی منڈی میں تو دوسو پچاس روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں، لیکن پرچون کا ریٹ ایک سو ساٹھ روپے کر دیا جاتا ہے۔ سبزیاں اور پھل فروخت کرنے والے بھی اس اناملی کے عادی ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس نرخنامہ کا حقیقی مقصد صرف اتنا ہے کہ تمام پھل اور سبزیاں بشمول پولٹری فروخت کرنے والوں سے اوسطاً تین سو روپے بٹورے جا سکیں۔ ڈی سی او لاہور بہت اچھے انسان ہیں، فوڈ اتھارٹی لوگوں کو بے روزگار کرنے میں مصروف ہے، لیکن وہ کبھی سبزی اور فروٹ منڈی جانا پسند نہیں کرتے، تاکہ دیکھیں کہ وہاں پر گندگی کس لیول پر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر مستقبل قریب میں بارش ہوگئی تو اس گندگی کی بہتات کی وجہ سے لاہور میں ہیضہ سمیت کوئی وبا بھی پھوٹ سکتی ہے ، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ سے بھی پوچھا جائے کہ وہ سبزی اور فروٹ منڈی میں اپنے فرائض انجام دینے سے کیوں کترا رہی ہے یا پھر کہیں یہ وجہ تو نہیں ہے کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ خاکروبوں اور دوسرے عملے کی تنخواہیں جان بوجھ کر بروقت ادا نہیں کرتی اور اس وجہ سے خاکروبوں اور صفائی عملہ کا دل صفائی کرنے کو نہ چاہتا ہو۔

رمضان المبارک میں مشروبات کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ مشروبات بنانے والی کمپنیاں نو روپے کی بوتل بیس روپے پر لے گئی ہیں، لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔ آخر کیا جواز ہے کہ نو روپے کی بوتل بیس روپے میں فروخت ہو۔ اس طرح دوسرے مشروبات کی قیمتوں کا جائزہ بھی لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ ان کی قیمتوں میں اضافہ کا بھی کسی حکومتی ادارے نے کبھی نوٹس لینا پسند نہیں کیا،جس کی وجہ سے تمام مصنوعات فروخت کرنے والے آپس میں ایکا کرکے مصنوعی مہنگائی کے ذریعہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں، لیکن ستم ظریفی ہے کہ صارفین کی انجمنوں کا وجود بھی نہیں ہے، اس لئے وہ ناقص مشروبات کی منہ مانگی قیمتیں دے رہے ہیں۔ اگر فوڈ اتھارٹی مشروبات بنانے والی کمپنیوں پر چھاپہ مارے تو حیران رہ جائے کہ جتنے خام مال سے دس ہزار بوتلیں بھرنی چاہئیں، اتنے خام مال سے ایک لاکھ بوتلیں تیار کی جا رہی ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد مہنگائی کنٹرول کرنے کی قانونی طاقت صوبوں کے پاس ہیں، اگر صوبے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کریں تو چینی سے لے کر مشروبات کی قیمتیں آٹھ روپے تک کم ہو سکتی ہیں اور اربوں روپیہ بھی بچ سکتا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...