ڈاکٹر عبدالقدیر کے فرمودات !

ڈاکٹر عبدالقدیر کے فرمودات !

ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو اور انتہائی محترم شخصیت ہیں۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ ان کے اسی ’’جرم‘‘ کی وجہ سے امریکہ کے دباؤ پر پرویزمشرف نے ان پر عرصۂ حیات تنگ کردیاتھا۔ ان کے اس دور آزمایش میں بہت سی قومی شخصیات نے ان سے اظہار یکجہتی کیا۔ اس ضمن میں اس وقت کے امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب قاضی حسین احمد ؒ کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ ڈاکٹر صاحب پر پرویزی دور ختم ہونے کے بعد آہستہ آہستہ پابندیاں نرم ہوئیں اور الحمدللہ انھوں نے اپنی قومی سرگرمیوں کا آغاز 2012-13ء میں کردیا۔ انھوں نے اپنی سیاسی پارٹی بھی تحریک تحفظ پاکستان (T.T.P) بنائی اور مئی 2013کے انتخاب میں حصہ بھی لیا، مگر اسے انتخاب میں کامیابی نہ ملی۔

ڈاکٹر صاحب نے پچھلے دنوں فیصل آباد میں چیمبرآف کامرس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بعض اہم باتیں ارشاد فرمائیں۔ ان کی باتوں سے اتفاق بھی کیا جاسکتا ہے اور اختلاف بھی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ لاہور سے نکلنے والے اردو کے ایک قومی اخبار نے اپنے نمایندے کی وساطت سے شائع کیا، اس کے مطابق آپ نے فرمایا: ’’جماعت اسلامی کو اسلام سے زیادہ اسلام آباد عزیز ہے۔ ‘‘ اس کے ساتھ انھوں نے فرمایا: ’’دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے بعد پاکستان کی معاشی ترقی ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں توانائی بحران کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ 1971ء کے بعد جب پاکستان دولخت ہوا تو ان خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا کہ خدانخواستہ باقی پاکستان بھی بہت جلد ٹوٹ جائے گا، مگر ایٹمی قوت حاصل کرلینے کے بعد اب کوئی بھی شخض پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ انھوں نے فرمایا یہ ایٹمی پاکستان کا قصہ پرانا ہوچکا، اب پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے توانائی بحران کا خاتمہ ضروری ہے۔ بدقسمتی سے قومی خزانہ بجلی کے منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے 70ارب روپے کے میٹرو بس جیسے منصوبے کی عیاشی کی جارہی ہے۔ شہباز شریف لوڈشیڈنگ کے خلاف مینارِ پاکستان پر احتجاج کرتے تھے، مگر ان کے دورمیں آٹھ آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ ‘‘

ہم پہلے تو پہلے حصے پر مختصر سی بات بصد ادب عرض کریں گے۔ پھر ان کے خطاب کے مرکزی مضمون پر چند گزارشات نذرقارئین کرنے کی جسارت کریں گے۔ جہاں تک ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمان ہے کہ ’’جماعت اسلامی کو اسلام سے زیادہ اسلام آباد عزیز ہے۔ ‘‘ تو عرض ہے کہ بلاشبہ ہمیں اسلام آباد کو اسلام سے آباد کرنا ہے کیونکہ اس کے بغیر اس دھرتی پر اسلامی نظام نہیں آسکتا۔ ہمیں اپنی ذات کے لیے اسلام آباد عزیز نہیں۔ اللہ کے دین کے غلبے کے لئے ہم وہاں پہنچنا چاہتے ہیں۔ ہمارے یہ نظریات اس وقت ڈھکے چھپے نہیں تھے، جب 2013ء کے آغاز میں محترم ڈاکٹر صاحب نے اپنی سیاسی پارٹی تحریک تحفظ پاکستان بنائی تھی۔ اس وقت وہ ہمارے ساتھ ہم نوا اور ہم قدم تھے۔ ہمارے اور ان کے مشترکہ جلسے ہوئے جن سے ڈاکٹر صاحب اور امیر جماعت سید منورحسن صاحب نے اکٹھے خطاب کیا۔ ڈاکٹر صاحب بددل اور مایوس ہوگئے جبکہ جماعت اسلامی اس کام کو ایک مشن کے طور پر کررہی ہے۔ سیدمودودیؒ کے بقول ہم ان شاء اللہ اندھیروں میں چراغ جلاتے جلاتے مرجائیں گے، مگر حق کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

ڈاکٹر صاحب کے خطاب کا دوسرا حصہ جہاں انھوں نے انرجی بحران کا تذکرہ فرمایا ہے وہ بالکل بجا اور بروقت ہے۔ میٹروبس کی افادیت سے انکار نہیں، مگر اس سے آبادی کے ایک مختصر حصے کو سہولت حاصل ہوئی ہے۔ اگر اس کے مقابلے میں پنجاب حکومت اور مرکز بجلی کی پیداوار بڑھانے بالخصوص ہائیڈروپراجیکٹس پر سنجیدگی سے کام کرنے کی منصوبہ بندی کرتے تو آج صورت حال خاصی بہتر ہوتی۔ ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا اور صنعتی سیکٹر کا پہیہ جام نہ ہوتا۔ ملک میں بیروزگاری اور ایکسپورٹ سیکٹر کی یہ زبوں حالی، برآمدات اور درآمدات میں منفی تفاوت، غرض ہر بیماری کا علاج ممکن ہوجاتا۔اب تو بجلی پیدا کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے اور خادمِ پنجاب نے بھی اپنے برادر بزرگ کی طرح وعدے بہت کیے، مگر کوئی بھی اب تک ایفا نہ ہوسکا۔

ہمارے حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے، کب سے یہ لارے لگارہے ہیں کہ ہم لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے۔ اتنے ہزار میگاواٹ فلاں پروجیکٹ دے گا، اتنے فلاں اور اتنے فلاں۔ بس قوم خوش ہوجائے کہ بجلی ضرورت سے بھی زائد پیدا ہوجائے گی۔ یہ لارے سنتے سنتے عوام کے کان پک گئے ہیں اور حکمران دھونس دھاندلی سے جیت لی جانے والی سیٹوں کے نتائج آنے پر خوش خبری سناتے ہیں کہ قوم بڑی مطمئن ہے کیونکہ ہماری کارکردگی جو بہت اعلیٰ ہے۔ اللہ کرے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ایٹم بم بنانے میں کامیابی حاصل کرنے کی طرح بجلی کے اس بحران کے عذاب سے بھی قوم کو نجات دلاسکیں۔ انھوں نے ٹھیک فرمایا ہے کہ حکمران کھلونے بنارہے ہیں، جس سے کچھ لوگوں کے دل بہل جاتے ہیں۔ گذشتہ انتخابات کے بعد ڈاکٹر صاحب نے سیاست کو تو خیرباد کہہ دیا اور اپنی پارٹی کی رجسٹریشن بھی ختم کرادی ہے۔ اب یک سوئی کے ساتھ قوم کا یہ دیرینہ مسئلہ حل کرسکیں تو ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

راقم کو میٹروبس اور گرین ٹرین جیسے منصوبوں سے قطعاً کوئی اختلاف نہیں۔ میں ان کے حق میں ہوں، لیکن ہر کام ایک ترتیب سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کو روٹی نہیں مل رہی اور کوئی ہمدرد یہ مشورہ دیتا ہے کہ آئس کریم کھانے کی عیاشی کرلیا کرو تو ایسے ہمدردوں کو ظالم اور سفاک انسان ہی کہا جاسکتا ہے۔ ہرچیز کی ترجیحات ہوتی ہیں اور اسلام کا اصول یہی ہے کہ الاولیٰ فالاولیٰ، جو چیز سب سے زیادہ بنیادی اور ناگزیر ہے وہ پہلے فراہم کی جائے اور جس کے بغیر گزارا ہوسکتا ہے ، وہ بسہولت مل جائے تو فبہا اور اگر نہ بھی ملے تو کوئی قیامت نہیں آجاتی۔چھوٹی سی وضاحت یہ ہے کہ محترم ڈاکٹر صاحب اسلام آباد میں رہتے ہیں اس لئے 8گھنٹے لوڈشیڈنگ کی بات کی ہے۔ انھیں کیا معلوم کہ 18اور 20گھنٹے لوڈشیڈنگ کے علاقے بھی موجود ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...