لڑائی

لڑائی
لڑائی

وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب فرمائیے! جمہوریت کا مقدمہ ہم کیسے لڑیں! ایک ایسی جمہوریت جس کے دفاع کا مطلب آپ یا آپ کی خاندانی حکومت ہو، کیسے قابلِ دفاع ہو سکتا ہے؟ ایک ایسی جمہوریت جس کے دفاع کا مطلب زرداری ٹولے کا تحفظ بن جائے، کیسے قابلِ دفاع ہو گا؟ ایک ایسی جمہوریت جس میں تبدیلی کے نام پر ریحام خان سمیت عمران خان حصے میںآئیں ،کیسے گوارا کی جاسکے گی؟ خدارا غور کیجئے! یہ لوگوں کو آپ نے کس دھندے میں لگا دیا ہے۔اچھے بھلے دانشور بھی جمہوریت کے نام پر خاندانی آمریتوں کے تحفظ میں خرچ ہوگئے اور پاکستان تو کسی الف لیلوی داستان کے اُس شہزادے کی طرح بن چکا جسے پیچھے دیکھنے کے جرم میں پتھر کا بنا دیا گیا ہو۔ پتھر کے شہزادے میں جان کیسے ڈالی جائے؟ آمریت میں تو اس کی زندگی کبھی بحال ہو نہیں سکتی، مگر اس دھوکا نما جمہوریت میں بھی اس کی حیات کا کوئی سامان نہیں۔

یہ لیجئے! سانحہ ڈسکہ کے اگلے روز جب وکلاء سراپا احتجاج تھے اور قانون کے محافظ قانون کو ہاتھ میں لینے، بلکہ ہاتھ کرنے کے لئے آپے سے باہر ہو رہے تھے، تو میاں نواز شریف نے چوہدری نثار سے اپنی بزم کو آراستہ کر لیا۔ اور سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک مل آئے۔ مفتخر جمہوریت کہیں سینہ پُھلائے بیٹھی مسکرارہی ہو گی۔ اُس روز وزیر اعظم کے پاس شاید اس سے زیادہ ضروری کوئی کام نہیں تھا۔مگر پچھلے تین ماہ سے وزیراعظم کے نزدیک سرے سے یہ کوئی کام ہی نہیں تھا۔وزیر داخلہ چودھری نثار امریکی یاترا سے 24 فروری کو لوٹے تھے، اس سے ذرا پہلے ہی چودھری نثار نے ایوانِ وزیراعظم اور وزیراعظم سے منہ پھیر رکھاتھا۔چناچہ وہ ایوانِ وزیراعظم میں اپنے امریکی دورے کی روداد تک وزیراعظم کے گوش گزار کرنے نہیں گئے۔پاکستانی معاشرہ افواہوں کے بارود پر بیٹھا اپنی زندگی سے نبرد آزما رہتا ہے، چنانچہ افواہوں کی منڈی میں تیزی آگئی اور یہ مصنوعی تیزی نہ تھی۔میاں نواز شریف کی حکومت کو اب دو سال ہوتے ہیں اس عرصے میں چودھری نثار ،میاں صاحب سے اور میاں صاحب چودھری نثار سے کتنے دن خوش رہے ہیں، اگر پوچھ تاچھ کی جائے اور ذرا حساب کتاب وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی طرح کیا جائے تو یہ دن اُنگلیوں پر بآسانی گنے جاسکیں گے، مگر فروری سے میاں صاحب نے اس کی قطعاً کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔

ہماری سیاسی جماعتیں دراصل افراد کے پنجۂ استبداد میں ہوتی ہیں اور افراد سیاسی دیوتا کے طور پر اپنی جماعتوں کے ہر فرد کو اپنا مکمل عبادت گزار دیکھنا چاہتے ہیں۔ مکمل وفاداری کی طلب اختلافِ رائے کے معمولی تاثر کو بھی گوارا نہیں کرتی۔ اور اُنہیں راندۂ درگاہ بنا دیتی ہے۔چودھری نثار، مگر اس سلوک کے مستحق نہیں سمجھے گئے۔اِسے کچھ نامور لکھاریوں نے میاں صاحب کی مدبرانہ رواداری اور پہلے سے زیادہ برداشت کے مادہ کی غیرمعمولی صلاحیت پر محمول کیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اسے بھی وزیر اعظم کے اندرنئی صفات دریافت کرنے کا ایک موقع بنا لیا گیا ہے۔ہم اِن لفظ فروش قلمکاروں سے آخر کب نجات پائیں گے؟چودھری نثار آخر میاں نواز شریف سے کیا چاہتے ہیں؟ اپنی وزارت میں عدم مداخلت ، حساس وزارت کو چلانے کے لئے فنڈز کی ہموار فراہمی اور حکومت کے اندر کارکردگی بڑھا نے کا جذبہ۔ اس میں سے کون سی خواہش ایسی غلط ہے۔ وزیر خزانہ قومی خزانے کے وارث ہیں یا محافظ؟ وزیراعظم اور وزیر خزانہ معمول کے سرکاری امور میں اپنی ہی حکومت کے اندر تقسیم کی آخر حوصلہ افزائی کیوں کرتے ہیں؟ پھر قومی خزانے کی رقم کو ایک عطا اور سیاسی نوازش کے طور پر کیوں استعمال کرتے ہیں؟ کیا نیکٹا کو رقوم کی فراہمی میں کی گئی تاخیر ایک لمحے بھی گوارا کرنی چاہئے۔

اس کا ایک اور پہلو جمہوریت کی بالادستی سے متعلق ہے۔ وزیر داخلہ ریاست میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سرطان زدہ شہری اداروں کو فعال کرنا چاہتے ہیں اور شہری اداروں کو عسکری اداروں کی طرح موثر بنانا چاہتے ہیں۔ زیادہ بڑے تناظر میں یہ جمہوری حکومتوں کو زیادہ متعلق کرنے کی حکمتِ عملی ہے۔ مگر وزیراعظم اور وزیر خزانہ نے نیکٹا کو مکمل نظر انداز کردیا اور اس دوران عسکری اداروں کی تمام ضرورتوں کو پوچھ پوچھ کر پورا کیاجاتا رہا۔ ضربِ عضب میں اب تک قومی خزانے سے 45؍ ارب کی خطیر رقم خرچ کی جاچکی ہے۔ اور دہشت گردی کاعفریت اُسی طرح رقصاں ہے، جب کہ کچھ نئے خطرات سراُٹھا رہے ہیں۔ یہ اُس وزیراعظم کا طرزِ عمل ہے جو جمہوریت کا عَلم بھی اپنے ہاتھوں سے گرانا نہیں چاہتے، مگر جمہوریت کے بنیادی تقاضے کے طور پر اِسے خوش حکمرانی (گڈگورننس) سے آراستہ بھی رکھنا نہیں چاہتے۔

اس حکومت کو اگر چودھری نثار بھی ’’وارے ‘ ‘میں نہیں آتا تو پھر انہیں عارضی طور پیپلز پارٹی سے عبدالرحمن ملک کو درآمد کر لیناچاہئے۔یوں بھی پی پی کی ’’مفاہمت‘‘ اور نون کی ’’جمہوریت‘‘ کے تصورات میں سب کچھ گوارا ہے۔ پھر یہ زیادہ بڑی مدبرانہ رواداری اور برداشت کے مادے والی حکومت تصور کی جائے گی۔ مذاق کی کوئی حد ہوتی ہے۔ایک سیدھی سی بات ہے کہ دونوں کی سیاست ایک دوسرے سے الگ ہوکر دونوں کے لئے نقصان دہ بن جاتی ہے۔ دونوں کی مجبوریاں دونوں کو ہی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور رکھتی ہیں۔ اس میں طرزِ حکومت کی اصلاح اور تبدیلئ شخصیت کا کوئی معمولی پَر تو بھی کہیں پر نہیں جھلکتا۔وزیراعظم فرماتے ہیں کہ کوئی شکایت ہو تو براہِ راست میرے پاس آجایا کریں۔ یہ جملہ اُن کی شخصیت کی پوری چغلی کھاتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کوئی بھی کام قاعدے اور ضابطے سے کرنے کے بجائے بس اِسے اپنے جنبشِ ابرو کا محتاج رکھنا چاہتے ہیں۔اور پھر اِسے سیاسی کھیل میں ڈھال کر وفاداری کے میخانے میں نوازش کے پیمانے سے کرنا چاہتے ہیں۔آخر وہ کام کے معاملے میں ضابطہ پسندی کے قائل کیوں نہیں ہونا چاہتے؟ ڈائریکٹر پلڈاٹ احمد بلال محبوب نے اِسے ایک اور طرح سے واضح کیا ہے۔

میاں نواز شریف کی حکومت کو اب دوسال ہو چکے ہیں۔ وہ چودھری نثار کے ساتھ جس کابینہ کے اجلاس میں گئے۔ رولز آف بزنس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر ہفتے ہونا چاہئے۔ جب نون حکومت وسط 2013ء میں آئی تو اس کے بچ جانے والے چھ ماہ میں کابینہ کے سات اجلاس منعقد ہو سکے۔ اس کے بعد یہ عمل مزید سست پڑتا گیا اور 2014ء کے پورے بارہ ماہ میں کابینہ کے آٹھ اجلاس ہی منعقد کئے گئے۔ جب کہ 2015ء کے اس رواں برس کے پانچ ماہ میں کابینہ کے صرف دو ہی اجلاس گوارا کئے گئے۔ اختیارات کو اپنی ذات کے گرد مرتکز رکھنے کی اِس ذہنیت کو جمہوریت کی تائید کیسے دی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم کی یہ نفسیات دراصل اُن کے الفاظ اور اعمال سے پوری طرح مترشح ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ چوہدری نثار کے خالصتاً سرکاری امور میں پیدا شدہ اختلافات کو دور کرنے کے لئے بھی اُنہیں کسی اجتماعی مجلس (کابینہ) کا نہیں، بلکہ اپنی انفرادی شخصیت سے رجوع کی تعلیم فرما رہے تھے۔ یہ ان کا نقد جمہوری شعور ہے جس کے دفاع کی ذمہ داری ’’جمہوریت پسندوں ‘‘نے اپنے کندھوں پر لے لی ہے۔ ایک تبدیل شدہ شخصیت کے تقاضے ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ہمارے یہ جمہوری دیوتا آخر کس طرزِ فکر سے زندگی کرتے ہیں۔ اس کا کوئی کلیہ دریافت کرنا تقریباً ناممکن ہے،مگر اس کی حمایت کی گنجائش پیدا کرلینا صرف پورے دانشور ہی کر سکتے ہیں۔آدھے ادھورے دانشوروں کے بس کا یہ کام نہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...