یوم تکبیر ،رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن (1)

یوم تکبیر ،رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن (1)
یوم تکبیر ،رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن (1)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ 18مئی 1974ء کو پاکستانی سرحد سے صرف 93میل کے فاصلے پر راجستھان کیا تھا ۔۔۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کو دولخت ہوئے تقریباً ڈھائی سال ہو چکے تھے اور اندرا گاندھی اس فتح میں سرشار دوقومی نظریہ کو ہمیشہ کے لئے خلیج بنگال میں ڈبو دینے کا دعویٰ کر چکی تھیں۔ جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہو چکا تو ایسے حالات میں یہ سوال بہت اہم تھا کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیوں اور کس لئے کیا۔۔۔؟ اور بھارت اس دھماکہ سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔؟ بات یہ ہے کہ بھارت شروع سے ہی توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کا حامل مُلک رہا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد توسیع پسندی ، جارحیت اور دہشت گردی پر رکھی گئی ہے۔ بھارت کے بانی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے اپنی کتاب ’’Discovery of India‘‘ میں بہت پہلے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے خدوخال اور جارحانہ عزائم ان الفاظ میں بیان کر دیئے تھے ’’بھارت عالمی معاملات میں دوسرے درجے کا کردار ادا کرنے کیلئے معرض وجود میں نہیں آیا بلکہ یہ خطے میں ایک عظیم حیثیت اختیار کرے گا‘‘۔

بھارت کی جدید خارجہ پالیسی کے معمار ڈاکٹر ایس آر پٹیل نے اپنی کتاب Foreign Policy of Indiaمیں نہرو کے متذکرہ بالاقول کی وضاحت کر تے ہوئے لکھا ’’انگریز کے چلے جانے کے بعد خطے میں ایک عظیم سیاسی خلا واقع ہو چکا ہے اور یہ خلا بھارت کو پر کرنا ہو گا۔‘‘ بات یہاں تک ہی محدود نہیں بھارتی رہنما اور دانشور اس سے بھی آگے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ بعض بھارتی رہنماؤں کا خیال ہے کہ تاریخ میں ایک ایسا وقت گزرا ہے جب ہندو سلطنت کی سرحدیں ایک طرف انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور تک اور دوسری طرف دریائے نیل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ جزیرہ عرب بھی اس میں شامل تھا۔ اس ضمن میں بھارت کے مشہور مفکر اور فلسفی پی این اوک (P N OAK) اپنی کتاب Some Blunders of Indian Historical Research کے صفحہ نمبر 231 پر لکھتے ہیں ’’کسی زمانے میں ہندو مہاراجہ بکرما جیت کی سلطنت جزیرہ نمائے عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ مہاراجہ نے 58ق م میں(نعوذ باللہ) شہر مکہ میں رام کا مندر تعمیر کیا جسے بعد میں مسلمانوں کے پیغمبر (محمدﷺ) نے خانہ کعبہ میں تبدیل کر دیا۔ ہندوؤں کو نہیں بھولنا چاہئے کہ مکہ ان کا شہر ہے، جس میں ان کے دیوتا کا مندر تھا، لہٰذا ضروری ہے کہ ہندو اس مندر کو دوبارہ واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں‘‘۔

جہاں تک بھارتی رہنماؤں کے فعل ، عمل اور کردار کا تعلق ہے اس سے بھی ان کے توسیع پسندانہ مہم جویانہ اور متشددانہ عزائم کی تائید وتوثیق ہوتی ہے۔ مثلاً حیدرآباد دکن، جوناگڑھ، مناوادر کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ، بھوٹان اور سکم پر چڑھائی، 1962ء میں چین میں گھسنے کی کوشش، پاکستان کے ساتھ تین جنگیں، مشرقی پاکستان میں کھلی مداخلت۔۔۔ یہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی صرف چند ایک مثالیں ہیں۔

18مئی 1974ء ، 11مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکے، ایٹمی میزائل سازی، مہنگے و تباہ کن اسلحہ کے انبار و ذخائر سب اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ اسلحہ کے یہ انبار و ذخائر پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کی خیرسگالی و خوشحالی کے لئے نہیں، بلکہ ان کو بربادی و بدحالی سے دوچار کرنے کے لئے جمع کئے گئے ہیں،جبکہ پاکستان کی اسلحہ سازی اور ایٹمی پروگرام صرف اور صرف اپنی بقاو دفاع کے لئے ہے اور دو وجوہات کی بنا پر پاکستان کے لئے ازحد ضروری ہے۔

اولاً۔۔۔ ہمیں بھارت کی صورت میں ایک ایسے ازلی دشمن کا سامنا ہے، جس نے آج تک پاکستان کو دِل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ہمارے دین، ملک، سلامتی، سالمیت ، نظریہ اور اقدار و روایات کا دشمن ہے۔یہ وہ مُلک ہے،جہاں باقاعدہ حکومتی، مذہبی، سیاسی، عوامی، سماجی اور فوجی سطح پر اسلام اور پاکستان دشمن جذبات و خیالات کاشت وپرداخت کئے جاتے ہیں۔ اکھنڈ بھارت۔۔۔ بھارتی حکمرانوں کا مذہبی، حکومتی اور عسکری جنون و ایجنڈا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے پاکستان کے بارے میں آج بھی وہی عزائم و ارادے ہیں جو 1947ء یا 1971ء کے موقع پر تھے۔ انہوں نے صرف پینترا اور طریقہ واردات بدلا ہے ورنہ ان کی پاکستان دشمنی کے جنون میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

ثانیاً۔۔۔ پاکستان ترقی پذیر ملک اور توانائی بحران کا شکار ہے۔ خاص کر جب سے بھارت نے ہم پر آبی جارحیت مسلط کی ہے ہمارے مُلک میں پانی کی شدید کمی، توانائی کا بحران اور زراعت کا فقدان ہے۔ ایٹمی توانائی کو بروئے کار لا کر ہم دفاع اور توانائی کے ان تمام مسائل سے بطریق احسن عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف اور صرف اپنے دفاع وبقاء اور توانائی بحران کی ضروریات پورا کرنے کے لئے ہے۔اپنے دفاع کی خاطر ہی پاکستان نے 28 مئی1998 ء کو ایٹمی دھما کے کئے۔

28مئی۔۔۔یوم تکبیر کے نام سے موسوم ہے۔اس لئے یہ بہت عظیم دن ہے۔

تکبیر۔۔۔ کا مطلب ہے ۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔ یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔

تکبیر۔۔۔ اللہ کی وحدانیت وعظمت، کبریائی و بڑائی کا اظہار و اقرار اپنی کم مائیگی و بے بضاعتی کا اعتراف ہے۔

تکبیر۔۔۔ اللہ سے رشتہ و تعلق جوڑنے اور غیر اللہ سے رابطہ و ناطہ توڑنے کا نام ہے۔

تکبیر۔۔۔ کا نعرہ جہاں بندے کو خالق سے ملاتا ہے وہاں یہ زمزمہ محبت مسلمانوں کو بھی باہم جوڑتا، متحدو متفق کرتا، استقامت و جرأت بخشتا،جرأت و بہادری کا درس دیتا ، ایثار وقربانی کا ذوق عطا کرتا، بکھروں کو ایک کرتا اور جو ایک ہیں ان کو سیسہ پلائی دیوار بناتا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور عظمت کا اظہار و اقرار بہت عظیم اور طاقت ور جذبہ ہے۔ یہ تاثیر میں اکثیر سے بڑھ کر ہے۔ جب حلقہ یاراں ہو تو یہ مسلمانوں کو بریشم کی طرح نرم کرتا اور جب رزم حق وباطل ہو تو مسلمانوں کو مانندِ فولاد مضبوط کرتا ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ جب مسلمان اللہ کی کبریائی کے سامنے سربسجود ہو جائے تو ساری دنیا اس کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے۔ ایسے مسلمان کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔ چشم فلک بارہا دفعہ اس بات کا مشاہدہ کر چکی ہے کہ جب قوت وہیبت اور جاہ و جلال والوں کا پالا اللہ کی کبریائی کے سامنے سربسجود ہونے والوں سے پڑا تو وہ مدمقابل نہ رہ سکے۔ مسلمان جب بھی۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔ کے زمزمے بلند کرتے میدان میں اترتے ہیں تو وہ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روندتے، سمندروں کو چیرتے، مشکلات و مصائب کے کوہ گراں کو سر کرتے، تندی باد مخالف کا رخ پھیرتے، باطل کو للکارتے، اور فتح کامیابی کے جھنڈے گاڑتے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا دونیم اور پہاڑ ان کی ہیبت سے سمٹ کر رائی بن جاتے ہیں۔

مسلمان اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ہتھیار۔۔۔ خود کوئی طاقت نہیں۔ اصل طاقت خالق ارض وسما کی ہے۔ تجربے اور مشاہدے کی بات ہے کہ جب اللہ اکبر کی آواز پر راکٹ اور میزائل چلتے تو سیدھے نشانے پر لگتے ہیں اور دشمنوں پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ 1965ء کی جنگ میں جب ہمارے حکمرانوں اور جری جوانوں نے خلوص دل سے لاالہ الااللہ کا نعرہ لگایا تو لاہور کی بی آربی نہر عبور کرنا بھارتی فوج کے لئے سمندر عبور کرنے سے شکل تر ہو گیا تھا، لیکن جب 1971ء کی جنگ میں تکبیر و تمجید اور کلمہ توحید سے روگردانی کی تو اللہ کی مدد ہم سے روٹھ گئی ۔پھر مشرقی پاکستان کے ندیاں، نالے ، دریا دشمن کے لئے سمٹ گئے۔

آج پھر پاکستان مشکلات سے دوچار اور مصائب کا شکار ہے۔ یوں لگتا ہے کہ 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کی تاریخ اپنے آپ کو دھرا رہی ہے۔ وہ اس طرح کہ بھارت نے 1998ء میں جب ایٹمی دھماکے کئے تو اس وقت وہاں بی جے پی اور پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی۔ آج بھی وہی منظر ہے۔ درمیان میں صرف 16سال کا فاصلہ ہے۔ 16سال کا وقفہ اتنا لمبا اور طویل نہیں کہ ہمارے حکمران اسے بھول جائیں۔ میاں نواز شریف کو یاد ہو گا کہ انہیں ایٹمی دھماکے کیوں کرنے پڑے تھے اور انہیں یہ بھی یاد ہو گا کہ اس وقت بی جے پی کے پاکستان کے بارے میں کیا عزائم و ارادے تھے۔ اگر میاں صاحب کو یہ سب کچھ یاد نہیں تو ہم انہیں یاد دلائے دیتے ہیں کہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور ان کے وزراء کا لب ولہجہ، گفتار و کردار اور اندازواطوار ہی بدل گئے تھے۔ بھارتی رہنماؤں کی پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی حد سے بڑھ گئی ، وہ اپنے قد کاٹھ سے بڑھ کر باتیں کرنے لگے، اپنے آپے اور جامے سے باہر ہو گئے، وہ اکھنڈ بھارت اور رام راج کے قیام کے خواب دیکھنے اور پاکستان کو ترنوالہ سمجھنے لگے۔ بھارتی حکمرانوں کے بیانات کا خلاصہ یہ تھا۔۔۔بس! بہت ہو چکا اب پاکستان ہمارے غضب اور انتقام کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ پاکستان جنگ یا دوستی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے، آزاد کشمیر ہمارا حصہ ہے ہم اس میں فوجیں داخل کرنے کا حق رکھتے ہیں، پاکستان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اپنی ان پالیسیوں کا صفحہ ہمیشہ کے لئے پلٹ دے جن کا تعلق ہم سے یا کشمیر سے ہے، ہمیں آزادکشمیر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے فوراً حملہ کر دینا چاہئے۔ (جاری ہے)

بھارتی حکمرانوں کا جوش انتقام اور غیض وغضب اس حد تک بڑھا کہ سیاچن اور LOC پر بڑے پیمانے پر کارروائی کی خبریں آنے لگیں، یہاں تک کہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (کہوٹہ ایٹمی پلانٹ) پر بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ حملہ کی خبریں بھی گردش کرنے لگیں۔ یہ تھا 1998ء کے بی جے پی کے بھارت کا منظر۔۔۔جو پاکستان دشمنی کے جذبات سے ابل رہا تھا۔ جہاں تک مغربی ممالک کا تعلق ہے وہ بھارت کو روکنے ٹوکنے اور جنگی جنون سے باز رکھنے کی بجائے پاکستان سے کہہ رہے تھے۔۔۔ نئے حالات میں سر جھکا کر جینا سیکھ لو۔ پاکستان نے سر جھکانے کی بجائے سر اٹھا کر اور ذلت کی بجائے عزت کے ساتھ زندہ رہنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ ایٹمی ھماکے کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور عالم اسلام کو شادمانی و کامرانی سے سرشار کر دیا۔ 30مئی کو مزید ایک اور دھماکہ کر کے بھارت پر اپنی برتری و بالادستی ثابت کر دی۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہی بھارتی حکمرانوں کے ہوش ٹھکانے آگئے اور واجپائی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم پاکستان کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

9/11کے بعد جب امریکہ اس خطے میں آیا تو اس کے بعد امریکی کھونٹی سے بندھا بھارت ایک بار پھر اچھل کود کر رہا ہے۔ بی جے پی ایک بار پھر اقتدار میں آچکی ہے۔ نریندر مودی، جنہیں۔۔۔ اسلام، مسلمان اور پاکستان دشمن۔۔۔ ہونے کی وجہ سے ’’موذی‘‘ کہا جاتا ہے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ مودی کے نزدیک کسی مسلمان کا ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں قتل ہو جانا۔۔۔ کتے کے مرجانے کے برابر ہے۔ ایسے انتہاپسند اور مسلم دشمن شخص کے وزیراعظم بننے پر بھارت میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ خوشیاں تو پاکستان میں بھی منائی جا رہی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بھارت میں اس شخص کے وزیراعظم بننے کی خوشیاں ہیں جو پاکستان کو ملیامیٹ کرنے کے ارادے رکھتا ہے اور پاکستان میں ایٹمی دھماکوں کی خوشیاں ہیں جو ہماری سلامتی اور تحفظ کے ضامن ہیں۔

ہم اپنے حکمرانوں سے کہیں گے کہ خوشی و مسرت اور شادمانی کے ان تاریخی لمحات میں یہ تلخ حقیقت نہ بھولیں کہ ۔۔۔ 16سال کے عرصہ میں بھارت کا پاکستان کے ساتھ کیا رویہ و برتاؤ رہا ہے۔۔۔؟ امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے بھارت کے ساتھ اعتماد سازی اور دوستی کی فضا قائم کرنے کے لئے اپنی آزادی اور خودمختاری تک کو داؤ پر لگا لیا، کشمیر پر اپنے دیرینہ موقف کو تبدیل کیا، کشمیری قوم کی امنگوں کا خون، ان کی آرزوؤں کو مجروح، ان کی بے پناہ محبتوں اور چاہتوں کوپامال کیا۔

کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جواب میں پاکستان کو کیا ملا۔۔۔؟

دشمنی، تخریب کاری، دہشت گردی، آبی جارحیت مقبوضہ جموں کشمیر میں مظالم کی انتہا ، ایل اوسی پر پختہ مورچے، بنکر، خاردار تاریں، آہنی باڑیں، اور اب ۔۔۔’’را‘‘۔۔۔اور بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کی طرف سے پاکستان میں اعلانیہ دہشت گردی۔

یہ ہے بھارت کی طرف سے پاکستانی محبتوں کا جواب۔

سچی بات یہ ہے کہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ رویہ و سلوک میں نرمی کی بجائے سختی ، محبت کی بجائے نفرت اور دوستی کی بجائے دشمنی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے چہرے پر پڑا سیکولرازم اور پاکستان دوستی کا جھوٹا، جعلی اور پرفریب چانکیائی نقاب بالکل ہی اتر چکا ہے۔ بھارت کی انتہا پسندی،ہندو ازم کی بالادستی، اسلام اور پاکستان دشمن چہرہ پوری طرح بلکہ بری طرح عیاں ہو چکا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا بغل میں چھری منہ میں رام رام۔ اب برہمن کی بغل میں بھی چھری ہے اور منہ میں بھی چھری ہے۔ بی جے پی جہاں پاکستان کے بارے میں سخت گیر موقف رکھتی ہے وہاں مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے، شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے اور دنیا بھر کے ہندوؤں کو بھارت میں لا کر بسانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان حالات میں ہم وزیراعظم میاں نواز شریف سے کہیں گے کہ وہ بھارت کے حوالے سے اپنی حکومت کی ترجیحات اور خارجہ پالیسی کا ازسرنو تعین کریں۔ خوش گمانی اچھی بات ہے، لیکن خوش فہمی انسان کو لے ڈوبتی ہے۔قوموں اور ملکوں کے معاملات و معاہدات میں خوش فہمی۔۔۔ اکثر بے رحم، تباہ کن، سفاک اور المناک انجام پر منتج ہوتی ہے،لہٰذا حالات کا ادراک وتقاضا ہے کہ ہمارے حکمران اپنے آپ کو جانیں، دشمن کو پہچانیں اور اس کے عزائم و ارادوں کو سمجھیں۔

28مئی 1998ء کو ہمارا ملک عزت، عظمت، قدر و منزلت اور قوت و طاقت کے اعتبار سے افلاک کی رفعتوں اور بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ ہم اپنے حکمرانوں سے کہیں گے کہ وہ اب اپنے موجودہ سفر کا آغاز 28مئی کے اسی پروقار اور باصفا دن سے کریں اور پاکستان کو دوبارہ اس کی عزت و عظمت سے واپس لوٹائیں۔ پاکستان کو ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے عوض پیشکشیں ہوئیں، قرض معاف کرنے، تحفظ کا احساس دلانے، ایف 16طیارے دینے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں اور اس کے ساتھ ٹیلی فونک دھمکیاں بھی دی گئیں۔ یہ بات لائق تحسین تھی کہ ہمارے حکمرانوں نے تحریص و ترغیب کی پیشکشوں کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ یہ تھا۔۔۔ ایک آزاد۔۔۔ خودمختار۔۔۔ اور باوقار پاکستان۔ ہماری قوم ایسا ہی پاکستان چاہتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ 28مئی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی تان جن امور ومعاملات پر ٹوٹی۔۔۔ ان میں ایک مسئلہ کشمیر تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد جب نئے سرے سے پاکستان پر ایٹمی ہتھیار تلف کرنے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں میں شریک ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جانے لگا تو اس وقت ہمارے حکمرانوں نے نہایت دانشمندی سے کام لیتے ہوئے جوہری تجربات کی ممانعت کے سمجھوتے (CTBT) پر دستخطوں کے مسئلہ کو بھارت کے دستخط کرنے کی شرط سے ہٹا کر مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں وضاحت یہ پیش کی گئی تھی کہ جب مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا تو دونوں ملکوں میں سے کسی کو بھی ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے اس جاندار، شاندار، دوٹوک اور مبنی برحقیقت موقف سے بھارت بوکھلا گیا تھا۔مسئلہ کشمیر پر اب بھی ایسے ہی مضبوط اور واضح موقف کی ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس کے بغیر آزاد، خودمختار اور مستحکم پاکستان کا تصور محال ہے۔ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے، تو اس وقت اہلِ کشمیر نے بھی خوشیاں منائی تھیں۔اہلِ کشمیر آج بھی پاکستان کے نام پر جی رہے، پاکستان کے نام پر شہید ہورہے،پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے اور پاکستان کے پرچم کو سلام پیش کر رہے ہیں۔ 28مئی کی مناسبت سے ہم بھی سلام پیش کرتے ہیں اپنے قائدسید علی گیلانی، سید شبیر شاہ، میر واعظ عمر فاروق، مسرت عالم بٹ، یٰسین ملک، محترمہ آسیہ اندرابی اور حریت کانفرنس کے دیگر قائدین وکارکنان کو۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ پوری پاکستانی قوم آپ کے ساتھ ہے۔

مزید : کالم