ٹیکس کلچر کے فروغ کے لئے ٹیکسوں کی شرح حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت

ٹیکس کلچر کے فروغ کے لئے ٹیکسوں کی شرح حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکسوں کی شرح میں کمی لانا چاہتے ہیں، اگلے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے وزیراعظم نے ہدایت دی کہ بجٹ کا فوکس اس بات پر ہونا چاہئے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مہیا کیا جائے تاکہ وہ ملکی معیشت کے استحکام کے ثمرات سے استفادہ کر سکیں، وزیراعظم نے اس بات کو سراہا کہ دو سال کے دوران بنیادی معاشی اشاریئے بہتر ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شرح میں کمی کرنے سے رضا کارانہ طور پر ٹیکس دینے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ انقلابی اقدامات اُٹھا کر معیشت کے استحکام کے لئے دن رات کام کرنا چاہئے۔پاکستان میں ٹیکس کلچر مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوار نہیں ہوسکا، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو9فیصد کے لگ بھگ ہے اور یہ غالباً دُنیا کی کم ترین شرح ہے۔ یہاں امرا ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں، جن صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس لگا ہوا ہے وہاں اس مد میں معمولی رقم جمع ہوتی ہے، بلکہ وسیع زرعی زمینوں کے مالکان دوسرے ذرائع سے جو دولت کماتے ہیں وہ بھی زرعی آمدنی ظاہر کر کے ٹیکس سے بچ جاتے ہیں، ٹیکس بچا کر جو دولت جمع کی جاتی ہے وہ مُلک سے باہر لے جا کر یا تو غیر ملکی بینکوں کی تجوریاں بھر دیتی ہے یا پھر ایسے ممالک میں جائیدادیں بنانے کے کام آتی ہے ،جہاں کالے دھن کے متعلق زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کی جاتی، اس طرح دولت مند لوگ صرف ٹیکس ہی نہیں بچاتے اپنی دولت کو مُلک کے لئے بیکار بھی بنا کر رکھ دیتے ہیں اور وہ دوسروں کے کام آتی ہے۔ایک زمانے میں حکومت نے سوئس بینکوں میں رکھی ہوئی رقوم واپس لانے کا نعرہ مارا تھا، لیکن غالباً اس سلسلے میں کوئی خاص کامیابی نہ ملنے پر اس بھاری پتھر کو نہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے یا وقتی طور پر خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔

پاکستان میں براہ راست ٹیکس کم ہیں اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ یہ بالواسطہ ٹیکس ہر کوئی دیتا ہے، چاہے وہ ٹیکس دینے کی استطاعت رکھتا ہے یا نہیں رکھتا۔ مُلک میں ٹیکس جمع کرنے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا بھاری بھر کم ادارہ قائم ہے، جس کے افسر مقابلے کے امتحان میں شرکت کے بعد اس سروس میں آتے ہیں، لیکن گزشتہ کئی سال سے یہ بورڈ ریونیو ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام چلا آ رہا ہے، سال میں ایک دو بار ٹارگٹ پر نظرثانی کر کے اسے کم کر دیا جاتا ہے۔ اس سال بھی نظرثانی شدہ ٹارگٹ شاید ہی حاصل ہو سکے۔ دوسری جانب کچھ ایسے ٹیکس بھی اب تک وصول کئے جا رہے ہیں، وقت نے جن کا جواز ختم کر دیا ہے یا اس کی نوعیت بدل کر رکھ دی ہے۔ ٹی وی لائسنس فیس کا اول تو اب کوئی جواز نہیں رہ گیا کہ سرکاری ٹی وی کا دیدار ناظرین کی پہلی ترجیح نہیں رہا۔ لوگ پرائیویٹ ٹی وی چینل دیکھتے ہیں،لیکن بجلی کے بلوں کے ذریعے ٹی وی لائسنس فیس جمع کر کے سرکاری ٹی وی کے حوالے کر دی جاتی ہے، حالانکہ ناظرین کی تعداد کے حساب سے اس کا کچھ حصہ پرائیویٹ چینلوں کو بھی ملنا چاہئے، اسی طرح دیگر کئی اقسام کے ٹیکس بھی بلوں کے ذریعے جمع کئے جاتے ہیں (آج کل لاہور ہائی کورٹ کے حکم سے بعض ٹیکسوں کی وصولی رُکی ہوئی ہے)، حالانکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ٹیکس جمع کرنے کے ادارے نہیں ہیں،وہ صرف اپنے بل جمع کرنے کی مجاز ہیں، دوسروں کے لئے ٹیکس جمع کرنا ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٹیکس حکام کسی وجہ سے ٹیکس وصولی خوش اسلوبی سے نہیں کر سکتے تو یہ کام بالواسطہ طور پر بجلی کے بلوں کے ذریعے کر لیا جائے، کیونکہ اس طرح طوعاً و کرہاً بجلی کے ہر صارف کو ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔بالواسطہ ٹیکس امیر اور غریب ہر کوئی ادا کرتا ہے، موبائل فون کے بلوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس بھی اسی مقصد کے لئے عائد کیا گیا ہے۔ اگر ٹیکس کی شرح حقیقت پسندانہ ہو اور امرا اور غریبوں پر ان کی استطاعت کے مطابق ٹیکس کا بوجھ ڈالا جائے تو جیسا کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے لوگ خوش اسلوبی سے ٹیکس دیں گے۔ اس ضمن میں ٹیکس اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس طرح ٹیکس کلچر کو فروغ ملے گا۔

اس وقت جنرل سیلز ٹیکس زیادہ تر17فیصد کی شرح سے اشیا اور سروسز پر نافذ ہے(پٹرولیم مصنوعات پر تو اس کی شرح اور بھی زیادہ ہے) اور کھانے پینے اور پہننے کے معمولی کپڑے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، حالانکہ دُنیا بھر میں اشیائے خوردنی کو اس ٹیکس سے استثنا حاصل ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں کھانے پینے کی بنیادی اشیا پر بھی جنرل سیلز ٹیکس کا نفاذ اس امر کا غماز ہے کہ حکومت اپنے ٹارگٹ پورے کرنے کے لئے غریبوں کی ضروریات کو پیش نظر نہیں رکھتی۔ یہ الگ بات ہے کہ معیشت دستاویزی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ایسے کھوکھا نما ریسٹورنٹ ٹیکس سے بچے رہتے ہیں، جن کی روزانہ آمدنی ہزاروں روپے ہے، اس کے برعکس فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ان سے کم آمدنی پر بھی ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا سارا سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہے اور وہ ٹیکس چوری نہیں کر سکتے۔ اول الذکر کاروبار کرنے والے ٹیکس کی مد میں تو کوئی ادائیگی نہیں کرتے،لیکن ٹیکس حکام وقتاً فوقتاً ان سے اپنا حصہ لینے پہنچ جاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ٹیکس اصلاحات کر کے ایسے چھوٹے کاروباری لوگوں سے تھوڑا بہت ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کرنے کا انتظام کر لیا جائے، بجائے اس کے کہ وہ ٹیکس حکام کی بلیک میلنگ میں آتے رہیں، حکومت کو اس ضمن میں کوئی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔عام طور پر حکومت جب لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ مزاحمت پر اُتر آتے ہیں، اس کی وجہ غالباً یہ ہوتی ہے کہ ٹیکس وصولی کی شرح بہت زیادہ تجویز کر دی جاتی ہے۔ اگر اس کو حقیقت پسندانہ رکھا جائے تو لوگ ٹیکس ادائیگی کے لئے تیار ہوں گے۔اس وقت بجلی کے فی یونٹ نرخ بہت زیادہ ہیں، شنید ہے حکومت سبسڈی بھی ختم کر رہی ہے۔ اس طرح بجلی کی فی یونٹ قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی، حالانکہ تیل کی قیمتیں کم ہونے سے بجلی کی قیمت کم ہونی چاہئے۔ اس وقت فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جو سہولت دی جا رہی ہے وہ ٹیرف کی مد میں مستقل ہونی چاہئے اور بجلی کمپنیوں کو اپنے ٹیرف پر نظرثانی کر کے اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اگر آئی پی پیز کو غیر حقیقی ادائیگی کرتی ہے اور ہر سال گردشی قرضہ بڑھ جاتا ہے تو اس کی سزا عوام اور بجلی کے غریب صارفین کو تو نہیں ملنی چاہئے، جن کا مہنگے نرخ طے کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا اور جن کی آمدنیوں کا ایک معتدبہ حصہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی پر صرف ہو جاتا ہے اور وہ باقی ضروریات زندگی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔

مزید : اداریہ