ہریانہ میں ا نتہا پسند ہندوؤں نے مسجد شہید کردی، مسلمانوں کے گھر نذر آتش، 17زخمی

ہریانہ میں ا نتہا پسند ہندوؤں نے مسجد شہید کردی، مسلمانوں کے گھر نذر آتش، ...
ہریانہ میں ا نتہا پسند ہندوؤں نے مسجد شہید کردی، مسلمانوں کے گھر نذر آتش، 17زخمی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست ہریانہ میں ایک مسجد سمیت مسلمانوں کے گھر اور املاک نذر آتش کردی گئی ہیں۔ دہلی سے 37کلومیٹر دور واقع فرید آباد کے گاؤں اٹالی میں ایک مسجد کی تعمیر جاری تھی جس کو ہندو انتہا پسندوں نے نذر آتش کرکے شہید کیا اور بعد ازاں مسلمانوں کی رہائشی آبادی پر حملہ آور ہوگئے۔

اٹالی میں پانچ سال قبل مسجد اور مندر ایک ساتھ تمیر کئے جارہے تھے مگر اراضی کے تنازع کے باعث مسجد کا تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا، رواں ماہ عدالت نے مسجد کی تعمیر کی اجازت دی تھی یوں پانچ سال بعد مسجد کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جانب سے مسجد کی چھت کی تکمیل کا آگاز کیا گیا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق 10 شرپسند ہندو مسجد میں داخل ہوئے جن کے ہاتھوں میں پٹرول کے کین تھے، انہوں نے مسجد میں پٹرول چھڑک دیا اور آگ لگادی۔ انتہا پسند ہندوؤں کے درجنوں حامی مرٹرسائیکلوں پر مسجد کے باہر موجود تھے۔ حملہ آوروں کا تعلق انتہا پسند جماعت راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) سے تھا۔

گاؤں اٹالی میں مسلمانوں کے سربراہ ممتاز علی نے بتایا کہ ہندو ستھ والے پلاٹ پر مندر تعمیر کرنا چاہتے تھے، جس پر مسلمان عدالت گئے اور فیصلہ ان کے حق میں آیا، اٹالی گاؤں میں مسلمانوں کے 18 مکانات بھی نذر آتش کئے گئے ہیں۔ حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں اکثریر مسلمان نوجوانوں کی ہے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے گاؤں میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے البتہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

پولیس کے مطابق 20 افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے، جن کی گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ واضح رہے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر نذر آتش کئے گئے اس روز بھی 500 پولیس اہلکار علاقے میں تعینات تھے۔ علاقے میں پہنچنے والے مسلمانوں کے مطابق ان کے گھروں کا تمام سامان آر ایس ایس کے کارکن لوٹ کر لے جاچکے ہیں جبکہ بعض مکانوں کو گرایا بھی گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی