عمران فارق کیس،انٹرپول نے ابوظہبی سے مزید 2افراد کو حراست میں لے لیا

عمران فارق کیس،انٹرپول نے ابوظہبی سے مزید 2افراد کو حراست میں لے لیا
عمران فارق کیس،انٹرپول نے ابوظہبی سے مزید 2افراد کو حراست میں لے لیا

  

کراچی (ویب ڈیسک) انٹرپول نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے ابو ظہبی میں مزید دو افراد سعد صدیقی اور عمر کو حراست میں لے لیا ہے۔ مقامی اخبار روزنامہ نئی بات کے مطابق ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حماد صدیقی اور لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عذیر جان بلوچ کو پاکستان منتقل کئے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ گزشتہ روز گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان کو آئندہ چند روز میں پاکستان منتقل کئے جانے کا امان ہے۔ ملزمان کے پاکستان منتقل کئے جانے کے بعد بعض اہم سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔

اخبارکے مطابق ایم کیو ایم کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حماد صدیقی اور لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عذیر جان بلوچ کو تحقیقاتی ادارے رات گئے وطن لے کر پہنچ گئے ہیں۔ عمران فاروق کیس میں مطلوب حماد صدیقی اور گینگ وار کے مرکزی کردار عذیر بلوچ کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب ساڑھے تین بجے اسلام آباد لایا گیا ہے تاہم تحقیقات ادارے نے اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں کیا ہے۔ حماد صدیقی اور عذیر جان بلوچ کے خلاف انتہائی سنگین مقدمات درج ہیں جس میں قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور پولیس مقابلوں سمیت دیگر مقدمات شامل ہیں۔

عذیر بلوچ کو اس سے قبل بھی انٹرپول نے گرفتار کیا تھا لیکن کراچی پولیس انہیں وطن واپس لانے میں ناکام رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کیس میں مزید پیشرفت ہوئی ہے اور اس کیس کے سلسلے میں بدھ کو ابوظہبی میں مزید دوگرفتاریاں کی گئی ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ گرفتاریاں کراچی سے پکڑے جانے والے اہم ملزم معظم علی کان کی نشاندہی پر ہوئی ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں گرفتار ملزم معظم علی سے تفتیش کے بعد پاکستانی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دبئی پولیس سے رابطہ کیا تھا۔

دبئی پولیس نے دونوں ملزمان سعد صدیقی اور عمر کو رفتار کیا لیکن تاحال گرفتاری ظاہر نہیں کی ہے۔ ملزم سعد صدیقی کا تعلق کرچی کے علاقے ملیر اور ملزم عر کا نارتھ کراچی سے ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملزم سعد صدیقی اسی کیس میں ملوث واٹر بورڈ کے ایک افسر کا قریبی ساتھی ہے۔ دونوں ملزمان کو پاکستانی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحویل میں جلد دیا جائے گا۔

مزید : کراچی