انسانی تاریخ کا قدیم ترین قتل ,کیا طریقہ اختیار کیا گیا ؟تحقیق کارو ں نے بتا دیا

انسانی تاریخ کا قدیم ترین قتل ,کیا طریقہ اختیار کیا گیا ؟تحقیق کارو ں نے بتا ...
انسانی تاریخ کا قدیم ترین قتل ,کیا طریقہ اختیار کیا گیا ؟تحقیق کارو ں نے بتا دیا

  

میڈرڈ (نیوز ڈیسک) سپین کی گہری غاروں سے دریافت ہونے والی لاکھوں سال پرانی انسانی کھوپڑی نے دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اور ماہرین جرمیات کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ اس پر موجود نشانات اسے تاریخ کے قدیم ترین قتل کا ثبوت قرار دیتے نظر آتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:فحش مواد دیکھنے والوں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کی تیاری

شمالی سپین کی آثار قدیمہ سائٹ سیما ڈی لوس ہیو سوس کے غاروں میں 43 فٹ کی گہرائی پر 28 انسانی کھوپڑیوں کی باقیات ملی ہیں۔ ماہرین نے جدید تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے معلوم کیا ہے کہ یہ کھوپڑیاں تقریباً 4 لاکھ 30ہزار سال پرانی ہیں اور ان میں سے ایک کھوپڑی پر موجود چوٹ کے دو نشان ظاہر کرتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آلے کے دو وار کرکے قتل کیا گیا۔ فورینزک ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بائیں آنکھ کے اوپر لگائے گئے زخم ایک ہی آلے سے دو وار کرکے لگائے گئے اور اس کھوپڑی کو انسانی تاریخ میں قتل کے قدیم ترین جرم کے ساتھ منسلک قراردیا جارہا ہے۔

 ماہرین کا خیال ہے کہ کھوپڑی میں موجود دونوں فریکچر کسی خطرناک اوزار کے وار سے پیدا ہوئے اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی معلومات کے مطابق آج تک اس سے پرانے قتل کے شواہد نہیں ملے۔ تاریخ کا قدیم ترین قتل قرار دئیے جانے والے جرم کے مزید حقائق جاننے کے لئے سائنسدان تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ اب تک کی تحقیقات کو سائنسی جریدے Plos One میں شائع کیا جاچکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس