نواز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پلاٹ کیسے تقسیم کئے ،ہائی کورٹ نے رپورٹ مانگ لی 

نواز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پلاٹ کیسے تقسیم کئے ،ہائی کورٹ نے رپورٹ مانگ لی 
نواز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پلاٹ کیسے تقسیم کئے ،ہائی کورٹ نے رپورٹ مانگ لی 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کی طرف سے بطور وزیراعلی پنجاب صوابدیدی اختیارات کے ذریعے پلاٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کیس کی سماعت کرتے ہوئے الاٹمنٹ کے وقت پلاٹوں کی قیمت اور الاٹمنٹ پالیسی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔درخواست گزار اظہر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ1988ء میں اسے میاں نواز شریف نے پلاٹ الاٹ کیا مگر ایل ڈی اے نے آج تک قبضہ نہیں دیا جو غیر قانونی ہے کیونکہ وہ پلاٹ کی قیمت ادا کر چکے ہیں ،ایل ڈی اے کو پلاٹ کا قبضہ دینے کا حکم دیا جائے۔ الاٹمنٹ کے خلاف درخواست دائر کرنے والے وکیل نوشاب اے خان نے موقف اختیار کیا کہ میاں نواز شریف نے 1988ءمیں من پسند افراد میں پلاٹ تقسیم کیے جس میں قوانین کو نظر انداز کیا گیا ،عدالت تقسیم کیے گئے تمام پلاٹوں کی اصل قیمت وصول کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے ایل ڈی اے 1988ءمیں پلاٹوں کی قیمت کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی عدالت نے یہ استفسار بھی کیا ہے کہ میاں نواز شریف نے کس پالیسی کے تحت پلاٹ تقسیم کئے تھے۔

مزید : لاہور