لوگ رٹ درخواستوں کے ذریعے حکومت کو جھنجھوڑتے ہیں ورنہ وہ سوئی رہتی ہے ،مہنگائی کے خلاف درخواست پر ہائی کورٹ کے ریمارکس

لوگ رٹ درخواستوں کے ذریعے حکومت کو جھنجھوڑتے ہیں ورنہ وہ سوئی رہتی ہے ...
لوگ رٹ درخواستوں کے ذریعے حکومت کو جھنجھوڑتے ہیں ورنہ وہ سوئی رہتی ہے ،مہنگائی کے خلاف درخواست پر ہائی کورٹ کے ریمارکس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مفاد عامہ میں رٹ درخواستیں دائر کرنے والے حکومت کو جھنجھوڑتے ہیں ورنہ حکومت سوئی رہتی ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی کے لئے اقدامات کرنا سیکرٹری فوڈ کی ذمہ داری ہے ۔انتظامی افسران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیںاسی لئے رمضان المبارک کی آمد کے باوجود اشیاءضرورت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے یہ ریمارکس پنجاب حکومت سے صوبہ بھر کے اضلاع کے ڈی سی اوز کی طرف سے اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے دیئے ۔فاضل جج نے اس سلسلے میں دائر جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست کی مزید سماعت 15جون تک ملتوی کردی ہے ۔گزشتہ روز حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سراج السلام نے جواب داخل کروانے کے لئے مہلت دینے کی استدعا کی، انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیکرٹری فوڈ کی جانب سے رپورٹ تیار نہیں کی گئی، تین روز میں رپورٹ تیار کر کے عدالت کے روبرو پیش کر دی جائے گی، درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچے ، اشیائے خوردونوش آج بھی پرانی قیمتوں پر مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں، حکومت رمضان کے مہینے میں اشیائے خورد و نوش میں کمی کرتی ہے باقی 11ماہ قیمتوں کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے لہٰذا اشیاءخورد و نوش کی قیمتوں میں کمی میں کا حکم دیا جائے،عدالت نے صوبائی حکومت کو 15جون تک جواب داخل کرانے کی مہلت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی کے لئے اقدامات کرنا سیکرٹری فوڈ کا فرض ہے، انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام نظر آرہی ہے ،اگر مفاد عامہ میں درخواست دائر کرنے والے افراد حکومت کو نہ جھنجھوڑیں تو حکومت سوئی رہتی ہے ۔اس کیس کی مزید سماعت 15جون کو ہوگی۔

مزید : لاہور