گورا

گورا

  

اٹھارہ سالہ نوجوان نے فاسٹ فوڈ ڈرائیو تھرو ونڈو کے سامنے گاڑی روکی۔ تین لارج واٹر کپس کا آرڈر دیا۔ گاڑی میں دو دوست بھی تھے۔ تینوں نے آرڈر وصول کیا، گاڑی پارک کی اور اندر داخل ہوکر خالی کپس میں سوڈا(کاربونیٹڈ ڈرنک ) بھرنے لگے۔ منیجر نے روکا تو دو نے کپ واپس کردیئے اٹھارہ سالہ نوجوان نے کپ واپس کرنے سے انکار کر دیا۔تینوں باہر نکلے اور کار میں بیٹھ کر رفو چکر ہونے لگے۔ منیجر راستہ کے بیچ کھڑا ہو گیا اور راستہ دینے سے انکار کر دیا۔پولیس کے مطابق نوجوان نے پہلے فوڈ سپروائزر کے ساتھ کار ٹکرا دی۔ جب منیجر نے گاڑی کے اگنیشن سے چابی چھیننے کی کوشش کی تو نوجوان نے منیجر کے ساتھ بھی گاڑی ٹکرا دی۔ یہ سب کچھ ڈیڑھ ڈالر کی مالیت کے مشروبات کی ہوس کا نتیجہ تھا۔ تینوں جائے وقوعہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ منیجر نے پولیس کو فون کیا ، پولیس نے نوجوان کو کار سمیت گرفتار کر لیا۔

نوجوان کا نام کوڈی مورس ہے۔ ریاست کا نام آرکنساس ہے۔ملک کا نام ریاست ہائے متحدہ امریکہ (یونائیٹڈ اسٹیس آف امریکہ) ہے۔ فاسٹ فوڈ چین کا نام میکڈونلڈز ہے۔ یہ واقعہ چند روز قبل مغربی میڈیا نے رپورٹ کیا۔ یہ جرم صرف چوری نہیں، بلکہ طاقت کے استعمال اور خوف و ہراس پھیلانے کے سبب ڈاکہ زنی (یاقزاقی) کی نوعیت کا جرم بن چکا ہے۔ سوچئے اگر اس نوجوان کا نام مورس کی بجائے مسعود ہوتا اور یہ نوجوان مسلمان ہوتا۔ شہر کا نام آرکنساس کی بجائے اسلام آباد ہوتا۔ ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوتا۔ تو پھر کیا منظر ابھرتا ؟ ’’مفکر اور ہم نوا‘‘ بیچ چورا ہے کے اس قوم کے لتے لیتے۔الفاظ کے شعبدہ گر کاقلم شعلہ بار اور تیز دھار جملے اگلتا۔ سادہ لوح ان کلمات کو نگلتے اورمزید احساس ذلت میں لتھڑ جاتے۔

ننگ وا فلاس کے مارے لوگ۔۔۔تہذ یب و تمدن سے عاری مخلوق۔۔۔مسلمانو تمہاری کنٹری بیوشن کیا ہے ؟ تم سوڈا کی بوتل تک تو بنا نہیں سکتے ؟ چوری کر کے پیتے ہو۔۔۔ سینہ زوری کر کے پیتے ہو۔۔۔ گورے کو دیکھو اس نے کتنے ہی سوڈے بنا ڈالے۔ لال ، پیلا، ہرا ، بلکہ ہر رنگ کا سوڈا (سافٹ ڈرنک) دستیاب ہے۔ کتنا رنگدار کر ڈالا ہے ، دُنیا کو انہوں نے۔ تمہارے پاس کیا ہے ، کھٹی لسی۔۔۔ وہ بھی ایک ہی رنگ میں۔۔۔

گورا جھوٹ نہیں بولتا، چوری نہیں کرتا، ڈاکے نہیں مارتا۔ ’’مفکر اور ہم نوا‘‘ کے ارشادات سن کر محسوس ہوتا ہے کہ گوروں کے ملک میں پولیس کے مرد اہلکار ڈیوٹیوں پر بیٹھے بیٹھے گنے چوستے ہیں اور خواتین سویٹر بُنتی ہیں۔ منشیات اور ڈرگز میوزیم میں پائی جاتی ہیں۔ قتل کا ذکر صرف ناولز میں ملتا ہے۔ جیلوں کو پکنک ریزاٹس میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہاں مُنہ سونگھنے کا قانون موثر ہے۔ شاہراہوں پر کار سوار گوروں کے منہ باقاعدگی سے سونگھے جاتے ہیں ، بلکہ بوقت ضرورت بری تھا لائزر (آلہ مقیاس بو) کو بھی بو ماپنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

’’مفکر‘‘ کو برصغیر کی تاریخ بیان کرنے میں خاص دلچسپی ہے۔ گورے کی تاریخ بیان کرنے سے پرہیز فرماتے ہیں،حالانکہ گوروں کے اختلافات کی تاریخ مغلوں کی تاریخ سے کہیں زیادہ دلچسپ بھی ہے اور دلسوز بھی۔اہل فرانس اور تخت انگلستان کے مابین صدیوں کشت و خون رہا۔ دونوں قوموں کے مابین1337ء سے 1453ء تک ’’ہنڈرڈ ائیرز وار‘‘ (سو سالہ جنگ) جاری رہی۔’’مفکر‘‘ گورے کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی قومیت کا ذکر نہیں کرتے۔ برطانوی ، فرانسیسی ، امریکی یا آسٹریلوی قومیت بیان نہیں کرتے، نجانے اس میں کیا راز پوشیدہ ہے ؟

گورے جنگ و جدل کے شوقین نہیں ہوتے۔ خون نہیں بہاتے ، اگر بہاتے ہیں تو ’’مفکر‘‘ شاید اس کو پانی بہانا ہی تصور کرتے ہیں اور ان کے کئے پر پانی بہا دیتے ہیں۔ آسٹریا کا گورا حکمران فرانز فرڈینینڈ بوسنیا کے دورے پر تھا۔ دارالحکومت سراجیو میں ایک گورے نے حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ پہلی جنگ عظیم کی ابتدا بنا۔ اس جنگ کے مرکزی کردار ، گورے تھے۔ فرانس، برطانیہ ، روس ، مانٹیگرو ، بلجیم ، اٹلی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ اتحادی تھے۔ دوسری جانب جرمنی ، آسٹریا ، ہنگری، بلغاریہ اور سلطنت عثمانیہ تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی مختلف قومیتوں کے گورے دست و گریباں تھے۔ دوسری جنگ عظیم سے لے کر اب تک صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے گورے کوریا، لبنان، ویت نام، گرینڈا، پاناما، عراق ، صومالیہ ، ہیٹی ، یوگوسلاویہ، افغانستان ، لیبیا اور شام وغیرہ میں جو کچھ کر چکے ہیں ، اس کو دیکھنے کے لئے خورد بین کی ضرورت نہیں۔

’’مفکر‘‘ اور ہم نوا اکثر یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ سائنس مغرب کا تحفہ ہے۔ گزارش ہے کہ سائنسی ترقی ساری انسانیت کا مشترکہ کارنامہ ہے۔ جب جابر بن حیان کیمسٹری کی بنیادیں اُٹھا رہا تھا، تو گورا یقیناًڈزنی لینڈ کی تصوراتی سیرکر رہا تھا۔ ابن سینا کی ’’القانون فی الطب‘‘ لکھ رہا تھا تو گورا شاید سو رہا تھا۔ آج بھی پوری دُنیا میں لاکھوں چینی ، جاپانی ، عربی ،عجمی، افریقی اور پاکستانی سائنس دان ، ڈاکٹرز اور انجینئر کنٹری بیوٹ کر رہے ہیں۔ اپنے ممالک کے علاوہ غیر ملکی تحقیقی اداروں میں بھی کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں۔ گوروں کے سوا تمام اقوام عالم کا کنٹری بیوشن سائنس سے نکال باہر کیجئے،تو گورے کی سائنسی ترقی کباڑیئے کی دکان کے سوا کچھ نہ ہو گی۔ یہ تسلیم ہے کہ کسی وقت ایک قوم کی عطا زیادہ رہی اور ایک کی کم، لیکن سائنسی ترقی انسانیت کا مشترکہ ورثہ اور سرمایہ ہے۔

چند نام ذکر کروں تو پیشانیاں شکن آلود ہو جائیں گی: 2015 میں کیمسٹری کا نوبل انعام یافتہ ترکی کا عزیز سینکر ،مصری ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر سمیرہ موسی جو دشمنوں کی نشانہ بن گئی ، تعمیراتی انجینئرنگ کا آئن سٹائن بنگالی فضل الرحمان خان ، پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے تمام قابل قدر سپوت ، 1999ء میں یونیسکو سائنس پرائز حاصل کرنے والے پاکستانی پروفیسر عطاء الرحمن، پاکستانی کیمیا دان سلیم الزمان صدیقی ، 1999ء میں کیمسٹری میں نوبل انعام یافتہ مصر کا احمد حسن نویل۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بیسویں صدی میں عرب ممالک کے کتنے ہی تابناک ستارے دشمنوں نے موت کے گھاٹ اُتار دیئے۔

’’گورے‘‘ کی گردان مت کریں ، ہیجان مت اٹھائیں۔فخریہ ’’ گورے‘‘کے آوازے لگانا، کیا کالے و بھورے کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا نہیں ؟ کیا ’’مفکر‘‘ الفاظ کے چناؤ میں بھی غیر محتاط ہیں ؟’’کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقوی کی بنیاد پر‘‘، سوعمل بیان کریں۔ کارنامہ بتایا ، رنگ نہیں، رنگ تو سوڈا کے حریص مورس کا بھی گورا تھا، لیکن کرتوت۔۔۔

مزید :

کالم -