ایک قوم، ایک مُلک

ایک قوم، ایک مُلک
ایک قوم، ایک مُلک

  

 1947سے آج تک بہت کم ایسے لوگ آئے جن کو بطور وزیراعظم ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہو اور وہ اس میں کامیاب رہے ہوں، پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناحؒ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو، یہ دو ایسی شخصیات ہیں جن کو عوام نے لیڈر تسلیم کیا اور عوام کے دلوں میں راج کیا اور اپنے ملک کو ایک پہچان دی۔ ان کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو، نواز شریف و دیگر نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی، مگر اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ محترمہ تو منوں مٹی تلے جا سوئی،جبکہ نواز شریف پر کرپشن کا الزام ہے،عمران خان چیئرمین پی ٹی آئی ہے۔ قائداعظم اور بھٹو کے بعد اگر کوئی لیڈر کہلانے کے لائق ہے تو وہ عمران خان ہے۔

گزشتہ دنوں عمران خان کی اسمبلی آمد کے موقع پر جس طرح مخالفین نے ان پر فقرے بولے،وہ سب باتوں کو نظر انداز کرکے جس شاہانہ انداز میں اسمبلی میں داخل ہوئے، جیسے سب کو عرصہ سے انہی کا انتظار تھا اور ہوتا کیوں نہ وہ لیڈر ہیں۔ عوام کے دلوں میں بستے ہیں اور عوام کا سوچتے ہیں اور عوام انہیں سر آنکھوں پر اٹھاتے ہیں۔ اسمبلی آمد کے موقع پر عمران خان کے خطاب کے دوران مخالفین کی باتوں کی پروا کئے بغیر اپنا خطاب مکمل کرنا ایسا کام لیڈر ہی کر سکتا ہے اور جو بھڑاس عمران کے دل میں تھی، وہ انہوں نے خوب نکالی اور نکالنی بھی چاہئے تھی، کیوں کہ عوام کئی دنوں سے عمران پر لگنے والے الزامات کی کھوج میں تھی، جن کے جوابات عمران نے بھرپور طریقے سے دئیے اور یہ باور کروایا کہ نہ بکنے والے، خدا کے سوا کسی اور کے آگے نہیں جھکتے۔

عمران خان نے گزشتہ دنوں اپنے تمام کاموں کو 100 دن میں مکمل کرنے کی بات کی۔ نوکریاں دینے کی بات اور دیگر باتیں کیں۔ وہ کام باتیں اگر 100 دن نہیں، دو سال یا اپنے برسراقتدار رہتے ہوئے بھی پوری کر دیں گے تو یہ ملک و قوم پر عمران خان کا احسان ہوگا اور ایسی باتیں کرتے بھی وہی ہیں جن کے ارادے پختہ ہوں اور چٹان کی طرح مضبوط ہوں، ورنہ جس حالت میں کے پی کے عمران خان کی حکومت کو 2013ء میں ملا، اس وقت ملک میں دہشت گردی کی لہر جاری تھی۔ کے پی کے دہشت گردی کی سب سے زیادہ لپیٹ میں تھا، مگر اس کے باوجود کے پی کے میں آج امن کی صورتِ حال قائم ہے۔ لوگ سکھ، چین کی نیند سوتے ہیں۔ آج وہاں گولیوں، بم دھماکوں کی آوازیں نہیں، امن اور شانتی کی آوازیں آتی ہیں۔ نیلسن منڈیلا، مہاتیر محمد، رجب طیب اردوان نے برسر اقتدار آکر سڑکیں نہیں بنائی تھیں، عوام میں پڑی تفریق کو ختم کرکے جمع کیا۔ اسی لئے نیلسن منڈیلا، مہاتیر محمد، رجب طیب اردوان کو لوگ لیڈر مانتے ہیں اور عمران تم بھی ہمارے لیڈر ہو۔ تم نے اس مُلک کے بگڑے ہوئے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اس میں پھر سے جوش و ولولہ پیدا کیا، تمہارا شکریہ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے جب تک ہم لوگ ایک ملک، ایک قوم بن کر نہیں سوچیں گے، ہم آگے نہیں بڑھیں گے۔ عمران کا ساتھ نبھانے کے لئے ہمیں اس کی سوچ پر کام کرنا ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -