وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 60

28 مئی 2018 (12:41)

وجیہہ سحر

اسامہ، عمارہ، ساحل اور عارفین گاڑی سے تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ انہیں ایک بار پھر وہی سفید سائے دکھائی دئے جو ان کے قریب آکر غائب ہوگئے۔ ایک بار پھر ان کے دل تیزی سے تھڑکنے لگے مگر وہ رکے نہیں آگے بڑھتے رہے۔ جونہی وہ چند قدم آگے بڑھے ،وہ سفید سائے پھر نمودار ہوگئے او ر ان چاروں کے گرد دائرے کی شکل میں گھومے لگے۔ ہوا میں معلق اسی غیبی مخلوق نے ان چاروں کے گرد جیسے شیطانی طاقتوں کا دائرہ کھینچ دیا۔ ان کے قدم اپنی جگہ گڑھ گئے۔

وہ چاروں گھبرائے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ان کے دماغ بھی جیسے کسی پراسرار قوت نے جکڑ لیے وہ کچھ پڑھنا چاہتے تھے مگر انہیں کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔وہ تین سفید سائے آہستہ آہستہ زمین کی طرف بڑھنے لگے اور پھر وشاء حوریہ اور فواد کے روپ میں تبدیل ہوگئے۔

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 59 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس بار ان کے روپ مختلف تھے۔ ان کے جسموں پر کفن تھا۔ چہرے زندگی کے نور سے عاری تھے وہ بالکل اس طرح تھے جیسے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ آئے ہوں ان کے چہرے کی جلد سفیدی مائل تھی ہونٹ سلیٹی اور آنکھیں سیاہ حلقوں میں دھنسی ہوئی تھیں۔

ان چاروں نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا اور اس کے بعد وہ نظریں اوپر نہ اٹھا سکے۔ فواد کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔’’ہمیں غور سے دیکھ لو اس روپ میں اس لیے تمہارے سامنے آئے ہیں کہ کچھ دیر بعد تمہارا بھی یہی حال ہوگا تمہاری موت یقینی ہے مگر تم لوگوں کو تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا مگراب بس۔۔۔تم اپنی زندگیوں کو خیر باد کہہ دو۔‘‘

وشاء اور حوریہ کے بدہیت چہروں پہ شیطانی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ وہ تینوں اوپر کی طرف اڑے اور فواد نے انگلی سے ان کی طرف اشارہ کیا ان کے گرد دائرے کی شکل میں آگ بھڑک اٹھی۔

ان چاروں نے اس دائرے سے نکلنے کی کوشش کی مگر ان کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے تھے۔ وہ تینوں شیطان ہمزاد فضامیں معلق ان چاروں کی بے بسی پر مسکرا رہے تھے۔

**

ساجد زرغام کے لیے گلاس میں اورنج جوس ڈال کے کھڑا تھا۔ وہ کیبنٹ کے قریب کھڑا گہری سوچ میں گم تھا۔ اس کا ذہن اسے جس کام کے لیے مجبور کر رہا تھا اس کے لیے وہ خود میں حوصلہ پیدا نہیں کر پا رہا تھا۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔

زرغام اپنی گرج دار آوا ز میں چلایا’’ساجد۔۔۔‘‘ ساجد نے مزید کچھ اور نہ سوچا اس نے کیبنٹ سے زہر کی شیشی نکالی اور چار قطرے اس زہر کے اورنج جوس میں ملا دیئے۔ اس نے چمچ سے ایک دفعہ اسے مکس کیا اور پھر اورنج جوس لے کر زرغام کے کمرے میں چلا گیا۔

زرغام کپڑے تبدیل کر چکا تھا وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا۔ اس نے ساجد سے گلاس لیا اور سٹول پر بیٹھ کر جوس پینے لگا۔

جوس پیتے ہوئے اسے کسی قسم کا براذرائقہ محسوس نہیں ہوا مگر تھوڑی ہی دیر میں زہر نے اثر کرنا شروع کر دیا۔ زرغام کا گلا چرنے لگا وہ اپنا گلا تھام کر اکٹھا سا ہوگیا۔ زہر آہستہ آہستہ اس کی رگوں میں پھیل گیا جس سے اس کے پیٹ میں ایسا درد اٹھا کہ وہ مچھلی کی طرح تڑپتا ہوا سٹول سے نیچے گر گیا۔۔۔اس نے اپنی دہکتی ہوئی سرخ آنکھوں سے ساجد کی طرف دیکھا۔

ساجد سر جھکائے کھڑا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مارے تکلیف کے زرغام کی زبان گنگ ہوگئی تھی۔ مگر اس کی آنکھیں ساجد سے سوال کر رہی تھیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔

زہر بہت تیز تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ زرغام کے سارے خون میں پھیل گیا۔ زرغام کا چہرہ سیاہ ہوگیا ۔منہ سے جھاگ نکلنے لگی اور پھر وہ ساجد کی آنکھوں کے سامنے ہی تڑپ تڑپ کے مر گیا۔

ساجد اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اچانک ہی کمرے کی چیزیں ادھر ادھر گرنے کی آوازیں ساجد کی سماعت سے ٹکرائیں تو اس نے حیرت سے اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے۔

اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں اس کی آنکھوں کے سامنے زرغام کھڑا تھا۔ ساجد نے فوراً زمین کی طرف دیکھا ۔زرغام کی لاش جوں کی توں پڑی تھی۔ سامنے کھڑا ہوا بھی زرغام ہی تھا مگر اس کا جسم باطنی اورغیر مرئی تھا اور زندگی سے بھرپور زرغام کی طرح ہشاش بشاش تھا۔

ساجد کے پورے جسم سے کپکپی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ قاتل بن کر اپنے ہی مقتول کے سامنے کھڑا تھا۔ موت سے پہلے ہی زندگی ان کے ہاتھوں سے چھوٹنے لگی تھی۔

زرغام کے ا س باطنی وجود کی آنکھوں میں وہی غصہ تھا جو موت سے کچھ دیر پہلے زرغام کی آنکھوں میں تھا۔ اس نے ساجد کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا تو ساجد کا جسم روئی کے گولے کی طرح ہوا میں اڑنے لگا وہ اسکے جسم کو چھت تک لے گیا اور پھر اس نے اپنے ہاتھ کو زور سے جھٹکا دیا۔ اس نے ساجد کو چھت سے زمین پر پٹخ دیا۔

کمرے کی زمین ساجد کے لہو میں رنگ گئی۔ وہ بوڑھا کمزور شخص ایک ہی جھٹکے میں لقمہ اجل ہوگیا ۔وہ ہوائی جسم جو انتہائی طیش میں تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے کی طرف بڑھا اور اسے چکنا چور کرکے غائب ہوگیا۔

****

اسامہ، عمارہ ، ساحل اور عارفین بری طرح آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ اب ان کے جسموں کا آگ سے فاصلہ معمولی رہ گیا تھا۔ حوریہ اور وشاء کی اذیتوں پر ہنس رہے تھے۔ایک ہی ساعت میں نہ جانے ایسا کیا ہوا وہ تینوں غائب ہوگئے اور آگ بھی خود بخود بجھ گئی۔ ان چاروں نے تشکر آمیز نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا۔

’’اس اچانک تبدیلی کا کچھ بھی مطلب ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی گاڑی بھی چیک کرنی چاہئے۔‘‘اسامہ نے کہا۔

’’مشکل ہے کہ گاڑی سٹارٹ ہو مگر تم تسلی کر لو۔‘‘ ساحل نے بے دلی سے کہا۔

اسامہ بڑے یقین کے ساتھ گاڑی کی طرف بھاگا گاڑی کے قریب پہنچ کر اس نے گاڑی میں چابی لگائی۔ گاڑی پہلے سلف سے ہی سٹارٹ ہوگئی۔

’’ہرے۔۔۔‘‘ اس نے خوشی سے نعرہ لگایا۔

ان تینوں نے گاڑی کی آواز سنی تو وہ بھی دوڑتے ہوئے گاڑی کے قریب آگئے۔

’’جلدی سے بیٹھو ! یہاں سے نکلتے ہیں۔۔۔‘‘

اسامہ نے ٹھیک طرح سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے کہا۔ عمارہ کا سر گاڑی کے دروازے سے ٹکرایا تو غصے سے بولی’’آہستہ چلاؤ۔۔۔کیا کر رہے ہو۔‘‘

’’تم سنبھل کر بیٹھو جتنا جلدی ہو سکے ہمیں اس علاقے سے نکلنا چاہئے۔‘‘

پندرہ بیس منٹ کے بعدہی وہ مین روڈ پر آگئے۔ اسامہ تیز سپیڈ سے گاڑی دوڑاتا رہا۔

تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد وہ زرغام کے گھر تک پہنچ گئے یہ ویران اور سنسان علاقہ تھا۔ انہیں اکا دکا گھر ہی نظر آئے جو ایک دوسرے سے کافی فاصلہ پر تھے۔ تاحد نظر خالی زمینیں ہی زمینیں تھیں جن میں سر کنڈے اور گندم کی فصل کھڑی تھی۔شیشے اور میٹل سے بنے سلور کلر کے گیٹ کی طرف اسامہ نے اشارہ کیا۔’’وہ سامنے زرغام کی کوٹھی ہے۔‘‘

’’مگر ہم اندر کیسے داخل کیسے ہوں گے؟‘‘ عمارہ اسامہ کے قریب کھڑی ہوگئی۔

’’اندر جانے کے بارے میں سوچتے ہیں پہلے تم تینوں اپنی تیاری مکمل کرو اپنے بیک بیگ پہن لو اور اپنی پسٹل لوڈ کر لو۔۔۔پھر بتاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے اپنی پسٹل بھی لوڈ کی اور ان تینوں نے بھی اپنی پسٹلز لوڈ کر لی۔

ساحل اپنا بیگ سیٹ کرتے ہوئے اسامہ کی طرف بڑھا۔’’یہ جو کوٹھی کے ساتھ چھوٹا سا فلیٹ ہیے۔۔۔‘‘

’’یہ زرغام کے ملازم ساجد کا فلیٹ ہے۔‘‘ اسامہ نے بتایا۔

’’کوئی یہاں سے ایک دم باہر آگیا ارو اس نے ہمیں دیکھ لیا تو ۔۔۔‘‘ ساحل نے ایک بار پھر اس فلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔

’’جو ہوگا دیکھا جائے گا فی الحال ہمیں کوٹھی میں داخل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘

عارفین نے اسامہ کی جگہ جواب دیا۔ اسامہ نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر ان تینوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ چاروں ایک گھر کی دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہوگئے۔

اسامہ نے سرگوشی کے انداز میں بولتے ہوئے زرغام کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔’’سامنے اوپری منزل میں دو کمرے ہیں جن میں سے ایک اس کا بیڈ روم ہے اور دوسر اوہ خاص کمرہ جہاں وہ عمل و گیان کرتا ہے ہمیں کسی بھی طرح دونوں میں سے کسی بھی کمرے میں داخل ہونا ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے‘‘ یہ کہہ کر ساحل نے عمارہ اور عارفین کو سمجھایا’’بہت احتیاط سے ہمیں اوپری منزل میں داخل ہونا ہے۔‘‘

اسامہ نے اپنے بیگ سے رسی نکالی جس کے ساتھ کانٹا لگا ہوا تھا۔

وہ چاروں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہوئے زرغام کی کوٹھی کے بیک سائیڈ کی طرف بڑھے اسامہ نے بالکونی کی گرل کی طرف کانٹا اچھالا۔ پہلی ہی بار میں کانٹا گرل کے ساتھ اٹک گیا۔ 

اسامہ کو تو اس طرح کے کاموں کی خاص ٹریننگ تھی مگر ساحل اور عارفین نے بھنویں اچکاتے ہوئے اوپر کی طرف دیکھا اور پھر عارفین نے لب تر کرتے ہوئے پوچھا’’گرل تو پکی ہے نا۔۔۔‘‘

ساحل نے بیوقوفانہ انداز میں جواب دیا’’مجھ سے کیا پوچھتے ہو میں نے تھوڑی بنائی ہے۔‘‘

اسامہ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پہلے میں جاتا ہوں پھر تم لوگوں کو بلا لوں گا۔‘‘

یہ کہہ کر اسامہ کسی بندر کی طرح تیزی سے رسی سے لٹکتا ہو گرل تک پہنچ گیا۔

گرل کے بالکل ساتھ ہی اس خاص کمرے کی کھڑی تھی جہاں زرغام اپنا خاص عمل کرتا تھا۔ اس نے کھڑکی سے اندر جھانکا تو پردہ پیچھے ہٹا ہوا تھا جس کی وجہ سے کمرے کا ماحول صاف دکھائی دے رہا تھا۔ 

کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ اس نے اطراف میں بھی نظر دوڑائی آس پاس کوئی نہیں تھا۔ اس نے بالکونی سے نیچے جھانکتے ہوئے ان سب کو اوپر آنے کا اشارہ کیا اور خود اس جگہ کے قریب بیٹھ گیا جہاں کانٹا اٹکا ہوا تھا۔ ساحل اور عارفین تو آرام سے رسی سے اوپر آگئے مگر عمارہ کو یہ سب بہت مشکل لگ رہا تھا۔

اسامہ نے اسے اشارے سے سمجھایا کہ اگر کانٹا پھسل گیا تو وہ رسی تھام لے گا اس لیے وہ ہمت کرے۔

جب اس نے خود کو تنہا پایا تو ہمت کرکے رسی سے اوپر چڑھنے کی کوشش کرنے لگی بالآخر وہ بھی بالکونی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ ساحل نے کمرے کی ونڈو سے اندر جھانکا۔ ’’شیشے کی ونڈو ہے اندر جالی بھی نہیں لگی ۔ پیچ کھول کر آسانی سے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔‘‘

اسامہ نے نفی میں سر ہلایا’’کمرے میں کوئی نہیں ہے تو دروازہ باہر سے لاک ہوگا۔‘‘

’’لاک کھول لیں گے یار۔۔۔‘‘ عارفین نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔

’’اگر نہ کھول سکے تو ۔۔۔تم میرے پیچھے آؤ۔۔۔‘‘ اسامہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا دوسرے کمرے کی کھڑکی تک پہنچ گیا۔

اس نے ان تینوں کو ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ تینوں بھی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اسامہ کے قریب آگئے۔(جاری ہے)

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 61 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں