دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر54

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر54
دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر54

  

ہم انڈیا واپس لوٹ آئے۔سائرہ بانو کو اپنے دیش آکر اچھا لگا ۔وہ پھر سے گہماگہمی میں پڑنا چاہتی تھی۔کئی فلمیں اسکی شوٹنگ کی منتظر تھیں۔ ڈاکٹروں نے تنبیہ کررکھی تھی کہ سائرہ بانو کو کسی قسم کی پارٹیوں یا کھانے پینے کے پروگراموں میں انتہائی احتیاط کرنی ہوگی ۔اتنی احتیاط کہاں ہوسکتی تھی ۔صرف ایک ہی جگہ تھی ،میں اپنے بنگلے سے سڑک پار سائرہ بانو کے بنگلے میں اسکے ساتھ شفٹ ہوجاتا ۔وہاں سب سے زیادہ اسکا دھیان رکھا جاسکتا تھا ۔میں دیکھ رہا تھا کہ سائرہ بانو کا میری بہنوں کے ساتھ رہنا مشکل ہوجائے گا ۔یہ نازک اور کومل تھی لیکن میری بہنوں کا مزاج گرم تھا ۔اس لئے سائرہ بانو کو ہر طرح کی ڈپریشن سے بچانا ضروری ہوگیا تھا۔ 

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم نے ایک ا ور کام کیا کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹروں سے بھی رابطہ کیا اور چند ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر وں نے ہمارے ساتھ قیام کیا ۔وہ ادویات کے ردعمل کا انتظار کرتے اور بہتر دوا تجویز کرتے ۔ یہ بھی کارگر علاج تھا لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ سائرہ بانو کو مکمل پرسکون ماحول چاہئے تھا جو اسے اپنی والدہ کے گھر میں دستیاب ہوسکتا تھا ۔

ایک روز منوج کمار اپنی اہلیہ شوشی کے ساتھ ہمارے بنگلہ پر آئے ۔وہ سائرہ بانو سے پورب پچھم کے لئے اس سے ڈیٹس بھی لینا چاہتے تھے ۔شوشی اور سائرہ بانو دونوں بالائی منزل پر جانے کے لئے سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں کہ راستے میں میری بہن سے ٹاکرا ہوگیا ۔انہوں نے بڑی سختی سے سائرہ بانو کے ساتھ برتاو کیا ۔مجھے بڑی شرمندگی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔میری بہن کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔اس روز میں بڑا دلبرداشتہ ہوا۔میں نے اپنے بھائی ناصر خان کو بلایا ۔ایک وہی تھا جو میرے دل کے قریب تھا ۔میں چاہتا تھا کہ اسکے فلیٹ میں منتقل ہوجاوں یا سی این سینڈ ہوٹل میں رہائش اختیار کرلوں تاکہ سائرہ بانو کو ایسی کوفت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔حساسیت کی وجہ سے اسکے معدے پر اثر ہوتا تھا جس سے اسکی طبعیت خراب ہوجاتی تھی ۔

سائرہ بانو نے سنا تو اس نے ہمیں منع کردیا کہ ہم ایسی باتوں پر پریشان نہ ہوں ،یہ گھریلو نوعیت کی باتیں ہیں جن کو زیادہ بڑا نہیں بنانا چاہئے ۔اس کا یہ ظرف قابل دید تھا ۔اس نے رشتوں کو جوڑے رکھنے پر زور دیا جبکہ دوسری جانب میرے گھر والوں کا عجیب رویہ تھا ،اسکی باز پرس کرنا وغیرہ ایسے کام جو بے معنی تھے۔

اپنے گھر میں سائرہ بانو کو نہ رکھنے میں ایک اہم بات تھی اسکا پروٹوکو ل ۔وہ حفظ مراتب کی قائل تھی جبکہ مجھے کسی سے ملنا ہوتا تو جھٹ تیار ہوجاتا تھا ۔لیکن اسکو اپنی تیاری میں وقت درکار ہوتا تھا ۔وہ حفظ مراتب کے ساتھ تقریبات میں جایا کرتی تھی اور یکایک کسی سے نہیں ملتی تھی ۔اسکو پہلے وقت چاہئیے ہوتا تھا تیار ہونے میں جو ہمارے گھر میں اسکو دستیاب نہیں ہوسکتا تھا ۔میری بہنیں باتھ رومز پر قبضہ کرلیتی تھیں اور سائرہ کو ان کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ 

نسیم آپا نے ہماری صورتحال دیکھتے ہی ہمارے لئے تین ڈیپ فریزرز کا بندوبست کردیا جو کھانوں سے کھچاکھچ بھرے ہوتے تھے ۔میں اپنے مہمانوں کے لئے دل کا دروازہ کھول کر رکھتا تھا ۔میرے پاس کوئی بھی دوست اور پوری کرکٹ ٹیم بھی آسکتی تھی جس کے لئے میں عین وقت پر کہتا کہ ان کے لئے کھانا تیار کیا جائے تو سائرہ بانو کے گھریلو ملازمین حیرت انگیز پھرتی کا مظاہرہ کرتے ۔یہ پینتالیس سال سے انکے ساتھ تھے اور بڑے خوش تھے ۔یہ نورجہاں ،تاعظیم،نربدا،کویتا سب مہمانوں کے مکمل پروٹوکول اور سلیقہ سے آگاہ تھے ۔

میں سنجیدہ مشہور ہوں لیکن شرارت کرنے سے بھی نہیں چوکتا تھا ۔جن دنوں ہم تنہا کسی دور جگہ پر ہوتے تو میں کوئی نہ کوئی شرارت کرہی دیتا ۔ایک بار پان بالہ جو جنوبی مہاراشٹر میں واقع ہے ہمارا وہاں قیام تھا ۔ان دنوں (1967) بجلی ان علاقوں میں منقطع ہوجایا کرتی تھی ۔میں رات کو ننگے پاوں باہر نکلتا اور چھوٹے چھوٹے پتھر اس کمرے کی کھڑکیوں کی جانب پھینکتا جہاں سائرہ موجود ہوتی تھی ،پھر پتھروں کو دور پتھروں پر پھینکتا تو اس سے جو آواز پیدا ہوتی مجھے بڑی بھلی لگتی ۔سائرہ ان آوازوں کو سن کر خوف سے کانپ جاتی کہ نہ جانے یہ اس پہر کون ہے جو یہ یہ حرکتیں کررہا ہے ۔

ہم دونوں پہاڑی راہ گزر پر چہل قدمی بھی کرتے ۔جب کافی دور جاچکے ہوتے ،درختوں کا سلسلہ رواں ہوجاتا تو میں ڈرامائی انداز میں رک جاتا ،چہرے کے تاثرات تبدیل کرتااور پراسراریت کے انداز میں اسکی جانب دیکھتا اور کہتا ’’تم جس شخص کے ساتھ چل رہی ہو ،اسکے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ،کیا یہ تمہارا خاوند ہے جو کہ نہیں ہے اور تم ۔۔۔‘‘ سائرہ میرا یہ انداز دیکھ کر یکایک گھبراجاتی ،رنگ فق ہوجاتا ۔

ایک بار تو میں نے ایسی خوفناک شرارت کردی کہ سائرہ مرتے مرتے بچی۔1968 کی بات ہے ،اس روز ہم بنگلور ائرپورٹ سے ویسٹ اینڈ ہوٹل میں جارہے تھے ۔یہاں میرا ایک پسندیدہ سوٹ تھا ۔ناشتہ وغیرہ کرکے ہم نورجہاں کا انتظار کرنے لگے جس کو ہمارا سامان لیکر آنا تھا ۔یکایک میں غائب ہوگیا ۔سائرہ مجھے ڈھونڈتی رہ گئی میں کہاں چلا گیاہوں ۔جب نورجہاں سامان لیکر آئی تو دونوں سامان اٹھا کر الماری کی طرف آئیں ،جونہی وہ الماری کا پٹ کھولنے لگیں ،میں شیر کی طرح دھاڑتا ہوا باہر کودا ،دونوں کی بے ساختہ دہشت میں ڈوبی آوازیں گونجیں،نورجہاں تو بے ہوش ہوکر گر گئی اور سائرہ کا خوف سے چہرہ نچڑ گیا۔اس ٹرپ کے بعد جب ہم واپس آئے تو نسیم آپا نے مجھے سمجھایا ’’ یوسف بیٹا سائرہ بہت ڈرپوک اور شرمیلی ہے ،کسی روز تمہاری ایسی شرارت سے اسکے دل کی دھڑکن رک ہی جائے گی ۔ایسی مہلک شرارت نہ کیا کرو ‘‘ 

میں یہ شرارتیں اسکو دلیر بنانے کے لئے کررہا تھا ،جلد ہی وہ میرے رنگ میں ڈھل گئی ۔پہلے سے بہت بہتر ہوگئی اور مجھ پر شرارت سے جوابی حملے کرنی لگی ۔میں بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ بہادر اور بے خوف ہوجائے ۔

(جاری ہے ) 

مزید : کتابیں /میں ہوں دلیپ کمار