بی جے پی کی کامیابی اور اثرات

بی جے پی کی کامیابی اور اثرات
بی جے پی کی کامیابی اور اثرات

  

آج کے موضوع پر کچھ لکھنے سے پہلے قارئین کو یاد کروانا چاہتا ہوں کہ تقریبا ً ایک ماہ پہلے اپوزیشن کی جس تحریک کے آغاز کا عندیہ دیا تھا وہی کچھ ہونے جا رہا ہے یعنی اپوزیشن کی جماعتیں اے۔ پی۔ سی کے پلیٹ فارم سے ایک مشترکہ حکومت مخالف تحریک چلانے کا آغاز کر رہی ہیں۔ جبکہ دراصل اس میں میرے نزدیک حکومت کو گرانے سے زیادہ پریشر میں لانا مقصود ہے تاکہ حکومت، نیب، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو بیک وقت باور کروایا جائے کہ کسی قسم کے احتساب کی صورت میں اپوزیشن کا اتحاد موجودہ حکومت کو گرانے اور ناکام بنانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ گویا کہ یہ وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی حکومت کیلئے نہایت کڑا وقت ہوگا خصوصاً جب ڈالر ملکی تاریخ بلند ترین سطح پر اور اسٹاک ایکسچینج اور دوسرے مالیاتی اعشارئیے بھی کوئی اچھی نوید نہ رکھتے ہوں لیکن اگر حکومت کسی طرح اِس پریشر سے گزر گئی اور صحیح احتساب کو جاری رکھ سکی تو بِلا شبہ یہ حکومت آئندہ آنے والے سالوں میں مضبوط سے مضبوط تر ہو جائیگی۔

اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف یعنی بھارتی وزیر اعظم مودی اور بی۔ جے۔ پی کی حالیہ انتخابات میں واضح کامیابی اور اِسکے آنے والے دِنوں میں خطے پر پڑنے والے اثرات کی طرف۔ گو کہ ساری دنیا یہ جانتی ہے کہ پاکستان پر جنگی ہیجان کی کیفیت برپا کرکے نریندر مودی نے مطلوبہ مقاصدحاصل کر ہی لیے ہیں موجودہ انتخابات میں واضح کامیابی نے در اصل سیکولر بھارت کی واضح نفی کر دی ہے۔ اب موجودہ ہندوستان نہ تو گاندھی کی آئیڈیالوجی کا حامل رہا ہے اور نہ ہی نہرو کی کانگریس کی نظریاتی سیاست کا حامل رہا ہے جس میں تمام اقلیتوں اور مذاہب کے تحفظ کی بات کی گئی تھی۔ موجودہ ہندوستان دراصل ہندو شدت پسند تنظیم آر۔ ایس۔ ایس کا ہندوستان بن گیا ہے جس میں ہندو اتوا کا پرچاراور اکھنڈ بھارت کا تصور اور ہندوستان کا ایک مکمل ہندو مذہب کا حامل ملک بننا شامل ہے اور اِ س انتہائی نفرت پر مبنی ایجنڈے میں ہندوستان میں بسنے والے مسلمان اولین نشانہ ہیں۔

موجودہ انتخابات میں بی۔ جے۔ پی کی کامیابی اور بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی مٹتی ہوئی نمائندگی اِس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے پانچ سال بھارت کے مسلمانوں لئے نہایت کٹھن سال ہوسکتے ہیں۔جیسا کہ بھارت کے مشہور مسلمان سیاستدان اسد الدین اویسی نے اپنی مختلف تقاریر میں کہا کہ ہندوستان کے قیام یعنی 1947؁ء سے لیکر آج تک بھار ت میں بسنے والے مسلمان کبھی اتنے غیر محفوظ نہیں ہوئے جتنے آج ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو اور اُن کو ہندوشدت پسندوں سے محفوظ رکھے۔ بھارت میں مسلمانوں کی اِس کمزوری کی ایک وجہ اُن کا اندرونی خلفشار اور اختلاف بھی ہے۔ مسلمانوں کو آج ایک بار پھر ہندوستان میں خاکسار تحریک جیسی منظم جماعت کی ضرورت ہے جو کہ آر۔ ایس۔ایس کے غنڈوں کے دلوں میں خوف بٹھا سکے۔

بظاہر بھارت کا جنگی جنون فی الحال ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے لیکن اہل نظر کے نزدیک یہ صرف عارضی ہے یعنی مودی اور اسکی حکومت امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ کے ساتھ پاکستان پر کاری وارکرنے کیلئے پھر سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔حالیہ کشیدگی میں ہماری مسلح افواج خصوصاً ائیر فورس نے جس طرح بھارت کو دھول چٹائی ہے۔ وہ ہندو بنئے کیلئے بد ترین شرمندگی اور سبکی ہے۔ الحمد للہ مو دی کے انتخابات میں کامیابی والے دن ہی پاکستان نے ایٹمی صلاحیتوں کے حامل شاہین ٹو کا تجربہ کرکے بھارت سمیت پاکستان کے سب دشمنوں کو ایک پیغام دے دیا ہے اور وہ پیغام بہت واضح اورواشگاف ہے یعنی پاکستان پر اُٹھنے والی ہر بری نظر اور پاکستان کیخلاف ہونے والی ہر کارروائی کا جواب اُتنی ہی زیادہ شدت سے دیا جائے گا۔

آئندہ آنیوالے کچھ ہفتوں میں بھارتی عزائم زیادہ واضح اور کھل کر سامنے آجائیں گے اِس کی بڑی وجہ پاکستان کی اندرونی سیاسی صورتحال اور معاشی کمزوری سے فائدہ اُٹھانا بھی ہوسکتا ہے۔ گوکہ پاکستان نے امریکہ سمیت پوری دنیا پرواضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور علاقے میں بھارت کی بالا دستی کی کسی بھی کوشش پر بھرپور مزاحمت کرے گا اور خطے میں امن صرف پاکستان کی اہمیت تسلیم کرنے سے ہی مشروط ہے اور یہی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

بی جے پی کی کامیابی دائیں بازو کی جماعتوں کی پہلی کامیابی نہیں ہے، اگر پوری دنیا پر نگاہ ڈالی جائے تو 9/11، 2001کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف جو نفرت پھیلائی گئی ہے اور اُسکے بعد باقاعدہ منظم انداز میں جس طرح دائیں بازو یا شدت پسند مسلمان مخالف نظریات کو فروغ دیا گیا ہے۔ اُ س کے نتیجے میں ہی دنیا کے بہت سارے ممالک میں شد ت پسند یا مسلمان مخالف قوتوں کو اقتدار ملا ہے۔ جس میں امریکہ میں صدر ٹرمپ کی واضح کامیابی شامل ہے۔

امریکی صدر کی ساری الیکشن کمپین مسلمان مخالف تقاریراور جذبات پر مبنی تھی اور اُس کا مرکز سفید فام شدت پسند نظریات کا پرچار تھا۔ اِسی طرح برطانیہ اوریورپ میں بھی مسلمان مخالف اور شدت پسندنظریات کو واضح کامیابیاں ملی ہیں ترقی یافتہ ممالک میں نیوزی لینڈ اور کینیڈا وہ دو ممالک ہیں جہاں ابھی اعتدال پسند جماعتیں حکمران ہیں لیکن آنیوالے سالوں میں وہاں بھی کیا ہو جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا، رہی بات بر صغیر کی اور ہمارے خطے کی تو ہمیں بحیثیت قوم یہ بات اب جان لینی چاہیے کہ ہمارا ہمسایہ بھارت کسی وقت کوئی بھی شرارت کر سکتا ہے۔

مزید : بلاگ