کیس کی تیاری نہ کرنے پر ڈپٹی پراسیکوٹر عدالت سے آﺅٹ ‘ ماحول گرم

کیس کی تیاری نہ کرنے پر ڈپٹی پراسیکوٹر عدالت سے آﺅٹ ‘ ماحول گرم

  



ملتان(خبرنگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے کیس کی تیاری کر کے نہ آنے پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کو عدالت سے باہر نکلوا دیا۔ (بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

جبکہ سینئر پراسیکیوٹر بھی عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ سینئر پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپلیمنٹری کیسز کی تاریخ دفتر ٹائم کے بعد فکس ہوتی ہے اس لئے انہیں ریکارڈ بھی نہیں مل پاتا اور نہ ہی وہ تیاری کر سکتے ہیں اگر فاصل عدالت حکم دے تو ریکارڈ منگوایا جاسکتا ہے۔ فاضل جج نے پراسیکیوٹر جنرل کی بات سے بھی اتفاق نہیں کیا اور انہیں عدالت سے نکال دیا۔ سینئر وکیل سید اطہر شاہ بخاری نے اس صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے مداخلت کی اور کہا کہ ہمیں رمضان المبارک صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے معمولی کوتاہیوں کو درگزر کرنا چاہیے مگر فاضل جج پراسیکیوشن کے شعبے سے خاصے نالاں تھے اور غصے میں کہا کہ اس طرح کے پراسیکیوٹر پتہ نہیں کہاں سے آجاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک خاتون کی درخواست ضمانت پیش ہوئی جس کو فرضی بیوہ قرار دے کر نکاح خواں سمیت ایک مقدمہ میں ملوث کردیا گیا تھا۔ پٹیشنر کا موقف یہ تھا کہ متوفی کی بیوہ ہونے کی دو خواتین دعویدار ہیں جس کا مقدمہ سول عدالت میں زیرسماعت ہے۔ جب تک عدالت کسی ایک کے حق میں فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک غلط اور درست کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی کے خلاف فوجداری کارروائی کی جاسکتی ہے۔

آوٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...