عدالت عظمی میں ای کورٹ سسٹم کا آغاز، 4مقدمات کی سماعت

عدالت عظمی میں ای کورٹ سسٹم کا آغاز، 4مقدمات کی سماعت

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  سپریم کورٹ میں ای کورٹ سسٹم کے تحت باضابطہ مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوگیا، اس طرح پاکستان کی عدالت عظمی ای کورٹ سسٹم رکھنے والی دنیا کی پہلی سپریم کورٹ بن گئی ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ویڈیو لنک پر کراچی میں موجود وکلا کو مبارک باد دی، انہوں نے کہا کہ آج عدالتی تاریخ میں نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں، ہم آج سستے اور فوری انصاف کی آئینی ذمہ داری کی جانب اہم قدم اٹھارہے ہیں، وکلا کے تعاون سے ہم نئی چیز کرنے جا رہے ہیں، دنیا کی کسی سپریم کورٹ میں ای کورٹ سسٹم موجود نہیں،ای کورٹ سسٹم سے سائلین کے وقت اور پیسے کی بچت ہوگی، آئی ٹی کمیٹی کے انچارج جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منصورعلی شاہ مبارک باد کے مستحق ہیں،چیئرمین اور ڈی جی نادرا نے دن رات محنت کرکے اس سسٹم کو ممکن بنایا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ملکی تاریخ میں پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کر رہا ہے اور اعلیٰ عدالت کو 4 مقدمات کی سماعت بذریعہ ویڈیو لنک کرنا ہے۔ابتدائی طور پر ای مقدمات کی سہولت اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے لیے دستیاب ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آئی ٹی کمیٹی کے ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر عالم کو خراج تحسین پیش کیا اور چیئرمین نادرا اور ڈی جی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بڑا قدم ہے، 'ای' کورٹ سے کم خرچ سے فوری انصاف ممکن ہو سکے گا،جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ای کورٹ سسٹم سے آج کے دن سائلین کے20 سے25 لاکھ بچ گئے، وکلا بزنس کلاس میں سفرکرتے اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں، سائلین کے خرچ پر وکلا اسلام آباد میں کھانے بھی کھاتے ہیں دنیا بھر میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہی 'ای' کورٹ سسٹم کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ 'ای' کورٹ سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، اس سسٹم کو پورے پاکستان تک پھیلائیں گے اور اگلے مرحلے میں کوئٹہ رجسٹری میں ای کورٹ سسٹم شروع کریں گے۔سپریم کورٹ اسلام آباد سے کراچی رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے قتل کیس کے ملزم نور محمد کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس کے دوران ملزم کے وکیل یوسف لغاری ایڈووکیٹ نے درخواست پر دلائل دیے۔عدالت نے قتل کے ملزم نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی جس کے خلاف پولیس سٹیشن شاداب پور میں 2014 میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا 'عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے قتل کیا، اس کیس کے نامزد ملزمان اس واقعے میں ملوث نہیں اور مقامی پولیس نے کیس کی تفتیش میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا'۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا شریک ملزمان غلام حسین اور غلام حیدر پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست پر تاخیر سے فیصلے  کا چیف جسٹس نے نوٹس بھی لے لیا اور کہا کہ 2014 میں وقوعہ ہوا، ٹرائل کورٹ نے 2016 میں ضمانت خارج کی اور سندھ ہائیکورٹ نے 2016 سے 2019 تک درخواست ضمانت کا فیصلہ نہیں کیا، اس طرح کے معاملات ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہیں۔عدالت نے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ہدایت کی کہ وہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی کاپی لیں جب کہ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے ججز کی ضمانت اپیلوں کی فیصلوں سے متعلق 2 ہفتوں میں رپورٹ بھی طلب کرلی۔چیف جسٹس نے کہا رپورٹ چیئرمین جوڈیشل کونسل کو 2 ہفتوں میں بھیجیں تاکہ مناسب اقدام کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اقدام قتل کے 2 ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج کردیں جس کے بعد سندھ پولیس نے کراچی رجسٹری سے ارباب اور مشتاق نامی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے 'قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے، دفعہ 324 میں ارادہ قتل سے حملہ کرنے کی سزا 10 سال ہے، حملے کے نتیجے میں اگر زخم آئے تو اس کی سزا الگ ہوگی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا اقدام قتل کا کیس قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے، حملہ آور کی نشاندہی زخمی کرسکتا ہے مقتول نہیں۔

ای کورٹ سسٹم

مزید : صفحہ اول


loading...