ہوم اکنامکس یونیورسٹی وائس چانسلر تعیناتی، وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل

  ہوم اکنامکس یونیورسٹی وائس چانسلر تعیناتی، وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل

  



لاہور (پ ر) لائبریری سائنس کی پروفیسر ڈاکٹر کنول امین کو ہوم اکنامکس یونیورسٹی جیسے ٹیکنیکل اور پیشہ وارانہ تعلیم وتربیت کےلئے مخصوص ادارے کی وائس چانسلر لگانے کی سفارش، پی ٹی آئی حکومت کی اعلان کردہ میرٹ پالیسی کے منافی ہے۔ گورنر پنجاب پہلے ہی ایسی سمری مسترد کر چکے ہیں کچھ عناصر دوبارہ ایسی ہی سمری بھجوانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ہوم اکنامکس کالج کی اولڈ سٹوڈنٹس نے وزیراعظم پاکستان کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ 1955ءسے قائم ھوم اکنامکس کالج خواتین کو مخصوص پیشہ وارانہ مہارتوں سے آراستہ کر رہا ہے۔ وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ہوم اکنامکس یونیورسٹی کو شروع ہونے سے پہلے ہی تباہی سے بچانے کےلئے ضروری ہے کہ یہاں وائس چانسلر کا تقرر میرٹ پر ہو۔ اخبارات میں دیئے گئے اشتہار میں بھی اس یونیورسٹی کو ”خصوصی یونیورسٹی“ قرار دیا گیا تھا۔ وائس چانسلر کی پوزیشن کےلئے 16امیدواروں نے درخواستیں دی تھی۔ سرچ کمیٹی نے تین امیدواروں بشمول ڈاکٹر کنول امین، ڈاکٹر سامع کلثوم اور ڈاکٹر انیلہ کمال کو شارٹ لسٹ کیا۔ ان میں صرف ڈاکٹر سامع کلثوم کا تعلق ھوم اکنامکس کے شعبے سے ہے۔ سامع کلثوم نے 38سال ھوم اکنامکس کالج میں خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے ادارے کی پرنسپل کے طور پر یہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کلاسز کا اجرا کیا۔ گورنر پنجاب نے ڈاکٹر کنول امین کو وائس چانسلر لگانے کی سمری مسترد کردی ہے۔ اولڈ سٹوڈنٹس نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ میرٹ کا بول بالا ہو۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...