بات کہنے کا ہنر

بات کہنے کا ہنر
بات کہنے کا ہنر

  



یاسر پیرزادہ معروف استاد، شاعر، ادیب، صحافی اور ڈرامہ نویس، کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی کے فرزند دلبند ہیں۔ بڑے باپ کا بیٹا ہونا ’اعزاز‘ اپنی جگہ لیکن اس سے کہیں زیادہ ایک امتحان ہوتا ہے۔ بالعموم بڑے والدین کی اولاد، جیسا کہ ہم دیکھتے چلے آتے ہیں، کوتاہ قامت ہوتی ہے، اگر نسبت کا حوالہ درمیان میں سے نکال دیا جائے تو کچھ بھی باقی نہیں بچتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ پیرزادہ نے ان کے نام کو دھبہ نہیں لگایا، بلکہ عزت میں کچھ اضافہ ہی کیا ہے۔ روزنامہ ”جنگ“ میں چھپنے والا ان کا کالم ”ذرا ہٹ کے“ اپنی شناخت رکھتا ہے۔ پاکستانیوں کے ’مغالطے‘ ان کے کالموں کا چوتھا مجموعہ ہے، جسے پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یاسر پیرزادہ صرف لکھتے ہی نہیں پڑھتے بھی ہیں۔ وگرنہ کالم نگاروں میں پڑھنے کا رواج خال خال ہے۔ گویا مطالعہ ان کی شان اور آن بان کے منافی ٹھہرا۔

یاسر پیرزادہ نے کون سے موضوع پر قلم نہیں اٹھایا؟ تجزیہ، تبصرہ، محاکمہ، تحقیق، تنقید، طنز، مزاح! ادب، مذہب، سائنس، تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تصوف!! انہیں بات کہنے کا ہنر بھی خوب آتا ہے۔ سادہ اسلوب! تکلف نہ تردد!! وہ کہیں بھی الفاظ کے پیچوں میں نہیں الجھے۔ سیدھے سبھاؤ اپنی بات کو دل و دماغ تک پہنچا دیتے ہیں۔

کتاب کا آغاز ”کچا پکا دیباچہ“ سے ہوتا ہے۔ کالم نگار یا مصنف کی شگفتہ مزاجی پر پختہ سند ہے! ”مضامین پطرس“ میں موجود اظہاریہ کے رنگ و آہنگ جیسا، مگر مختلف!! گاہ گاہ ان کے نقطہ ء ہائے نظر سے واضح طور پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ گو انہوں نے اپنے تئیں خوب استدلال سے کام لیا ہے۔باوصف اس کے یہ آخری دلیل نہیں۔ آخری دلیل وہ ہوتی ہے، جس کے بعد اس امر کی کوئی گنجائش موجود نہ رہے۔ بہرطور ان کے اخلاص سے انکار ممکن نہیں۔ ان کے طرزِ نگارش میں گہرائی ہی نہیں گیرائی کا بھی شدید عنصر شامل ہے۔

مصنف کا مقصد فقط کالم نگار کے طور پر سامنے آنا نہیں، جیسا کہ عام طور پر اس شعبے میں رواج پا گیا ہے، بلکہ اپنے قارئین کو کچھ دینا ہے، سو انہوں نے اپنی نگارشات میں فکر و شعور کی سوغات بانٹی ہے۔ کئی کتابوں کو کشید کیا اور اپنے کالموں میں سمو کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہیں بھی طبع زاد یا غیر طبع زاد ”کہانیوں“ کا تانا بانا نہیں بُنا اور نہ ہی کسی کالم کا پلاٹ فرضی قصوں پر بنایا ہے۔ اب تک کالموں کے متعدد مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ زندہ اور مردہ مجموعے! اچھی کتاب کی تعریف کیا ہے؟ یہاں اس بارے میں اظہار خیال اضافی ہو گا۔ تاہم اپنے ہاں ایسی کتابیں بھی چھپنے اور بکنے کے ریکارڈ قائم کرتی رہی ہیں، سرے سے جن کو کتاب کہنا ہی غلط ہے، مثلا پارلیمنٹ……!

میرے مشفق و مکرم کالم نگار رائے ارشاد کمال کہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی لکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم یاسر پیرزادہ کی اس کتاب پر انہوں نے بھی زبان کھولی اور خوب خراج تحسین پیش کیا ہے!

مزید : رائے /کالم


loading...