بیماری ساتھ کر دی جاتی ہے

بیماری ساتھ کر دی جاتی ہے
بیماری ساتھ کر دی جاتی ہے

  



لاڑکانہ میں جس انداز اور سطح پر ایڈز اور ایچ آئی وی پازیٹو کے شکار افراد کی نشان دہی ہوئی ہے وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ انتظامی سطح پر پاکستان کن کوتاہیوں کا شکار ہے۔ جب مریضوں کی تعداد کسی کے تصور سے زیادہ نکلی تو تدابیر اختیار کرنے کی فکر لاحق ہوئی ہے۔ محکمہ صحت اور صحت سے متعلق تمام اداروں کو بنیادی فکر یہ لاحق کہ ایک علاقے رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی پازیٹو کے مریضوں خصوصا بچوں کے علاج کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ رتو ڈیرو میں ایڈز کے مریضوں کی اسکریننگ جاری ہے۔ اب تک تیس ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ ہو چکی تھی۔ ان میں سے سات سو افراد متاثر پائے گئے تھے جن میں بچوں کی تعداد چھ سو کے لگ بھگ نکلی۔ تشویش کی ابتداء یہیں سے ہوتی ہے کہ آخر بچوں کی اتنی بڑی تعداد کیوں کر شکار ہوئی ہے۔ بہت سارے بچوں کے والدین صحت مند ہیں۔ قومی سطح پر جتنے ادارے موجود ہیں سب ہی کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ انہیں صرف دو سوالات کے جواب تلاش کرنے ہیں کہ یہ کیسے ہوا، اب کیا کرنا ہے؟ لاڑکانہ گزشتہ ایک ماہ سے اعلی افسران کے اجلاسوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

حکام اور حکومت کو دو سطحوں پر کام کرنا چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ رتو ڈیرو میں بچے ایچ آئی وی پازیٹیو کے شکار کس طرح ہوئے اور ان کے علاج کے انتظامات طے ہونا چاہئیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ چیئرمین بلاول کا یہ کہنا کہ ایچ آئی وی پازیٹیو کسی نے پھیلایا نہیں ہے اور یہ کہ یہ موت کی سزا نہیں ہے۔ دونوں باتوں سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایچ آئی وی پھیلایا گیا ہے۔جراثیم خود بخود آکر تو بچوں میں داخل نہیں ہو گئے ہیں۔ اکثر بچوں کے والدین تو صحت مند ہیں۔ انہیں ایڈز کی شکایت نہیں ہے۔ یہ اس طرح پھیلایا گیا ہے کہ اتائی ڈاکٹروں نے ایک ہی سرنج کے ذریعہ بیک وقت ایک سے زائد بچوں کو انجیکشن لگائے ہوں گے۔ غفلت کو دخل نہیں ہے لالچ کو دخل ہے۔ ایک سرنج ایک مریض کے لئے استعمال ہونا ہے تو اتائی کیوں ایک سرنج سے زیادہ لوگوں کو انجیکشن لگاتے ہیں۔ یہ لوگ سرنج پر پیسہ خرچ کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے تو نیند سے بیدار ہوتے ہیں۔

رتو ڈیرو میں ابتدائی مرحلے میں کارروائی کے دوران ستاون نام نہاد کلینک سر بمہر کی گئی تھیں۔ درجنو ں اتائیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اگر کسی نے پھیلایا نہیں ہے تو پھر ہر اجلاس میں حکام کیوں یہ بات کہتے ہیں کہ اتائی ذمہ دار ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بقول بلاول یہ موت کی سزا نہیں ہے۔ یہ قابل علاج ہے۔ انہیں علم ہونا چاہئے کہ یہ موت کی سزا سے کہیں زیادہ سخت سزا ہے۔ زیادہ تر افراد غریب ہیں جن کے بچے متاثر ہوئے ہیں اور پھر ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کہ ایچ آئی وی پازیٹیو کو ایڈز میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے ان بچوں کو عمر بھر علاج کرانا پڑے گا۔ کسی بھی مرض کے شکار فرد کے لئے کتنا تکلیف دہ ہے کہ اسے عمر بھر علاج کرانا پڑے گا اور دوا کھانا پڑے گی۔ یہ عذاب سزائے موت سے زیادہ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے اپنے لئے روزی کمانے والوں کے لئے یہ کتنا مہنگا سودا ہے کہ وہ کسی علاج کے لئے ہفتہ میں ایک یا دو روز لاڑکانہ جائیں۔ حکومت لی لاپرواہی نے متاثرہ افراد کے خاندانوں کو زندہ ہی مار دیا ہے۔

بلاول نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اس بریفنگ کا نتیجہ ہے جو انہیں دی گئی ہوگی۔ صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کی حالت اور کارکردگی پر نظر رکھنا اور بہتر کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ صوبائی محکمہ صحت کے سیکریٹری بلاول کے پھوپھا فضل الرحمان پے چوہو ہیں۔ وہ طویل عرصے سے محکمہ چلا رہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے بعد ان کی زوجہ عذرا صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں تو انہیں وزیر صحت مقرر کر دیا گیا۔ پاکستان میں یہ طریقہ کس طرح چل سکتا ہے کہ بیوی شوہر کی نگرانی کرے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا یہ خاصا رہتا ہے کہ وہ سفارش پر کی جانے والی تقرریوں کے بارے میں فکر مند نہیں رہتی ہے۔ مختلف عہدوں پر مقرر لوگوں کی جو مرضی آئے کریں، ان سے کوئی سوال جواب نہیں کرتا۔ رتوڈیرو میں جس بڑے پیمانے پر اتائی سرگرم تھے، یہ بات کیوں حکام اور افسران کے لئے تشویش ناک نہیں تھی۔ اتائیوں کے خلاف بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اتائیوں کے خلاف مختلف اوقات میں کارروائی نئی بات نہیں ہے۔ صوبہ سندھ کے تمام شہروں اور دیہاتوں پر اتائی ڈاکٹر چھائے ہوئے ہیں۔ جب کارروائی ہوتی ہے تو یہ لوگ دو تین روز کے لئے اپنی دوکانیں بند کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ محکمہ صحت ٹھنڈا پڑتا ہے تو یہ لوگ اپنی واپسی لکھا لیتے ہیں اور پھر کاروبار جاری رہتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی اتائیوں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہے اس لئے لوگ اتائیوں کے پاس جانے کو ترجیح دہتے ہیں جہاں علاج کے بجائے بیماری ساتھ کر دی جاتی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...