ایسٹ انڈیا کمپنی سے آئی ایم ایف تک(2)

ایسٹ انڈیا کمپنی سے آئی ایم ایف تک(2)

  



مغربی ممالک اور اْن کے مالیاتی ادارے ”تاثر“ دیتے ہیں کہ وہ غریب ممالک کو قرض مہیا کر کے اُن کی معاشی مشکلات کو کم کرتے ہیں اور اُن کی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قیام کا بنیادی مقصد غریب اور کمزور ممالک کو مغرب کا معاشی غلام بنانا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف دُنیا کے 75 سے زیادہ ممالک کو مدتوں سے قرض دے رہے ہیں، مگر ان ممالک میں سے کسی ملک کی معیشت مضبوط نہیں۔ اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ غریب ممالک کے قومی بجٹ کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے،اور وہ وقت آ سکتا ہے کہ پاکستان کا آدھے سے زیادہ بجٹ سود کی ادائیگی پر خرچ ہونے لگے۔ یہی قصہ دُنیا کے دوسرے غریب اور ترقی پذیر ممالک کا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ مغربی اقوام دو سو سال تک براہِ راست اپنی نوآبادیات کو لوٹ کر اپنی معیشتوں کو مضبوط کرتی رہیں اور اب گزشتہ پچاس سال سے وہ یہی کام قرضوں کا سود وصول کر کے انجام دے رہی ہیں، یعنی یہ قومیں کل بھی انسانیت کی دشمن تھیں اور آج بھی انسانیت کی دشمن ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مغربی اقوام نے اربوں انسانوں کے لئے اس دُنیاکو سیاسی، معاشی اور سماجی جہنم بنایا ہوا ہے۔ Oxfame کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے صرف ”8 افراد“ کی دولت 3.6 ارب انسانوں کی دولت کے مساوی ہے۔ مغرب اور اُس کے ”احمق متاثرین“ اکثر شور مچاتے رہتے ہیں کہ بادشاہت کا نظام بڑا انسانیت کش تھا، ایک بادشاہ کے پاس اپنی پوری قوم سے زیادہ دولت ہوتی تھی، بادشاہ عیش کرتا تھا اور اس کی رعیت معاشی مشکلات کا شکار رہتی تھی،مگر آج مغرب کی تخلیق کردہ ”آزاد“ دُنیا، ”جمہوری“ دُنیا، ”عقل پرست“ دُنیا، ”روشن خیال“ دُنیا اور ”جدید“ دُنیا کا یہ حال ہے کہ صرف 8 بادشاہ 3ارب 60کروڑ افراد سے زیادہ دولت مند ہیں۔ یہ دولت کی عریانی وفحاشی کی انتہا ہے۔یہ مغرب کی پیدا کردہ دُنیا کی ایسی تصویر ہے کہ اگر اس تصویر کو شیطان بھی غور سے دیکھ لے اور اس کے معنی سمجھ لے تو وہ بھی مغرب پر تھوک دے۔ اس کی وجہ ہے۔ مغرب کی پیدا کردہ دُنیا میں ایک طرف 8لوگ آدھی دُنیا کی دولت کے مالک ہیں، دوسری طرف اسی دُنیا میں ایک ارب انسان انتہائی غربت میں مبتلا ہیں۔ ان افراد کی یومیہ آمدنی ایک ڈالر اور دو ڈالر کے درمیان ہے۔ مغرب کے پیدا کردہ جہنم کی سنگینی کا مزید اندازہ کرنا ہو تو سویڈن کے تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ ملاحظہ کرنی چاہئے۔

روزنامہ ”ڈان“ کراچی کی ایک تفصیلی خبر کے مطابق 2018ء میں دُنیا کے تمام ممالک نے اپنی عسکری صلاحیت کو بہتر بنانے پر صرف 1822 ارب ڈالرصرف کئے ہیں (ڈان، کراچی۔ 30 اپریل 2019ء)۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے ساری دُنیا کے انسانوں کو صاف پانی مہیا کیا جا سکتا ہے، تمام غریبوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں،دُنیا کے تمام بچوں کے لئے بنیادی تعلیم کا بندوبست ہوسکتا ہے، مگر مغرب کی پیدا کردہ دُنیا میں اتنا عدم تحفظ، اتنا خوف اور ایک دوسرے سے اتنی نفرت ہے کہ ہر ملک اپنے دفاع پر زیادہ سے زیادہ رقم صرف کررہا ہے۔ مغرب کی پیدا کردہ دُنیا اگر ”مہذب“ ہوتی، مغرب کی پیدا کردہ دُنیا اگر ”عقل پرست“ ہوتی، مغرب کی پیدا کردہ دُنیا اگر ”انسانی“ ہوتی، مغرب کی پیدا کردہ دُنیا اگر ”علم“ کی پیروکار ہوتی، مغرب کی پیدا کردہ دُنیا اگر ”جمہوری“ ہوتی تو دُنیا میں اتنا خوف نہ ہوتا کہ وہ صرف ایک سال میں ہتھیار خریدنے اور افواج کو بہتر بنانے پر 1822ارب ڈالر صرف کرتی۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 2018ء میں دُنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہتھیاروں اور فوج پر خرچ کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 2018ء میں ہتھیاروں اور فوج پر 649 ارب ڈالر خرچ کئے۔ امریکہ دُنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، عسکری اعتبار سے سب سے طاقتور ملک ہے، مگر اس کے حکمران جنگی خواہشات پر سب سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ یہ دراصل دُنیا پر غلبے کی نفسیات کا حاصل ہے۔ غلبے کی یہ نفسیات ہمیشہ سے موجود ہے،مگر مغرب نے اس نفسیات کو ”جنون“ بنا دیا ہے، اِس لئے بھی مغرب کی پیدا کردہ دُنیا جہنم بنی ہوئی ہے۔

مغرب کے دعوے کے مطابق اس کی پیدا کردہ دُنیا ”قانون و انصاف“ کی دُنیا ہے، مگر اس دُنیا میں قانون و انصاف کا کیا عالم ہے، اس کا اندازہ مغرب کے قائم کردہ ادارے ”ورلڈ جسٹس فورم“ کی ایک رپورٹ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت دُنیا کے پانچ ارب 10کروڑ افراد بامعنی انصاف تک رسائی نہیں رکھتے (ڈان، کراچی۔ 30 اپریل 2019ء)۔ رپورٹ کے مطابق 25کروڑ سے زیادہ انسان ناانصافی کی انتہائی صورت میں زندہ ہیں،جبکہ 4 ارب 50 کروڑ افراد ایسے ہیں، جنہیں قانون سے مہیا ہونے والے مواقع میسر نہیں۔رپورٹ کے مطابق ناانصافی سے مزید ناانصافی جنم لیتی ہے۔

پاکستان میں انصاف کا یہ حال ہے کہ ماتحت عدالتوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان عدالتوں میں وکیل کرنے سے بہتر یہ ہے کہ جج کر لیا جائے، یعنی جج کو خرید لیا جائے۔ اعلیٰ عدالتوں کا یہ حال ہے کہ ان کے اکثر فیصلے ”سیاسی“ ہوتے ہیں۔ ملک میں ماتحت عدالتوں کا انصاف بھی اتنا مہنگا ہے کہ ملک کی 80 فیصد آبادی اس کا مالی بوجھ نہیں اُٹھا سکتی۔عام آدمی مالی اعتبار سے اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کی استعداد نہیں رکھتا، مگر یہ انصاف کا صرف ایک پہلو ہے۔ انصاف کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اتنا سست ہے کہ اس کے حصول میں برسوں لگ جاتے ہیں اور انصاف کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ صرف پاکستان کے حقائق نہیں ہیں،یہ کم و بیش اس پوری دُنیا کے حقائق ہیں،جو مغرب کی پیدا کردہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساڑھے سات ارب انسانوں کی دُنیا میں 5 ارب 10 کروڑ انسان بامعنی انصاف تک رسائی ہی نہیں رکھتے، جس دُنیا میں ظلم ہی ظلم ہو، عدم مساوات ہی عدم مساوات ہو، طاقت ہی طاقت ہو، اِس دُنیا میں اگر انصاف بھی نہ ہو تو اس دُنیا کے جہنم ہونے میں کیا کلام ہوسکتا ہے؟

ایک جانب مغرب کی تخلیق کردہ دُنیا کا یہ عالم ہے کہ وہ جہنم کا منظر پیش کررہی ہے، دوسری جانب مغرب اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تاثر دے رہا ہے کہ اس نے دُنیا کو ”جنت ِ ارضی“ میں ڈھال دیا ہے۔ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے۔ مریخ پر کمند ڈالنے والا ہے۔ مغرب کے دانش ور کہہ رہے ہیں کہ انسان موت پر قابو پانے ہی والا ہے اور دائمی زندگی انسان کا مقدر بننے ہی والی ہے۔ بدقسمتی سے مغرب کی جنت ایک ”مفروضہ“ ہے، مگر مغرب کا ”جہنم“ ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے۔اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ مغرب نے جنت ِ ارضی تخلیق کی ہے تو یہ جنت کہیں مغرب کے چند ممالک کے لئے ہے، کہیں دُنیا کی ایک فیصد آبادی کے لئے، کہیں اُن 8 افراد اور اُن کے متعلقین کے لئے ہے، جنہوں نے ساڑھے تین ارب انسانوں کے برابر دولت جمع کرلی ہے۔ (بشکریہ ”فرائی ڈے اسپیشل“ کراچی) ختم شد

مزید : رائے /کالم


loading...