چینی نائب صدر کاد ورہ

چینی نائب صدر کاد ورہ
چینی نائب صدر کاد ورہ

  



چین کے نائب صدر ہز ایکسی لینسی وانگ چی شن پاکستان کے سہ روزہ دورے پر اتوار کو پاکستان پہنچے اور جب یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں، وہ پاکستان ہی میں ہیں …… ہمارے بعض میڈیا ہاؤس اس دورے کو سٹرٹیجک اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ مجھے خبر نہیں اس سٹرٹیجک اہمیت کا مفہوم ان کے نزدیک کیا ہے۔ تاہم ہمارے ٹی وی چینلوں کی سکرینوں پر جوٹکرز چل رہے ہیں وہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور میں بھی۔ ان میں سے بعض کی عبارات ایک بار پھر دیکھیں:

٭ 1۔پاکستان چین تعلقات نئی بلندیوں پر

٭ 2۔پاکستان اور چین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

٭ 3۔دونوں ممالک نے تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔

٭ 4۔بیلٹ اینڈ روڈ (B & R) صدر شی کا ایک عظیم منصوبہ ہے۔

٭ 5۔دونوں ممالک میں تجارت کا توازن بڑھانے کا فیصلہ۔

٭ 6۔چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

٭ 7۔قدرتی آفات میں ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے کا فیصلہ۔

٭ 8۔عوامی رابطوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

٭ 9۔CPEC کے اگلے مرحلے پر غور کرنے کا فیصلہ

٭ 10۔پانچ معاہدوں پر دستخط ہو گئے۔

٭ 11۔رشکیء خصوصی تجارتی زون کا افتتاح

٭ 12۔زرعی، صنعتی اور سماجی ترقی کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط۔

٭ 13۔ہز ایکسی لینسی نائب صدر وانگ کو ”نشان پاکستان“ کا اعزاز دیا گیا۔

مذکورہ بالا ٹکرز ہر ٹی وی چینل پر چلتے رہے۔ پاکستان کے تین چار انگریزی روزناموں کو موقر گردانا جاتا ہے۔ ان میں شائع شدہ خبروں کے مطابق سٹرٹیجک اہمیت کے اس دورے کی جو توضیح کی گئی اس کے چیدہ چیدہ پہلو یہ بیان کئے گئے:

1۔ یہ دورہ اتوار کے روز شروع کیا گیا حالانکہ اس روز دونوں ملکوں (چین اور پاکستان) میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

2۔ یہ دورہ ماہ رمضان میں کیا گیا ہے۔

3۔یہ دورہ اس وقت کیا گیا ہے جب ایران۔ امریکہ کشیدگی کی خبریں گرم ہیں۔

4۔یہ دورہ انڈیا میں وزیراعظم مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کے عین موقع پر کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا درجِ بالا موضوعات پر بیان کی گئی صورتِ حال کسی بھی حوالے سے اس دورے کو سٹرٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیتی ہے؟…… اگر نہیں تو پھر یہ ہائی پروفائل اور سٹرٹیجک اہمیت کا حامل دورہ کیوں کہا جا رہا ہے؟ اس کی ضرورت کیا تھی؟ الیکٹرانک میڈیا پر جو درج بالا 13عدد ٹکرز چلائے جاتے رہے، کیا وہ کوئی ایسی نئی ڈویلپ منٹ تھی کہ جس کے سبب یہ تین روزہ دورہ ناگزیر ہو گیا؟

قارئین گرامی! میں نے اس دورے کے مالہ و ما علیہ پر جتنا بھی غور کیا ہے درج ذیل سوالوں کا جواب نہیں ملا:

اسلام آباد میں صرف ایک روز گزارا گیا۔ وہیں وزیراعظم اور صدر سے ملاقات ہوئی اور مہمانِ گرامی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا…… باقی دو دن لاہور میں گزارنے کی خبریں میرے لئے ناقابلِ فہم ہیں۔ (بعد میں بتایا گیاکہ لاہور کا دورہ بھی ایک دن کا ہو گا) سرکاری طور بتایا جا رہا ہے کہ ہز ایکسی لینسی لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر کریں گے…… کیا لاہور کے تاریخی مقامات اتنے ہی اہم ہیں کہ چینی نائب صدر کو ان کی زیارت اور دیدار کرنے کے لئے بیجنگ سے لاہور تک کا سفر کرنا پڑا؟ اس کے ساتھ جڑا ہوا ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ سبب نہیں تو اس سٹرٹیجک دورے کی اہمیت اور کیا ہے؟ میری درجِ ذیل ناقص رائے بہت غلط ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو دونوں ممالک کے اربابِ اختیار سے معذرت چاہوں گا۔ لیکن میرے خیال کے مطابق اس دورے کے دو مقاصد ایسے ہیں جو ظاہر و باہر ہیں لیکن بوجوہ ان کو ظاہر و باہر نہیں کیا جا رہا۔

پہلا مقصد اس خطے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی عسکری صورتِ حال ہے۔ امریکہ کا خلیج فارس میں اتنی بڑی ملٹری فورس کا اجتماع میرے خیال میں صرف ایران سے نمٹنے کے لئے نہیں بلکہ کسی بڑے ٹارگٹ یا بڑی فورس سے مقابلہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران کی فوجی قوت ان تین ممالک (افغانستان، عراق، لیبیا) کی اجتماعی فوجی قوت سے زیادہ ہے جن کو گزشتہ دو عشروں میں امریکہ نے پامال کرکے رکھ دیا تھا لیکن اگر ایسا ہے بھی تو سوچئے کہ امریکہ کو اس ممکنہ حملے کے لئے بڑے پیمانے کی اکھاڑ پچھاڑ کرنے اور اپنے سٹرٹیجک مفادات کو خطرے میں ڈالنے سے کیا حاصل ہو گا؟ کیا امریکہ کو اپنے یورپی اتحادیوں کی سلامتی کا کوئی خیال نہیں؟ کیا حملے کا یہ رسک پینٹاگون کے مقتدر حلقوں میں ڈسکس نہیں کیا گیا؟ کیا صرف قومی سلامتی کے مشیر (جان بولٹن) کے ایماء پر اکیلا وائٹ ہاؤس اتنا بڑا خطرہ مول لے سکتا ہے اور کیا کانگریس اس عاقبت نااندیشانہ اقدام کی منظوری دے دے گی اور اگر نہیں دے گی تو کیا صدر ٹرمپ اکیلے اس دلدل میں کودنے کی بلنڈر کر سکتے ہیں؟…… یہ سارے سوال بہت اہم ہیں اور ان پر غور و خوض کرنے کے بعد ہی امریکہ نے ایران کے عین سامنے قطر میں اپنا لاؤ لشکر اکٹھا کیا ہے۔

میری نظر میں اس حملے کا امکان زیادہ ہے اور چونکہ پاکستان اس سے براہِ راست متاثر ہو گا اور چونکہ CPEC جو چینی صدر شی کا ایک عالمی سطح کا منصوبہ ہے، اس پر بڑی زد پڑنے کا خدشہ ہے اس لئے یہ جنگ اگر ہو گی تو امریکہ۔ ایران جنگ نہیں ہو گی، امریکہ۔ چین جنگ ہو گی اور اسی کے مضمرات ڈسکس کرنے کے لئے چینی نائب صدر ہز ایکسی لینسی وانگ چی شن نے اس دورے کا ڈول ڈالا ہے اور امریکہ کو بتایا ہے کہ اس حملے کے نتائج پر چین کی قیادت کی کتنی گہری نظر ہے۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہ دورہ اس مجوزہ یا ممکنہ امریکی حملے کی پیشِ نظر کیا گیا ہے تو چینی وفد میں کوئی سربرآوردہ فوجی شخصیت بھی شامل کیوں نہیں؟ لیکن اسی سوال میں اس کا جواب بھی پنہاں ہے کہ چین نے جان بوجھ کر کوئی فوجی شخصیت اس وفد میں شامل نہیں کی۔آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ موجودہ چینی وفد کے کسی رکن نے پاکستانی آرمی چیف یا ہمارے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے بھی کوئی ملاقات نہیں کی کہ اگر کی جاتی تو امریکہ کے کان کھڑے ہو جاتے…… میری نظر میں اس خطے کی عسکری صورت حال کے تناظر میں نائب صدر وانگ کے ہمراہ آنے والے وفد میں کسی فوجی شخصیت کا شامل نہ ہونا بہت معنی خیز ہے…… اگر پاکستان اور چین کے سٹرٹیجک مفادات مشترک ہیں اور اگر پاکستان، ایران پر امریکی حملے سے براہ راست متاثر ہو گا تو کیا پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات زیرِ خطر (Vulnerable) نہیں ہوں گے؟ اگر ہوں گے تو چین کا ممکنہ کردار کیا ہو گا یا ہونا چاہیے؟…… یہی سوال ہے جو میرے ذہن پر زور زور سے دستک دے رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ جنابِ وانگ کا یہ دورہ بالخصوص ایران پر امریکی حملے اور اس کے پاکستان اور CPEC پر پڑنے والے اثرات کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے۔

اور یہ جو ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ٹکرّز چلائے جا رہے ہیں، یہ صرف ’دکھاوا‘ ہیں۔ ان میں کوئی ایسی نئی بات نہیں جو جنابِ وانگ کے تین روزہ دورے کا سبب بنی۔ چینی لیڈرشپ، امریکہ کو بتا رہی ہے کہ اگرچہ امریکہ نے چین پر جو تجارتی پابندیاں لگائی ہیں اس سے چینی اقتصادیات متاثر ہوئی ہیں لیکن چین CPEC کے اپنے کور مفادات کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا…… میرے خیال میں صدر شی نے اپنے نائب کو یہاں پاکستان بھیجنے سے قبل روس کے صدر پوٹن سے بھی بات کی ہوگی…… بعض بیک ڈور چینل سرگرمیاں، فرنٹ ڈور چینل سرگرمیوں سے زیادہ اہم بلکہ ناگزیر ہوتی ہیں۔

اور جہاں تک لاہور کے دورے کا مقصد ہے تو یہ ایک ضمنی ڈویلپ منٹ بھی ہو سکتی ہے۔ اگر تخیل کے ربڑ کو زیادہ کھینچیں تو آپ خود محسوس کر سکیں گے کہ جنابِ وانگ محض لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر کو نہیں آ رہے۔ میرے ذہن میں وہ حالیہ خبریں گردش کر رہی ہیں جن میں بعض چینی باشندوں کا قبولِ اسلام اور پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں رچا کر ان کو چین لے جانا اور وہاں ان سے مختلف ”دھندے“ کروانا بھی شامل ہے۔ ایک ہفتے سے زیادہ دنوں تک ہمارے ای میڈیا پر ان جوڑوں کی ایسی تصاویر و تفاصیل دکھائی جاتی رہی ہیں جو چینی قیادت کے لئے از بس پریشان کن ہوں گی۔ چین نے اگرچہ اس ریکٹ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا لیکن اگر ہم اپنے تخیل کے ربڑ کو دوبارہ کھینچیں تو معلوم کر سکتے ہیں کہ لاہور کے دورے کے دوران اس موضوع پر بھی بات چیت ہو گی۔ چین اپنے مغربی صوبے سنکیانگ کی مسلم آبادیوں سے حالیہ برسوں میں جو سلوک کرتا رہا ہے، اس کی صدائے بازگشت مغربی میڈیا پر کئی بار سنائی دی ہے۔ چینی لیڈرشپ نے اگرچہ اس ’سلوک‘ کی حقیقت سے انکارکیا ہے لیکن اس کے حق میں مغربی میڈیا نے جو واویلا مچایا ہے اور پاکستان نے سرکاری سطح پر جو خاموشی اختیار کی ہے وہ کسی نہ کسی حد تک دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز ہونے کے جراثیم رکھتی ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کی جس ہمہ موسمی آئرن دوستی کا چرچا زبان زدِ عام رہا ہے اس کے پیشِ نظر چینی باشندوں کا قبولِ اسلام اور پاکستانی دلہنوں سے شادیاں جو پیغام دیتی ہیں اس پر غور کیجئے اور جنابِ وانگ کے دورۂ لاہور کو اسی تناظر میں بھی زیر نظر رکھیئے۔

میں قبل ازیں بھی عرض کر چکا ہوں کہ عین ممکن ہے کہ ان دونوں موضوعات (ایران پر امریکہ کا ممکنہ حملہ اور اس کا پاکستان پر فال آؤٹ اور چینی باشندوں کی پاکستانی خواتین سے شادیاں) کا کچھ تعلق جنابِ وانگ کے اس سہ روزہ دورے سے بالکل نہ ہو۔ لیکن اگر یہ شکوک میرے ذہن میں آئے تو میں نے چاہا کہ ان کو اپنے پاکستانی قارئین کے سامنے رکھوں۔ اگر یہ غلط ہوں اور صرف میرا واہمہ ہوں تو میں اپنی شکّی طبیعت کو کوسوں گا اور دونوں ملکوں کے اربابِ اختیار سے دوبارہ معذرت چاہوں گا۔

مزید : رائے /کالم