پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا علمبردار دن

پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا علمبردار دن
پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا علمبردار دن

  



زندہ قومیں اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اپنی حفاظت اور دفاع کے لئے معقول بندوبست کر کے رکھتی ہیں تا کہ ضرورت کے وقت اس کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔اپنی بقاء اور سلامتی کے لیے وہ حتی المقدور کوشیشیں کرتی ہیں تا کہ دشمن کے وار کو ناکام بنایا جا سکے۔جسے ہر با شعور انسان مشکل گھڑی میں اپنی سلامتی او ر حفاظت کے لیے بندوبست کر کے رکھتا ہے۔اسی طرح سمجھدار ممالک بھی اپنی حفاظت اور سلامتی کا بندوبست کر کے رکھتے ہیں جس کا مقصد اپنا دفاع اور سلامتی ہوتا ہے تا کہ کسی پر خوامخواہ چڑھائی کرنا یا کسی سے ذبردستی الجھنا ہوتا ہے بالکل ایسے ہی پاکستان جو کہ امن کا بہت بڑا داعی ہے نے بھی ہمیشہ اپنی سلامتی اور بقاء کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے ہیں کسی سے بغیر کسی عذر کے الجھنا پاکستان کا شیوہ نہیں ہے اور نا ہی اس نے کبھی کسی ہمسایہ ملک یا ریاست کے معاملات میں دخل اندازی کی ہے۔اس لیے اپنے دفاع کی ہر کوشش اس کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی جس سے خوفزدہ ہونے کی کسی کو بھی ضرورت نہیں ہونا چاہیے۔

ہر سا ل جب بھی 28مئی کا دن آتا ہے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے وہ اس موقع پر خود کو خوش اور شاداں محسوس کرتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے پاکستان کو بھی ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جو دشمن کا مقابلہ کرنے اور اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا چکے ہیں۔یہ وہ دن ہے جب پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت جبکہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنا۔ بلاشبہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی کیونکہ جنگوں کے اختتام پر آخر مسائل کا حل مل بیٹھ کر مذاکرات کی ہی شکل میں طے پاتا ہے۔اس لیے سمجھدار حکمران کبھی بھی اپنے ملک اور قوم کو جنگ کی طرف نہیں دھکیلتے بلکہ مسائل کا حل باہمی رضا مندی کے ساتھ مل بیٹھ کر تلاش کرتے ہیں جو اس راستے کا آخری حل ہوتا ہے۔ آج 28 مئی کا دن اس بات کی علامت ہے کہ جب پاکستان نے ایٹمی طاقت ہونے کا عملی ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیا جو پاکستان کے دفاع کے امر ہونے کی دنیا بھر میں منادی تھی اس کے ساتھ دشمنا ن پاکستان کے عزائم آسانی سے پورے نا ہونے کی خبر دی تھی۔

ہندوستان نے 11مئی1998میں ایٹمی دھماکے کیے جس کے جواب میں پاکستان نے 28مئی 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پر ملکی و غیر ملکی دباؤ ہونے کے باوجود دھماکے کئے، اس کے ساتھ امریکی صدر بل کلنٹن کی فون کالز پر کالز اور اربوں ڈالر ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں ٹرانسفرکرنے جیسی آفرز موجود ہونے کے باوجود معاملہ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کا ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم پاکستان ملک و قوم کے لوگوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے چاغی کے پہاڑ پر سہہ پہر 3 بجکر51منٹ پر نعرہ تکبیر کی گونج میں ہندوستان کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے ہمسایہ دشمن کے غرور کو پارہ پارہ کر دیا۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر ہیروز جن کی بدولت قوم کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کو پوری قوم کا دل کی گہرائیوں سے سلام جس میں بالخصوص پاک فوج کی حکمت اور صلاحیت ہر پاکستانی کے دل و دماغ کا سکون اور فخر کسی تعریف کا محتاج نہیں جو ہمیشہ سے ہر پاکستانی کے سر کا تاج ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔دنیا بھر میں سب سے پہلے امریکہ نے سولہ جولائی 1945 کو ایٹمی صلاحیت حاصل کی امریکہ کے بعد 1949میں روس،1952میں برطانیہ،1960میں فرانس جبکہ چین نے یہ صلاحیت فرانس کے تین سال بعد یعنی 1963میں حاصل کی اور یہ وہ وقت تھا جب دنیا بھر میں ان ممالک کا سکہ چلتا تھا اور پھر یہی پانچوں ممالک سلامتی کونسل کے ممبر بنے۔خیر آج یوم تکبیر ہے اور اس دن کی بدولت دشمن آج ہم سے آنھک سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی نا گستاخی کرتا ہے اور نا کرے گا نیوکلر ایٹم کی جنگ میں سب کچھ تباہ و برباد ہو جانا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...