کب تک!

کب تک!

  



دنیا اس وقت جدت کی وہ منازل طے کر رہی ہے جس کا گمان بھی آج سے چند سال قبل نہیں کیا جاسکتا تھا، لیکن ہم پاک سرزمین کے باشندے دنیا کی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں۔

1947ء میں اس سرزمین پر جب سبز حلالی پرچم بلند کیا گیا، پوری دنیا کا خیال تھا کہ یہ اسلام کے نام پہ حاصل کردہ ملک عنقریب اسلام کا ایک بہت بڑا قلعہ بن کر سامنے آئے گا، لیکن یہ دنیا کا خیال صرف خیال ہی رہا۔ شاید میری یہ بات چند احباب کو ناگوارا گزری ہو، لیکن کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے حق آشنائی بہت ضروری ہے اور ہم نے ہمیشہ اس سے دور رہنا ہی پسند کیا ہے۔ کبھی بھی جب کوئی قومیں ترقی کرتی ہیں اس کی ایک بڑی وجہ ان کے ماضی سے منسلک ہوتی ہے۔ مثلاً چائنہ کو دیکھ لے، ماضی کی ضلالت سے چھٹکارا پانے کے بعد اپنے ماضی کو اپنے لئے نشانے عبرت سمجھتے ہوئے ترقی کی وہ منازل طے کی کہ آج دنیا بھر میں ہر گھر کی ضرورت ہے۔ چائنہ، اس کے علاوہ برطانیہ کو دیکھ لے، ماضی سے حاکم رہے اور نسل در نسل ان کی سوچ حاکمانہ ہی رہی، یعنی کہ مختصر یہ کسی نے ماضی کو عبرت بنا کر اپنے آپ کو سدھار لیا تو کسی نے اپنی انا کو سلامت رکھتے ہوئے دنیا کی اس دوڑ میں اپنے آپ کو پیچھے نہیں ہونے دیا۔ اگر ہم اپنے ملک اور اپنی قوم کی بات کریں تو ہم برٹش حکومت میں ذلیل ہوتے رہے، اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا، اور اس سے پہلے ہم نے اسی خطے پے صدیوں حکومت بھی کی، افسوس یہ کہ ہم میں وہ حاکمانہ انا بھی ناجاگ سکی۔

1944ء کے بعد اس ملک میں جمہوریت اور مارشل کی کشمکش جاری رہی لیکن اس سے ملک کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ 1971ء میں ہم نے اپنا ایک حصہ کھو دیا۔ عالمی منڈی میں ہماری پیداوار میں مجموعی طور پر کمی ہی آتی گئی۔ ہمارا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں آدھا تھا یعنی دو روپے کا ڈالر تھا اور اب 151روپے کا ہم نے اپنے ملک کا ہر خزانہ جمہوریت اور مارشل کی نظر اور دوسرے ملکوں کو اس قیمت پے دیا کہ جیسے ہمیں تو ضرورت ہی نہیں اور اوپر سے آئی ایم ایف کو اپنے سر اس طرح سوار کیا کہ جیسے یہ ملک بیگانہ ہے اور حکومت ایک دفعہ ہی ملنی ہے۔ لوٹ لو بس جتنا ہو سکے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان ہر لحاظ سے قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے، لیکن ہم ان خزانوں کے مالک ہو کر بھی ان کا صرف حقیر سا حصہ ہی لے سکتے ہیں اور آج تک ہماری حکومت سے لیکر کسی ادارے نے بھی اس بات پے غور نہیں کیا۔

اب دیکھئے ہم مالی تور پے مضبوط تب ہی ہوں گے جب ہماری آمدنی ہمارے خرچ سے زیادہ ہوگی، لیکن یہاں ہمارا خرچ ہماری آمدنی سے ڈبل ہے اور اس کو بہتر کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ آئی ایم ایف کے قرضوں سے کبھی پورا نہیں ہوسکتا یہ پورا ہو سکتا ہے تو ہماری ملکی اشیا کی پیداوار سے، لیکن اس طرف ہمیں لایا ہی نہیں جاتا۔ ہم چاول، گنا، کپاس کی پیداوار تو کرتے ہیں اور عالمی منڈی میں اس کی قیمت کے مطابق زرمبادلہ بھی لیتے ہیں مگر یہ اشیا اور بھی ممالک فروخت کرتے ہیں اور ان کی قیمت مارکیٹ کے مطابق ہوتی ہے، لیکن ہمارے پاس کچھ ایسی نعمتیں بھی ہیں جو مارکیٹ کو صرف پاکستان دے سکتاہے اور اس کی قیمت بھی اپنی مرضی سے رکھ سکتا ہے، لیکن پاکستان نے ان نعمتوں کا سودا کوڑیوں کے دام کیا ہوا۔ مثلاً ہماری معدنیات میں بلوچستان کے پہاڑوں سے نکلنے والا سونا، اس کے بعد نمک اور نمک میں بھی گلابی نمک دنیا کا قیمتی ترین نمک ہے، لیکن ہم یہ سب گزشتہ سرکاروں کے چند انفرادی فائدوں کے بدلے میں عالمی منڈی کو دے رہے ہیں اور خود ان سے قرضے لے رہے ہیں۔ آخر کب تک! (اگلی قسط میں)

مزید : رائے /کالم


loading...