”لا وارث“ شہر میں ذکریا بٹ کی چھلانگ

”لا وارث“ شہر میں ذکریا بٹ کی چھلانگ
 ”لا وارث“ شہر میں ذکریا بٹ کی چھلانگ

  



شہبازشریف وزیراعلیٰ تھے تو مخالفین الزام عائد کرتے تھے کہ انہوں نے صرف لاہور کو ہی پنجاب سمجھ لیا ہے ہر قسم کی ڈویلپمنٹ یہاں کی جا رہی ہے، میٹرو یہاں بن رہی ہے، سگنل فری کوریڈور یہاں تعمیر ہو رہے ہیں، بڑے بڑے پلازے یہاں کھڑے کئے جا رہے ہیں، انڈرپاسز اور اوور ہیڈ پلوں کی یہاں بھرمار ہے، خوبصورت پارکوں کی تعمیر بھی اسی شہر میں ہو رہی ہے، دلکش نظاروں پر بنے پلے لینڈز بھی یہاں دیکھے جا سکتے ہیں،رنگا رنگ تقریبات بھی یہیں ہوتی ہیں، سرکاری اور غیر ملکی فنڈز بھی یہاں بے دریغ خرچ کئے جا رہے ہیں۔

اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی اسی جگہ شروع کیا گیا ہے، جدید طرز کے قبرستانوں کا پراجیکٹ شہر خموشاں بھی اسی کو ملا ہے۔ غرضیکہ وزیراعلیٰ کی توجہ اور نظرالتفات کا مرکز لاہور ہی ہے، بعض افراد تو ان عنایات کی بدولت ”تخت لاہور“ کا طعنہ بھی دیتے تھے، لیکن شاید آج وہ ناقدین اور معترضین خوش ہوں گے اور بغلیں بھی بجاتے ہوں گے کہ یہ تخت لاہور لاوارث ہو گیا ہے، جب وہ یہ دیکھتے ہوں گے کہ کراچی کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر گندگی سے اٹا ہوا ہے، اس کے باسی پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں، ٹریفک کا یہ حال ہے کہ دس منٹ کا فاصلہ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے، آلودگی میں 50سے 60فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔لاہور میں زمینوں پر قبضے کوئی نئی بات نہیں۔

سٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے، پولیس کا کردار ابھی تک ایک سوالیہ نشان ہے؟ شہر میں گندے پانی کے سبب ہیپاٹائٹس سمیت دیگر جان لیوا بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے زندہ دلان کے اس شہر کو کسی کی نظر لگ گئی ہے، آج ایک ایسا بے ہنگم پن دکھائی دیتا ہے جیسے ہم زمانہ قدیم میں چلے گئے ہیں۔ اگر یہی معیار بنا لیا جائے کہ ہر وزیراعلیٰ اپنے اپنے شہر کو ترقی دینے کے لئے تمام تر وسائل استعمال کرے تو ڈیرہ غازی خان کو آج لاہور جیسا بن جانا چاہیے تھا لیکن شاید ہم یہ بھی نہیں کر پائے۔

میں نے پاکستان کے دل لاہور کا جو نقشہ پیش کیا ہے وہ شہر گردی کے بعد دکھایا ہے، اگر کسی کو یقین نہ آئے تو میرے ساتھ چلے اور لاہور کے چند ایک پوش علاقے چھوڑ کر (جو کئی سالوں سے ڈویلپڈ ہیں) سارے شہر میں گھوم پھر کر دیکھ لے، چپہ چپہ پر شہری مسائل سر اٹھاتے دکھائی دیں گے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ یا دیگر شہر ڈویلپ نہیں ہونے چاہئیں ،لیکن یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ لاہور کو محض اس جرم کی سزا دی جائے کہ شہبازشریف یہاں کے رہائشی ہیں یا ترقیاتی منصوبے ان کے دور اقتدار میں شروع کئے گئے تھے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے دو صوبائی وزرا (علیم خان کو نکال کے) اور کئی ایک مشیران کو بالخصوص اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بالعموم لاہوری مسائل کا خود مشاہدہ کرنا چاہیے اور ان کے حل یا گزشتہ ادوار میں شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے کوئی ٹھوس اور مربوط حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

اس لاوارث شہرکی سیاسی و سماجی سرگرمیاں ماند ہی نہیں پڑیں ثقافتی سرگرمیوں میں بھی کمی آئی ہے تاہم گزشتہ ہفتہ پرانے لاہوری جیالے ذکریا بٹ کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی تقریب نے سرگرمی بڑھا دی، وہ مسلم لیگ (ن) سے ہوتے ہوئے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ برادرم منیر احمد خان خود عمران خان کے حمایتی ہوئے اور پھر ذکریا بٹ کو گھیر گھار کے ٹیم میں لے آئے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کواس شمولیتی تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔

فلیٹیز ہوٹل کے رائل گرینڈ ہال میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے سینئر جونیئر نمائندوں کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ پی ٹی آئی لاہور کے کارکنان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر فردوس البتہ تاخیر سے پہنچیں لیکن دو گھنٹے تک وہاں موجود رہیں۔ محترمہ نے ذکریا بٹ کی تحریک انصاف میں شمولیت کو ہوا کا تازہ جھونکا قرار دیا اور کہا کہ ان کے شامل ہونے سے لاہور میں عمران خان کی میڈیا ٹیم بہت مضبوط ہوگئی

ہے۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ذکریا بٹ منجھے ہوئے سیاسی کارکن ہیں اور آج کل پی ٹی آئی جو صرف حکومتی کام کررہی ہے اسے سیاسی محاذ پر ایکٹیویٹی کی ضرورت تھی، ذکریا بٹ وہ کمی پوری کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اس شہر کی لاوارثی دور کرنے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم