بلین ٹری سونامی منصوبے کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا کیونکہ۔۔۔ ایسی خبرآگئی کہ عمران خان کیلئے بھی یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

بلین ٹری سونامی منصوبے کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا کیونکہ۔۔۔ ایسی خبرآگئی کہ ...
بلین ٹری سونامی منصوبے کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا کیونکہ۔۔۔ ایسی خبرآگئی کہ عمران خان کیلئے بھی یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

  



پشاور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف حکومت کے فلیگ شپ پراجیکٹ بلین ٹری سونامی کا دائرہ وسیع کرنے اور اضافی فنڈز کی منظوری کا معاملہ متنازعہ بن گیاجس سے پراجیکٹ کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا۔ صو با ئی کابینہ کے اجلاس میں بعض وزراءنے پراجیکٹ کے لئے ایک ارب 84 کروڑ روپے کےاضافی فنڈز کی منظوری پر شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مزید فنڈز دینے کی مخالفت کر دی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق بعض صوبائی وزراءنے منصوبے کی منظوری کے بغیررقم کے استعمال کو فنڈز کا ضیاع قرار دیدیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے وزراءکے اعتراضات پر فنڈز کی منظوری کا معاملہ موخر کردیا۔صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اس امر کی تصدیق کی کہ کابینہ نے بلین ٹری سونامی کے لئے اضافی فنڈز کی منظوری نہیں دی کیونکہ صوبائی وزیر عاطف خان کا موقف تھا کہ ٹین بلین ٹری منصوبے کی منظوری کے بغیر بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے نام پر اضافی فنڈز کی منظوری درست نہیں جبکہ محکمے کا موقف تھا کہ موسم بہار کے باعث ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ فوری طورپر شروع کرنا پڑا جس کے تحت نرسریاںقائم کی جاچکی ہیں شجرکاری جاری ہے اور بقایا جات کی مد میں ایک ارب 84 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔

اخباری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس اتوار26مئی کو پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کی۔ اس موقع پرپانچ نکاتی ایجنڈا تیار کیا گیا تھا جس میں محکمہ خزانہ کے دو ایڈمنسٹریشن انرجی اینڈ پاور اور محکمہ جنگلات کا ایک ایک ائٹم شامل تھا۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور


loading...