پراسیکیوشن ملزم کوسزادلوانے میں سنجیدہ نہیں، سب سے پہلے توایسے تفتیشی کوفارغ کرناچاہئے،جسٹس گلزار کے ڈکیتی کے ملزم کی درخواست ضمانت پر ریمارکس

پراسیکیوشن ملزم کوسزادلوانے میں سنجیدہ نہیں، سب سے پہلے توایسے تفتیشی ...
پراسیکیوشن ملزم کوسزادلوانے میں سنجیدہ نہیں، سب سے پہلے توایسے تفتیشی کوفارغ کرناچاہئے،جسٹس گلزار کے ڈکیتی کے ملزم کی درخواست ضمانت پر ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈکیتی کے ملزم کی ضمانت کیلئے درخواست پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تفصیلات نہیں توپھر بتائیں عدالت کیاکرے؟پراسیکیوشن کے رویے پرملزم کوضمانت دیناپڑے گی، سب سے پہلے توایسے تفتیشی کوفارغ کرناچاہئے،پراسیکیوشن ملزم کوسزادلوانے میں سنجیدہ نہیں،عدالت نے تو ریکارڈ دیکھ کرانصاف کرناہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈکیتی کے ملزم کی ضمانت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی ۔سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم کےخلاف 30 مقدمات درج ہیں،ملزم کوسی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے پہچاناگیا،اس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ 30 مقدمات ہیں توملزم باہرکیاکررہاہے؟ان 30 مقدمات میں کیاکارروائی ہوئی؟تفتیشی افسر نے کہا کہ ہمارے پاس دیگر مقدمات کی تفصیلات نہیں،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تفصیلات نہیں توپھربتائیں عدالت کیاکرے؟ ، پراسیکیوشن کے رویے پرملزم کوضمانت دینا پڑے گی،جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ سب سے پہلے توایسے تفتیشی کوفارغ کرناچاہئے،پراسیکیوشن ملزم کوسزادلوانے میں سنجیدہ نہیں،عدالت نے تو ریکارڈ دیکھ کرانصاف کرناہے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم کےخلاف لاہورکے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں،پراسیکیوشن وکیل نے کہا کہ ملزم سے 12 لاکھ ریکوری ہوئی ہے،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ملزم مزدور ہے تو 12 لاکھ کیسے ریکورہوئے؟عدالت نے ملزم پردرج 30 مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی ،جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ تمام تفصیلات آنے دیں پھرسنیں گے،عدالت نے سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی ۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...