معیشت، کورونا اور ٹڈی دل، راستہ کہاں ہے؟

معیشت، کورونا اور ٹڈی دل، راستہ کہاں ہے؟
معیشت، کورونا اور ٹڈی دل، راستہ کہاں ہے؟

  

میں احسن اقبال کی طرح یہ تو نہیں کہتا کہ ایک طرف ٹڈی دل سے کسانوں کی فصلیں تباہ ہو رہی تھیں اور دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نتھیا گلی میں جوگر پہن کر واک کر رہے تھے۔ وزیر اعظم کو واک کرنی چاہئے، ان کی فٹنس بھی ضروری ہے شاید احسن اقبال یہ کہنا چاہتے تھے کہ ملک کو بڑے بڑے چیلنج درپیش ہیں اور وزیر اعظم بے فکری سے واک کر رہے ہیں یہ بات وہ کیسے کہہ سکتے ہیں جو شخص واک کر رہا ہو اسے کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ سے نجات کے لئے وزیر اعظم عمران خان نتھیا گلی میں واک کرنے گئے ہوں، جب اپوزیشن کرنے کا معیار اس حد تک گر گیا ہو تو کسی اچھائی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس وقت واقعی حکومت کو بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے سب سے بڑا چیلنج معیشت کو بچانے کا ہے جو ڈوب رہی ہے۔ پہلی بار قومی گروتھ منفی ہندسوں میں چلی گئی ہے۔ اس معیشت کو کیسے اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاتا ہے۔ یہ اس حکومت کا سب سے مشکل امتحان ہے، کیونکہ کورونا کی وجہ سے دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں زمین بوس ہو رہی ہیں، ہماری معیشت تو پہلے ہی شاخ نازک پر کھڑی تھی، اب اسے جھٹکے لگ رہے ہیں تو اس کا سنبھلنا آسان نہیں ایک گھوم پھر کر حفیظ شیخ حکومت کے وہ جادوگر ہیں، جو اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی معیشت کو سنبھال لیں گے۔ آگے لے جائیں گے یہ معجزہ وہ کیسے کر دکھائیں گے اس کا تو علم نہیں تاہم جوگر اور ٹریک سوٹ پہن کر بظاہر بے فکری کے ساتھ واک کرنے والے وزیر اعظم عمران خان اپنی معاشی ٹیم سے خاصے پر امید اور مطمئن نظر آتے ہیں۔

میں کل سبزی لینے بازار گیا تو ٹماٹر پچیس روپے کلو بک رہے تھے میں نے ریڑھی والے سے پوچھا یہ ٹماٹر تو دس روپے کلوگرام تھے، اچانک پچیس روپے کیسے ہو گئے؟ اس نے کچھ ٹماٹر مجھے دکھائے جن میں سوراخ تھے، جیسے کسی نے انہیں کھایا ہو، کہنے لگا ”بابو جی ہر سبزی کو ٹڈی دل نے تباہ کر دیا ہے ملتان کے گرد و نواح میں جتنے باغات اور کھیت کھلیان تھے، ان پر ٹڈی دل کا راج ہے۔ وہ ہر شے کو تباہ کر رہے ہیں، یہی حالت رہی تو آم ملے گا نہ سبزیاں، حکومت کو اس کی فکر ہی نہیں اس کی باتیں سن کر مجھے احساس ہوا کہ واقعی ٹڈی دل کا معاملہ بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے چند روز پہلے قاسم بیلہ میں اپنے گھر کے اوپر سے گزرتے ہوئے ٹڈی دل کے لشکر دیکھے تعداد اتنی زیادہ تھی کہ دھوپ میں سایہ سا ہو گیا ٹڈی دل جب زمین پر اتر آتا ہے تو تباہی مچائے بغیر نہیں جاتا۔ ملتان اور اس کے اردگرد آموں کے وسیع باغات ہیں یہ آموں کے پکنے کا موسم ہے، جس کے بعد فضل اتاری جائے گی لیکن اس موقع پر ٹڈی دل کے حملے نے کسانوں کی سال بھر محنت کو خاک میں ملا دیا ہے۔ آم کے باغات ٹڈی دل کے حملوں کی زد میں آ گئے ہیں وہ انہیں بری طرح نقصان پہنچا چکا ہے اور ابھی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹڈی دل کا بڑا ریلہ ابھی چند روز بعد آئے گا۔

ابھی تک صرف بیانات ہی سننے میں آ رہے ہیں کہ ٹڈی دل کے خلاف کسانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پورے جنوبی پنجاب میں ٹڈی دل تباہی مچا رہا ہے لیکن انتظامیہ بھی سوئی ہوئی ہے اور حکومتیں بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں بس رپورٹوں پر رپورٹیں جاری ہیں کہ ٹڈی دل کو مار مکایا ہے اور سب اچھا ہی اچھا ہے۔

ہماری مرکزی و صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کے لئے تو کوئی ایک مسئلہ ہی جان کا روگ بن جاتا ہے اور ان کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، یہاں تو یک نہ شد دو شد کے مصداق ایک طرف کورونا انسانی جانوں کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے تو دوسری طرف ٹڈی دل ہماری معاشی شہ رگ یعنی زراعت کو کاٹنے کے درپے ہے کورونا کے محاذ پر کنفیوژن مزید بڑھ گیا ہے حکومت نے لاک ڈاؤن نرم کیا، عید کے دنوں میں کسی ایس او پی پر عملدرآمد کے بغیر لوگوں کو شاپنگ کی کھلی چھٹی دیدی، ہر طرف ایک ہجوم دیکھنے میں آیا اور لاک ڈاؤن کا سارا مفہوم غارت ہو کر رہ گیا۔ عید کی چھٹیوں میں ٹیسٹ بھی روک دیئے گئے تھے، اس کے باوجود ہزاروں نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور اموات کی تعداد بھی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہسپتال دہائی د ے ر ہے ہیں کہ ہمارے پاس کورونا مریضوں کے لئے جگہ نہیں رہی لاہور کے سروسز ہسپتال کو شاید آنے والے دنوں میں بند کرنا پڑے کیونکہ وہاں ڈاکٹروں کی بڑی تعداد کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکی ہے۔

مجھے فیصل آباد کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر کے واٹس اپ پر دیئے گئے پیغام نے پریشان کر دیا ہے کہ ہسپتال میں کورونا کے مریض اتنی بڑی تعداد میں آ رہے ہیں کہ شاید ایک بیڈ پر دو، دو کو لٹانا پڑے پھر بھی جگہ دستیاب نہ ہو وینٹی لیٹرز پر جانے والے مریضوں کی تعداد الگ بڑھ رہی ہے مگر وینٹی لیٹرز موجود نہیں، یوں سوائے موت کے آخری اسٹیج پر جانے والے کورونا مریضوں کے پاس کوئی انتخاب نہیں رہ جائے گا۔ اب چاروں صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے عمال یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ کیسوں کی تعداد بڑھی تو دوبارہ سخت لاک ڈاؤن حتیٰ کہ کرفیو بھی لگانا پڑ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ یہ بات کسے سنا رہے ہیں، عوام کو تو انہوں نے کورونا کے حوالے سے پہلے ہی مختلف متضاد اقدامات و باتوں سے غیر سنجیدہ کر دیا ہے۔ وہ اسے ایک مذاق سمجھنے لگے ہیں جب بار بار انہیں کہا جائے گا کہ کورونا سے گھبرانے کی ضرورت نہیں اٹھانوے فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں اور آپ لاک ڈاؤن بھی نرم کر دیں گے تو پھر کس کو پڑی ہے کہ وہ احتیاط کرے۔

ڈاکٹرز تو یہ بتاتے ہیں کہ کورونا ایک موذی وائرس ہے، جسے لاحق ہو جائے اس کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے۔ انسان چند دنوں میں ہی اذیت ناک موت سے دو چار ہو جاتا ہے اسی تیزی سے کیسوں میں اضافہ ہوتا رہا، جس تیزی سے پچھلے ایک ہفتے میں ہوا ہے تو جون کے وسط تک تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ ان میں سے وینٹی لیٹر پر جانے والوں کی تعداد کتنی ہو گی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن این ڈی ایم اے کے چیئرمین بتا چکے ہیں کہ فی الوقت پورے ملک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد سینکڑوں میں ہے، ہزاروں میں بھی نہیں تو یہ معاملہ کس طرف کو جا رہا ہے کسی کے پاس اس حوالے سے سوچنے کی فرصت بھی ہے یا نہیں، یا پھر معاملہ چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے والا ہے۔

صورتِ حال بڑی گھمبیر ہے کوئی کنارہ نظر نہیں آ رہا معیشت، ٹڈی دل اور کورونا کی تثلیِث نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس بے یقینی کو جنم دیاہے جس کا آج ہم شکار ہیں کیا ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں اتنا دم خم ہے کہ اس صورتِ حال کا مقابلہ کر سکیں۔ کیا وہ قوم کو اس بے یقینی سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ان کے پاس کوئی ایسا وژن ہے جو اس موقع پر رہنمائی کر سکے۔ یا بات ٹوٹکوں اور اندازوں پر چلتی رہے گی ا ور قوم کی مایوسی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -