پاک۔ ایران کشیدگی!

پاک۔ ایران کشیدگی!
پاک۔ ایران کشیدگی!

  

پاکستان کے چار ہمسائے ہیں …… ایک مشرق میں جو ہندو ہے، دوسرا شمال میں جو بدھ ہے اور تیسرا اور چوتھا مغرب میں جو دونوں مسلمان ہیں۔ ہم ان دونوں مسلمان ہمسایوں کو برادر اسلامی ممالک کہتے نہیں تھکتے۔ جنوب میں ہمارا پانچواں ہمسایہ بھی ہے جسے بحیرۂ عرب کہتے ہیں۔ اگر یہ پانی نہ ہوتا تو ہم بھی افغانستان کی طرح بستہ بہ زمین (Land Locked) ہوتے اور نجانے وہ ہمسایہ ہمارا دوست ہوتا ہے یا دشمن…… ہمارا شمالی ہمسایہ چین ہے جو اول روز سے دوست ہے، مشرق میں انڈیا ہے جو جنم جنم کا دشمن ہے۔ مغرب کے ایک ہمسائے کو افغانستان کہتے ہیں۔ یہ واحد اسلامی ہمسایہ ہے جس نے 14اگست 1947ء کو اقوام متحدہ میں قیامِ پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ دوسرا مغربی ہمسایہ ایران ہے جو کہنے کو تو برادر اسلامی ملک ہے لیکن اس برادر کی سیماب پائی اور سیماب صفتی مشہور ہے۔ اس کے ایک عظیم شاعر شیخ سعدی کا شعر ہے:

دوست آن باشد کہ گیرد دستِ دوست

در پریشاں حالی و در ماندگی

اس بھائی نے 1965ء کی جنگ میں ہمارا جو ہاتھ پکڑا تھا، اس کی تفصیل بتانے کا یہ محل نہیں۔ لیکن 1971ء کی جنگ میں ایران کا کردار ایک سوالیہ نشان تھا۔ اس جنگ کی تفصیلات دلخراش ہیں۔ پاکستان کا دفاعی ڈاکٹرین یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان پر منحصر ہے۔ 3دسمبر 1971ء کو جب پاکستان نے انڈیا کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا تو پاک فوج کو امرتسر، فیروزپور اور گوداسپور تک چلے جانا چاہیے تھا اور پاک فضائیہ کو بھی 1965ء کے فضائی معرکوں کی یاد تازہ کر دینی چاہیے تھی لیکن تین دن کی فضائی اور زمینی جنگ میں GHQ کو معلوم ہو گیا تھا کہ مشرقی پاکستان کے بارے میں ہمارے جنگی ڈاکٹرین کی دال نہیں گل رہی۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس وقت جنرل یحییٰ یا جنرل حمید نے ایران سے رابطہ کیا تھا یا نہیں۔ لیکن وہ ایام رابطہ کرنے کے نہیں تھے، آتشِ نمرود میں بے خطر کود جانے کے تھے۔ امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کا رخ خلیج بنگال کی طرف تھا یا نہیں، ایرانی بحریہ کو آبنائے ہرمز سے نکل کر پاک بحریہ کی مدد کرنی چاہیے تھی اور ایرانی گراؤنڈ فورسز کو 3دسمبر 1971ء سے پہلے (خفیہ طور پر) پاک آرمی کی سربراہی میں وہی کچھ کرنا چاہیے تھا جو مشرقی پاکستان میں انڈین گراؤنڈ فورسز کر رہی تھیں۔ پاکستان نے تو 8دن بعد انڈیا کے خلاف اعلان جنگ کیا جبکہ انڈین فورسز (تین کوریں) چاروں طرف سے مشرقی پاکستان کو گھیرے میں لے چکی تھیں۔

25نومبر 1971ء کو انڈیا نے بین الاقوامی سرحد عبور کرکے پاکستان (مشرقی پاکستان) پر حملہ کر دیا تھا۔ فارن میڈیا چیخ رہا تھا کہ انڈین آرمی ڈھاکہ کی طرف بڑھ رہی ہے…… کاش اس وقت برادر اسلامی ملک ایران کی کوئی گراؤنڈ فارمیشن بھی ویسا ہی مظاہرہ کرتی اور ایرانی فضائیہ کے چند سکواڈرن، پاک فضائیہ کے ہمراہ انڈیا کے فضائی مستقروں کا رخ کرتے!…… لیکن ایسا نہ ہوا…… اور جب ایران کی اسلامی حکومت (1979ء میں) شاہِ ایران کو ملک بدر کرکے سریر آرائے جمہوریت ہوئی تو چند ماہ بعد عراق نے ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ میں ان دنوں GHQمیں تعینات تھا اور مجھے معلوم ہے کہ ایرانی فضائیہ کے آفیسرز پاکستان آ کر ہماری مدد (Aid) کے طالب ہوا کرتے تھے۔ میں نے ایک سے زیادہ بار، ایرانی ملٹری وفود کے ہمراہ بطور انٹرپریٹر فرائض انجام دیئے، ایرانی فضائیہ کے جرنیلوں کو ائر چیف کے پاس لے گیا اور ایک سے زیادہ بار ٹیکسلا، کامرہ اور 603 کمبائنڈ ورکشاپ کا دورہ کروایا اور جس حجم کی ملٹری انصرامی اور اسلحی امداد ایران کو دی جا سکتی تھی، وہ دی اور اس طرح 1965ء کی جنگ میں ایران کی طرف سے پاکستانی مدد کا حساب برابر کر دیا!

افغان جہاد (1979ء تا 1988ء) میں پاکستان، امریکہ کا ساتھ دے رہا تھا اور وہی ایام ایران۔ عراق جنگ کے بھی تھے۔ لیکن پاکستان نے کبھی بھی ایران کے سٹرٹیجک مفادات کے خلاف امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔

پاک۔ ایران تعلقات کی مساوات بڑی ٹیڑھی اور گنجلک ہے جس کو ڈیڑھ دو سو الفاظ میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ ایران و عرب کی کشیدگی کوئی نئی کشیدگی نہیں۔ خلفائے راشدین کے بعد خلافت بنو امیہ قائم ہوئی جو خلافت نہ تھی، بادشاہت تھی۔ لیکن یہی نظام 99سالہ اموی خلافت کے بعد عباسی خلافت کے 500سالہ دور میں بھی جاری رہا۔ اسلام کی ساری خلافتوں (امیّہ، عباسیہ، فاطمیہ،اندلسیہ، عثمانیہ وغیرہ) کے ادوار اسلام کی مذہبی اور مسلکی اونچ نیچ کا سراغ دیتے اور ایک طویل کہانی سناتے ہیں۔ عرب و عجم کی چپقلش اتنی ہی پرانی ہے جتنی اسلامی تاریخ خود ہے!

تاہم 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو ہمارے یہ دونوں مغربی اسلامی ہمسائے ہمارے حصے میں آئے۔ تاریخ اور جغرافیہ تبدیل کرنے کے لئے جنگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تاریخ بدلتی رہتی ہے، جغرافیہ نہیں بدلتا۔ لیکن جغرافیہ بھی بدلتا رہتا ہے۔ 1947ء سے پہلے برصغیر کا جغرافیہ کیا تھا اور پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بعد اسلامی دنیا کا جغرافیہ کس طرح بدلا، یہ کسے معلوم نہیں؟…… ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جغرافیائی لوکیشن تبدیل نہیں ہوتی۔ ہم کوہ ہمالہ، قراقرم اور ہندوکش کو اِدھر اُدھر نہیں کر سکتے، نہ ہی سندھ، راوی اور ستلج کو بدل سکتے ہیں۔ ان کا پانی کم ہو جائے یا سوکھ بھی جائے تو اس کا نام اور لوکیشن وہی رہتی ہے جو اس وقت سے ہے جب یہ پانچوں براعظم تخلیق ہوئے تھے۔

اگر سیدھی اور صاف بات کروں تو پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات میں ایک تو وہی از منہ ء قدیم (اسلامی دور) کی مسلکی پرچھائیاں ہیں اور دوسرے 15،20برسوں سے یہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ سی پیک میں پاکستان کے رول نے ایران کو ایک نئی رقابتی کشمکش سے دوچار کر دیا ہے۔ گوادر ایک بڑا بحری مستقر بن رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک انٹرنیشنل ائرپورٹ کی تعمیر بھی شروع ہو چکی ہے۔کراچی سے اور مارا، پسنی اور جیونی تک کا سارا ساحل اور ساحلی سرزمین ایک سٹرٹیجک اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ بلوچستان کے نقشے کو سامنے پھیلائیے اور خضدار سے پاک ایران بارڈر تک ایک افقی لکیر کھینچئے۔ اس لکیر کے نیچے جو علاقے آئیں گے، ان کی اہمیت اور تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے۔ یہ خطہ ء پاکستان بڑی تیزی سے ڈویلپ ہو رہا ہے۔ ہمارا دشمن نمبر ایک جو افغانستان میں بھی بیٹھا ہے اور ایران میں بھی، اس کو وہاں سے نکالنا ہے۔ امریکہ نے 17،18برس سے افغانستان میں بیٹھ کر دیکھ لیا ہے کہ اس کی نجات یہاں سے نکل جانے میں ہے۔ بقولِ شاعر صبح گیا یا شام گیا۔ جونہی وہ افغانستان سے رخصت ہوا، سٹرٹیجک منظرنامہ بڑی تیزی سے تبدیل ہوگا۔ اس نے کابل و قندھار و ہرات و ہلمند میں جو نیٹ ورک بنایا تھا وہ مستقبل قریب میں کرچی کرچی ہو رہا ہے۔ امریکہ نے چین کے خلاف جو محاذ بنایا تھا، وہ بھی بکھر رہا ہے۔ سی پیک کو آگے بڑھنا اور ڈویلپ ہونا ہے۔ ایرانی بلوچستان میں پاکستان دشمن تنظیموں کا جو نیٹ ورک ہے، اس پر ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ لیکن انڈیا نے گوادر کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کی ڈویلپ منٹ کا جو بیڑا اٹھایا تھا، وہ غرق ہو رہا ہے۔ انڈین نیوی کا کمانڈر (لیفٹیننٹ کرنل) کلبھوشن جس طرح پکڑا گیا، اسے جس طرح سزا ہوئی، جس طرح اس نے اپنے نیٹ ورک کو سپورٹ کرنے کی تفاصیل بتائیں، وہ سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی انٹیلی جنس نے اب تک ایران۔ انڈیا۔ افغانستان گٹھ جوڑ (Nexus)کا پتہ چلایا اور جس طرح ہمارے آرمی چیف نے گزشتہ دنوں اپنے ان شہدا (ایک میجر اور پانچ دوسرے عہدیداران) کا تذکرہ سپاہ پاسداران کے ایرانی کمانڈر سے کیا ہے، وہ سب کچھ خبروں میں آ چکا ہے اور پاک ایران کشیدگی کا ایک نیا اور قابلِ صد افسوس باب کھول رہا ہے۔ اس کی خبریں سوشل میڈیا پر آ رہی ہیں اور اس کے علاوہ کئی دوسرے ذرائع بھی بتا رہے ہیں کہ جو تکلیف افغانستان کو پاک افغان سرحد پر جنگلہ بندی سے ہوئی تھی، وہی تکلیف ایران اور اس کے حمائتی مودی کو پاک ایران سرحد پر جنگلہ بندی سے ہو رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے پاک ایران سرحد جو 965کلومیٹر طویل ہے اس پر باڑ لگانے کی منظوری دے دی ہے اور اس پر کام شروع ہو چکا ہے۔ چترال سے گوادر تک ساری پاک افغان اور پاک ایران سرحد پر جب مستقبل قریب میں یہ باڑ لگ گئی تو ایرانی بلوچستان میں وہ عناصر جو پاکستان کے باغی ہیں وہ مرگِ ناگہانی سے دوچار ہوں گے۔

انڈیا نے چاہ بہار کی ڈویلپمنٹ میں جو دامے درمے حصہ لیا، اس کا انجام اس کو نظر آ رہا ہے۔ چاہ بہار سے شمال میں ہرات تک جو سڑک انڈیا تعمیر کرنا چاہتا تھا (اور شائد کر چکا ہے) اور افغانستان کو کراچی کی بندرگاہ سے بے نیاز کرکے ایک نیا متبادل راستہ دینا چاہتا ہے، وہ پراجیکٹ جلد اپنی موت مرنے کو ہے…… کہاں گوادر اور کہاں چاہ بہار!……

پاکستان ہمیشہ کی طرح ایران سے اپنے تعلقات دوستانہ اور برادرانہ رکھنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کنٹری بیوشن اس سلسلے میں ساری دنیا کے سامنے ہے۔پاکستانی عوام بھی اپنے ایرانی بھائیوں سے کسی قسم کی مسابقت نہیں چاہتے۔ پاکستان ایک جوہری اور میزائلی قوت ہے، انڈیا اس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ہمارے کسی بھی ہمسائے کے ساتھ کاندھا ملائے گا تو اس کا نتیجہ اور انجام بخیر نہیں ہوگا۔ انڈیا، پاکستان کی مشرقی سرحد (ایل او سی) پر دن رات چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا ہے۔ دو روز پہلے آرمی چیف نے اس سرحد پر صف بند اپنی سپاہ کے ساتھ جو عیدالفطر منائی اور جو کچھ کہا، وہ میڈیا پر آچکا۔میں اسے دہرانے کی جگالی نہیں کروں گا……اس کی مزید وضاحت اگلے کالم میں!

مزید :

رائے -کالم -