سخت لاک ڈاون ناگزیر ہے

سخت لاک ڈاون ناگزیر ہے
 سخت لاک ڈاون ناگزیر ہے

  

دنیا بھر میں کوود 19وائرس کی تباہ کاری جاری ہے، ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے اور متاثرین کی تعداد 50لاکھ سے زائد ہو چکی ہے،ملک خدا دا پاکستان میں بھی متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں روز ہوش رباء اضافہ ہو رہا ہے مگر ہم سمجھنے کی بجائے عبرت کا نشان بننے کو تیار اور آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔کورونا کے ابتدائی ایام میں متاثرین کی تعداد ڈبل فگر میں نہ گئی تھی تو راوی چین ہی چین لکھتا تھا، آج مرنے والوں کی تعداد ہزار کے فگر کو عبور کر چکی ہے اور یہ شاخسانہ ہے ہماری کوتاہی اور لاپرواہی بے احتیاطی کا،اور ابھی ہلاکتوں اور متاثرین کی تعدا کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے جبکہ ہمارے اللے تللے جاری ہیں۔ حکومتی اداروں سمیت کوئی اس حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا، ایسے میں اس ہلاکت خیز وائرس کی تباہ کاری کو کیسے اور کیونکر روکا جا سکے گا،”کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا“

اللہ پاک نے ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ عطا فرمایا تھا جو سراسر احتیاط اور پاکیزگی کا مہینہ ہے،ہم چاہتے تو ان مبارک خیر سے بھرپور ایام میں اس مہلک وباء کو احتیاط اور پرہیز سے شکست دے سکتے تھے،آفاقی حقیقت ”پرہیز علاج سے بہتر ہے“کو اپنا کر اس موذی وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا تھا، مگر ہم نے اس ماہ مبارک کے اختتام پر وہ طوفان بد تمیزی مچایا کہ الامان و الحفیظ،عید کیلئے نئے کپڑے اور جوتے ہم نے اپنی اور دوسروں کی زندگی کی قیمت پر خریدے،حالانکہ یہ ایک دن ہم پرانے کپڑے اور جوتے پہن کر بھی گزار سکتے تھے،شاعر نے کہا تھا

”عید کا دن بھی میری جان گزر جائیگا

یہ بھی اک دن ہی تو ہے عام دنوں کی صورت

مگر ہم نے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو داؤ پر لگا کر اس روز وہ بے احتیاطی بد پرہیزی کی جیسے یہ ہماری زندگی کی آخری عید ہو (خدانخواستہ)، چاند رات کو سڑکوں اور بازاروں کی حالت دیکھ کر اپنی قوم کی”زندہ دلی“پر ماتم کرنے کو جی چاہتا تھا،خدایا یہ ہے وہ مخلوق جسے قدرت نے اشرف المخلوق کا درجہ عطا کیا ہے،اور جسے تمام کائنات پر فضیلت دے کر زمین پر خلیفہ بنایا گیا۔ خریداری کرنا جرم ہے نہ تجارت حرام مگر انسانی جان کی حرمت مقدم ہے،لیکن ہم نے تو اپنی زندگی کی بھی پرواہ نہ کی دوسروں کی زندگی کو کیا اہمیت دیتے،اور اس بے احتیاطی، لاپرواہی، بے تدبیری کا نتیجہ بھی جلد ہی نکل آیا اور معلوم ہواء اصل عید ہماری نہیں تھی کورونا کی تھی جس کو ہم نے تیزی سے پھیلنے کا موقع فراہم کیا، ہسپتالوں کے مخصوص وارڈ اور قرنطینہ مراکز مریضوں سے بھرے پڑے ہیں،ان متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں،کوئی دوا ہے نہ علاج، ماہرین کے مطابق وائرس نے جس جسم میں بھی جگہ بنائی وہ اپنی قوت ارادی سے بچے گا یا احتیاط سے۔ اب تک کورونا لا علاج ہے، ترقی یافتہ ممالک وائرس کی تیاری میں دن رات مصروف ہیں مگر اب تک اس میں کامیابی حاصل نہ کر پائے تو پھر اس سے بچنے کی کیا تدبیر ہے،ماہرین کہتے ہیں خود بچو اور دوسروں کو بچاؤ،یعنی جیو اور جینے دو، مگر شاید ہم خود جینا چاہتے ہیں نہ دوسروں کو جینے کا موقع دینے کی خواہش ہے،یہ میرا خیال نہیں بلکہ ہم نے اپنے روئیے سے ثابت کیا کہ ہمیں انسانی جان کی حرمت کا کوئی احساس نہیں۔

اللہ ہمیں اس آفت سے اپنی پناہ میں رکھے پورے عالم انسانی کی حفاظت فرمائے،مگر خدائے عزو جل کی ایک سنت بھی ہے جسے قرآن مجید فرقان حمید میں صراحت کیساتھ بیان بھی فرما دیا گیا،(ترجمہ)”اللہ اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی حالت کو خود تبدیل نہ کرے“علامہ اقبال نے اس کی انتہائی خوبصورت تفسیر بیان کی،کہتے ہیں

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اللہ پاک نے اس کائنات کو تشکیل دے کر بے آسرا نہیں چھوڑ دیا،بلکہ اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے نوع انسانی کو زندہ رہنے اپنی حفاظت اور رزق حاصل کرنے کے ذرائع اور وسائل بھی دئیے اور ان تک رسائی کا طریقہ بھی بتا دیا،سنت خداوندی پر معمولی غور کریں تو معلوم ہوتا ہے زندگی کیلئے ضروری ہواء، پانی،حرارت اور روشنی کا سارا انتظام اللہ پاک نے اپنے ہاتھ میں رکھا،ایسا نہ ہوتا تو ہمارا وجود کب کا خواب بن گیا ہوتا۔ آفات آسمانی،قدرتی وباؤں سے محفوظ رہنے کے گر بھی اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے ہمیں بتا دئیے مگر ایک ہم ہیں کہ ڈاکٹروں اور ماہرین کی کیا سنتے خدا کی سننے پر بھی تیار نہیں،ہمیں حکم دیا گیا کہ جس علاقے میں وباء ہو وہاں سے مت نکلو اور وہاں مت جاؤ،لیکن ہم آنے جانے پر خود کو کیا پابند کرتے ہم نے توان بستیوں کو شارع عام بنا دیا اور پھر شکوہ کرنے سے بھی نہیں رہتے، حکومت کیا کرے جب ہم خود ہی اپنی حفاظت پر آمادہ نہیں،حکومتیں تو عوام کے دباؤ میں آکر حفاظتی اقدامات کرتی ہیں اور ہماری عوام نے حکومت کو مجبور کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے خواہ نتیجے میں کتنا ہی انسانی جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑے،تاجروں نے بھی موت کی بڑے پیمانے پر تقسیم کی،گاہکوں کو سینی ٹائز کیا گیا نہ ماسک کی پابندی کرائی نہ ہی سوشل ڈسٹینس کو اہمیت دی بس تجارت اور فروخت کو ترجیح دی،خریدار خود بھی احتیاط کی فکر سے عاری تھے،ایسے میں اگر ہسپتالوں میں متاثرین کورونا کا رش بڑھ جاتا ہے یا ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو قصوروار ہم خود ہونگے۔ہم وہ ہیں جنہوں نے کورونا کو بانہیں پھیلا کر خوش آمدید کہا، سعودی عرب جو اسلامی تہذیب کا مرکز ہے اور ترکی جو اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی بجا طور پر ترجمانی کر رہا ہے وہاں نماز عید پر پابندی تھی،عید کے تین دن کرفیو کا ماحول رہا،عمرہ کی ادئیگی اور روضہ رسول پر حاضری پرپابندی رہی مگر پاکستان میں ایسا کیا تھا کہ پرہیز، احتیاط،حفاظتی تدابیر سے کناہ کشی کر کے بے حسی کا ثبوت دیا گیا۔

ابھی بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا، اللہ کے فضل سے ہم اور ہمارا ملک کورونا کی تباہ کاری سے محفوظ ہیں لیکن اگر ہمارا چلن یہی رہا تو پھر نظر نہ آنے محسوس نہ ہونے والے بے ذائقہ اس موت کے وائرس سے ہم تادیر محفوظ نہیں رہیں گے،اب بھی احتیاط کا دامن تھام کر ہم اس ہلاکت اور تباہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں،کاروبار،صنعت،دفتری نظام،چلائیں مگر احتیاط اور احتیاط اور صرف احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھیں،ورنہ ایک اور سخت اور مکمل لاک ڈاون کی ضرورت ہو گی،کرفیو جیسے لاک ڈاون کی۔

مزید :

رائے -کالم -