اقوام متحدہ بھارت کو دہشتگرد ریاست قرار دے

اقوام متحدہ بھارت کو دہشتگرد ریاست قرار دے
اقوام متحدہ بھارت کو دہشتگرد ریاست قرار دے

  

پاکستان اور چین نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ بھارت کو انتہا پسند ممالک کی فہرست میں شامل کرے۔ بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کی انتہا کر دی گئی۔ مودی سرپرستی میں مساجد و مدارس کے تقدس کو پامال اور مذہبی آزادی کو سلب کر دیا گیا۔ مسلمانوں کو جنونی ہندو اور پولیس مل کر تشدد کا نشانہ بنا کر انسانیت سوز مظالم اور قتل عام کر رہے ہیں۔ بھارت اقلیت کے ساتھ دہشت گردی نہیں کر رہا۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو ہے اور یہاں بھارت نے دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ حقیقت میں مودی انسانیت کا دشمن ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ کشمیر میں عالمی امن کے ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔ بھارت کے جارحانہ ہتھکنڈے خطے کے امن کے لئے شدید خطرہ بن رہے ہیں۔ صرف اپنے ہاں ہی نہیں بلکہ بھارت خطے کے دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردی کر رہا ہے۔ سری لنکا، نیپال بھوٹا ن، بنگلہ دیش اور پاکستان، ہر ملک کو اس نے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ بلوچستان کی نام نہاد علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے کو مشرف آمریت میں بلوچ قوم پرست اور سابق گورنر و وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگتی کی ایک فوجی اپریشن کے دوران ہلاکت کے بعد اپنی ملک دشمن سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملا تھا جس کے دوران بی ایل اے نے غیرمقامی باشندوں بالخصوص پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کیا اور پھر اس تنظیم نے ایف سی کے اہلکاروں کو بھی ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا۔ جب اس تنظیم نے بلوچستان میں پاکستان مخالف ریلیوں کے انعقاد اور ان میں پاکستان کے جھنڈے جلانے اور پاؤں تلے روندنے کا سلسلہ شروع کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ ہماری سالمیت کمزور کرنے کے درپے ہمارا ازلی دشمن بھارت بی ایل اے کی مکمل سرپرستی اور فنڈنگ کررہا ہے جبکہ بھارتی ”را“ کی جانب سے اس تنظیم کے عسکری ونگ کو دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔

بی ایل اے کے دہشت گرد عناصر کے قلع قمع کی کارروائیاں تیز کیں اور انہیں سکیورٹی فورسز کے روبرو سرنڈر کرنے پر مجبور کردیا جس کے بعد ان کی دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آگئی۔ اس تنظیم کو نکیل ڈالنے کیلئے ہمارے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے نیٹ ورک نے انتہائی فعال کردار ادا کیا اور انکے ٹھکانوں کا کھوج لگا کر ان کا صفایا کیا گیا چنانچہ باقی بچنے والے بی ایل اے کے کارکنوں نے افواج پاکستان کے سامنے سرنڈر کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ایک ڈوزیئر بنا کر اقوام متحدہ اور امریکی دفتر خارجہ کے حوالے کیا گیا جو خود بھارت کے دہشت گرد ہونے کا بھی بین ثبوت ہے۔ اس تناظر میں عساکر پاکستان اور اس کے ذیلی اداروں نے بلاشبہ دفاع وطن کے تقاضے نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کی ہے۔

چند سال قبل پاکستان پر مغربی سمت سے وار کرنے کیلئے بھارت نے افغانستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں تعینات کی جا نی تھی۔ یوں بھارت نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے پاک افغان سرحد پر دباؤ بڑھانا تھا اور افغانستان میں بھارتی فوج کی تعیناتی بھی اسی مہم کا ایک حصہ تھا۔ اب افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد بھارت کو اصل مسئلہ اسی فوج کا پڑا ہوا ہے۔

امریکہ اپنی فوج کو افغانستان سے نکال کر بھارتی فوج کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن افغانستان، روسی افواج کی طرف بھارتی افواج کا بھی قبرستان ثابت ہوگا۔ کابل میں بھارتی سفارت خانہ کے علاوہ قندھار، جلال آباد، مزار شریف اور ہرات میں قونصل خانے پاکستان کے خلاف بھارتی خفیہ کارروائیوں کے بڑے مراکز ہیں۔ جہاں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارتی قونصل خانوں سے پاکستان بالخصوص پشاور اور قبائلی علاقہ جات میں منفی سرگرمیوں کیلئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ قندھار کا بھارتی قونصل خانہ تو افغانستان میں ”را“ کا ہیڈ کوارٹر ہے ورنہ اگر دیکھا جائے تو قندھار میں افغانستان کے قونصل خانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ بھارت کی افغانستان سے تجارت اور بھارتیوں کی آمدورفت جلال آباد کے راستے سے ہوتی ہے۔

قندھار کے راستے نہ تو تجارت ہوتی ہے اور نہ ہی بھارتی سفارتکاروں اور عام شہریوں کی آمدورفت۔ پاکستان بارہا ایسی دستاویزات ثبوت کے طور پر پیش کرچکا ہے جن کے مطابق بھارت افغان سرزمین کو بلوچستان میں حالات خراب کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے استعمال کر رہا ہے۔

افغانستان کے حکمران اسکی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ بھارت کے ایماء پر کم و بیش اڑھائی ہزار کلو میٹر سرحد کو انہوں نے غیرمحفوظ بنا دیا ہے۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان میں مداخلت کیلئے استعمال کرتا آرہا ہے۔ اس کے ناقابل تردید ثبوت اقوام متحدہ اور امریکہ کے سامنے رکھے جاچکے ہیں مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اسلامی اخوت کا تقاضا تھا کہ پاکستان اور افغانستان سرحد کو مل کر محفوظ بناتے مگر افغان حکمران ذاتی مفادات کے اسیر بن کر بھارتی مفادات کو پاکستانی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے پاک فوج حکومت اور قوم متحد اور ایک پیج پر ہے۔ اپریشن ضرب عضب کے آغاز پر پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ اس دور کا آج سے موازنہ کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق نظر آئیگا۔ مگر دہشت گردوں کا ہنوز مکمل قلع قمع نہیں ہو سکا۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے اور انکے سہولت کاروں کے وجود سے ملک کو پاک کرنے سے ہی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -