دل ماننے کوتیارہی نہیں۔۔۔وہ رونق گل نہیں رہا ،نہ رونق بہار ہے

دل ماننے کوتیارہی نہیں۔۔۔وہ رونق گل نہیں رہا ،نہ رونق بہار ہے
دل ماننے کوتیارہی نہیں۔۔۔وہ رونق گل نہیں رہا ،نہ رونق بہار ہے

  

کچھ لوگوں کواللہ تعالیٰ نےایسی صفات عنایت فرمارکھی ہیں کہ وہ ایک لمحہ بھی آپ کیساتھ گزارلیں تو آپ کےلیےوہ سرمایہ حیات بن جاتاہے،آپ چاہ کر بھی ایسے لوگوں کوبھلا نہیں پاتےچاہے وہ زندگی میں آپ سےجدا ہوجائیں یا پھرروح وجسم کاناطہ ٹوٹنے سےآپ کو داغ مفارقت دےجائیں۔

ڈائریکٹرپروگرامنگ 24نیوزسیدانصارنقوی کاشماربھی ایسےہی لوگوں میں کروں گاجنہیں کبھی بھلانہیں سکوں گااوران کی جدائی جہاں ان کےاہل خانہ کوانتہائی افسردہ کرگئی وہیں ان کےدوست احباب اوران کیساتھ کسی بھی طرح جڑےلوگوں کےلیےیہ غم بہت بڑاہے،سیدانصارنقوی اپنے اخلاق اورپیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت سب کی آنکھوں کاتارہ رہےاوراپنی ذمہ داریوں کو احسن اندازمیں نبھاتےدیکھےگئے،چاہے کوئی ان کےڈیپارٹمنٹ کاہے یا نہیں،اخلاق سےپیش آنا ان کی عادت تھی،یہی وجہ ہےکہ اپنے حلقے میں انہیں مرکزی حیثیت حاصل رہی،یہ صرف میں نہیں کہہ رہابلکہ انہوں نے میڈیامیں جہاں کہیں بھی کام کیا،ان کےلیے اچھےالفاظ ہی سننےکو ملے،ان کی زندگی میں بھی لوگ ان کےگرویدہ تھے اورسانحہ کراچی کےبعدتواحباب جیسےسکتے میں آگئے۔

مجھے اچھی طرح یادہےکہ جب نیوزروم سے کسی نےآوازدی کہ کراچی میں ایک مسافرطیارہ گرنے کی اطلاع ہے اورساتھ ہی کسی دوسرے نے کہاکہ یار یہ تو وہی طیارہ ہے جس میں انصارنقوی صاحب بھی عید منانے لاہورسے جارہے تھے،یہ آوازسنتے ہی دل بیٹھ گیااورحادثے سے لے کران کی شہادت کی تصدیق تک ہرکوئی یہی دعاکررہاتھا کہ قدرت کوئی معجزہ دکھادےاورانہیں یہ غم نہ ملےمگرادھر قدرت کےہاں انہیں پاس بلانےکااٹل فیصلہ ہوچکاتھاجس کےسامنےانسان بےبس ہے۔

ابھی میرے سامنے انصارنقوی صاحب کا کمرہ ہےجس میں ان کی کرسی بالکل اسی طرح پڑی ہے جیسے ان کی شہادت سے ایک روزقبل تھی،وہ اُس روز دفترکے دروازے سےداخل ہوئے اوراپنی حسب عادت مسکراہٹ کیساتھ سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیردی،پھراسی کرسی پربیٹھ کرذمہ داریاں نبھاتےرہے ،تھوڑی دیربعدکمرے سےاٹھ کر کام کاجائزہ لیا،اس دوران میرے ساتھ گفتگو کرنےلگےاورلاک ڈاؤن کےدوران گھرسے کام کرنےکے تجربے پربات چیت کی،پھرمیرےگاؤں کے بارے میں پوچھنےلگے،انہیں اچھا لگااورمیراگاؤں دیکھنے کی خواہش ظاہرکی جس پرمیں نےانہیں دعوت دی توکہنےلگےکہ فی الحال تومیں عیدمنانےفیملی کےپاس جارہاہوں،واپس آکرآپ کا گاؤں دیکھتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ انصارنقوی اب ہم میں نہیں رہے مگردل اس حقیقت کو ماننے کوتیارہی نہیں۔

بلاگرمناظرعلی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز کےنیوزروم سے وابستہ رہ چکےہیں،آج کل لاہور کےایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں۔عوامی مسائل اجاگر کرنےکےلیےمختلف ویب سائٹس پر بلاگ لکھتے ہیں۔ان سےفیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -