اندھے قتلوں کا سراغ اور گجرات پولیس کا کردار

اندھے قتلوں کا سراغ اور گجرات پولیس کا کردار
اندھے قتلوں کا سراغ اور گجرات پولیس کا کردار

  

گجرات(مرزا نعیم الرحمان)عمر سلامت ڈی پی او گجرات کی خداداد صلاحیتوں پر کسی کو نہ تو شک ہونا چاہیے اور نہ ہے، ہمہ وقت عوام کو انصاف کی فراہمی اور اشتہاری مجرمان کی گرفتاری کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور اگر گجرات میں کوئی اندھا قتل ہو جائے تو اسکا سراغ لگانے کو اپنے لیے ایک چیلنج تصور کرتے ہیں، جوں جوں زمان ترقی کر رہا ہے جرائم پیشہ افراد بھی جدید دور کی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ ایک نہ ایک دن اسے چھری کے نیچے آنا ہی ہے۔

گجرات میں پہلے پہل کو دو طرفہ فائرنگ ہوتی تھی قتل وغارت کا بازار گرم ہوتا تھا ۔مقتول اور ملزم پارٹی کا تعین کرنا کوئی اتنا مشکل نہ تھا مگر اب جرائم پیشہ افراد اپنی دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس انداز سے قتل کر کے نعش کو ویرانے میں یا نہر میں بہا دیتے ہیں کہ کسی کو شک تک نہیں گزرتا مگر جیو فرانزک کے علاوہ دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے گجرات پولیس کی ایک لمبی اور چوڑی داستان کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے درجنوں اندھے قتل جنہیں مارنے والے یہ تصور کر کے قتل کیا کہ اسکا کھوج لگانا انتہائی مشکل ہے اور اس واردات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے وقت اسکے علاوہ خدا کی ذات دیکھ رہی تھی مگر صد آفرین عمر سلامت ڈی پی او گجرات پر اور انکی ٹیم پر جنہوں نے ڈی پی او گجرات کی تعیناتی کے ایک سال سے زائد کے عرصہ کے دوران کسی بھی ہونیوالے قتل کو ضائع نہیں ہونے دیا ۔

گزشتہ دنوں تھانہ سرائے عالمگیر پولیس کے ایس ایچ او لیاقت گجر نے نہر اپر جہلم سے برآمد ہونیوالی ناقابل شناخت کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کرایا جسے گولیاں مار کر بیدردی سے قتل کر دیا گیا تھا ۔اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی سرائے عالمگیر سعید احمد ،اور ایس ایچ او سرائے عالمگیر نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کیں نعش کی شناخت کیلئے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کا استعمال کیا گیا ۔مقتول کی شناخت ظہیر الدین بابر ولد محمد بشیر سکنہ چوپالہ کلاں سے ہوئی۔

عمرسلامت ڈی پی او گجرات نےاس قتل کی واردات کوجلد ازجلدٹریس کرنےکاحکم جاری کیاتو پولیس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے واردات میں ملوث ایک ملزم محمد زمان عرف زمانی ولد پرویز اقبال سکنہ محمود کے ونڈ شادیوال کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا ،جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ چیئرمین اوورسیز کمیٹی عدیل ارشد رحمانیہ کے ساتھ پچیس سال سے کام کر رہا ہے اور اسکا گن مین ہے۔ وقوعہ کے روز عدیل ارشد رحمانیہ نے دیگر دو ملزمان وقاص اور بٹ کے ہمراہ مقتول ظہیر الدین کو اغواءکیا اور اپنے ڈیرے پر لے گئے ،جہاں اسے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا ،اسکی فیس بک سے کچھ تصاویر ختم کرائیں اور اسے گاڑی میں ڈال کر نہر اپر جہلم کھمبی کے مقام پر لے گئے جہاں اسے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔قتل کی وجہ عناد مرکزی ملزم عدیل ارشد اور مقتول ظہیر الدین کے درمیان سابقہ رنجش ہے۔

گجرات میں ایک تہرے قتل میں ملوث چودہ سال سے اشتہاری ملزم ندیم کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ندیم نے تھانہ سول لائن کے علاقہ میں چودہ سال قبل ماں اور دو بیٹوں کو قتل کیا تھا جبکہ اسکے علاوہ کھمبی میں قتل ہونیوالے تین افراد چچا بھتیجے کے قاتلوں کو بھی پولیس نے گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ گجرات پولیس کی جرائم کی بیخ کنی کے لیے کارکردگی روز بروز نکھر کر سامنے آ رہی ہے اورحقیقی معنوں میں عمر سلامت ڈی پی او گجرات مقہور اور مظلوم عوام کے لیے سایہ شفقت اور مقدر کے سکندر ثابت ہوئے ہیں ۔اب کوئی بھی بڑے سے بڑا بدمعاش ، قاتل، ڈکیت ، واردات کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتا ہوگا کہ گجرات کے ڈی پی او کا نام عمر سلامت ہے جو اس وقت چین سے نہیں بیٹھتے جب تک سنگین وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا ۔

عمر سلامت ڈی پی او کا یہ موقف ہے کہ وہ کسی گنہگار کو بیگناہ کرنے کی ہرگز اجازت نہ دیں گے خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو؟ کیونکہ ایک دن انہیں بھی خدا کے انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔گجرات پولیس کی تاریخ ویسے بڑی شاندار اور لازوال ہے مگر جو کارکردگی عمر سلامت کے دور میں گجرات پولیس کی نکھر کر سامنے آئی ہے، اس سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا۔ گجرات کے عوام نے انتہائی بااثر اور سرمایہ دار چیئرمین اوورسیز کمیٹی عدیل ارشد رحمانیہ جو غیر ملکی شہریت کے بھی حامل ہیں کو بے نقاب کرنے پر عمر سلامت ڈی پی او گجرات کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے زیر سایہ چند مخصوص تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کی کارکردگی خراج تحسین کے قابل ہے۔

ڈی ایس پی سٹی پرویز گوندل کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو سٹی سرکل کی کارکردگی بھی انتہائی مثالی رہی ہے۔ پرویز گوندل کو ہال ہی میں بطور ڈی ایس پی سٹی تعینات کیا گیا جو اپنے کمانڈر عمر سلامت ڈ ی پی او کی سربراہی میں جرائم کی بیخ کنی کیلئے متحرک ہیں۔ تھانہ ڈنگہ پولیس نے قتل ، اقدام قتل اور ڈکیتی جیسے درجنوں واقعات میں ملوث ساجد عرف ساجو نامی اشتہاری کو چند یوم قبل تھانہ ڈنگہ کے علاقہ میں ڈکیتی کے بعد ایس ایچ او فراست چٹھہ نے گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر ملزمان نے فائرنگ کر دی، پولیس مقابلے کے دوران فرار ہونے کی کوشش میں ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا شکار ہوگیافراست چٹھہ کا شمار کرائم فائٹرز میں ہوتا ہے۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -پنجاب -گجرات -