سلطنتِ مغلیہ کا خاتمہ

 سلطنتِ مغلیہ کا خاتمہ
 سلطنتِ مغلیہ کا خاتمہ

  

مصنف : ای مارسڈن 

 محمد شاہ 1748ءمیں مر گیا۔ مغل بادشاہوں میں یہ آخری بادشاہ تھا جس کو کچھ اقتدارحاصل تھا۔ اول تو یہ اقتدار بہت ہی کم تھا اور جو کچھ تھا اس کا ستیاناس نادر شاہ نے 1739ءمیں کر دیا۔ اس کے بعد اور دو بادشاہ تخت پر بیٹھے، مگر ان کی بادشاہت بالکل برائے نام تھی۔ ان میں سے پہلے کی آنکھیں نکلوائی گئیں اور دوسرا قتل کیاگیا۔ شمالی ہند میں کبھی افغانوں کا ڈنکا بجنے لگتا تھا، کبھی مرہٹوں کی حکومت ہوتی تھی۔ مقتول بادشاہ کا بیٹا شجاع الدولہ نواب اودھ کے پاس چلا گیا اور اس کی ہمراہی میں بنگال پر حملہ آور ہوا مگر کلائیو نے دونوں کو واپس بھگا دیا۔

 پانی پت کی خوفناک لڑائی کے بعد یہ شہزادہ شاہ عالم کے لقب سے مغلوں کے تخت پر متمکن ہوا۔ اس نے شجاع الدولہ کے ساتھ بنگال پر دوبارہ حملہ کیا لیکن میجر کارنگ کے ہاتھ سے پھر شکست کھائی۔ یہ دہلی جانے سے ڈرتا تھا۔ اس لیے اودھ ہی میں رہنے لگا۔ شاہ عالم اور شجاع الدولہ نے تیسری دفعہ پھر بنگال پر حملہ کیا۔ اس دفعہ میر قاسم بھی ان کے ہمراہ تھا۔ بکسر میں 1764ءمیں تینوں کو فاش شکست ہوئی۔ دوسرے سال لارڈ کلائیو نے الہ آباد کا صلح نامہ کیا۔ اس کی رو سے انگریزوں نے شاہ عالم کے لیے 25 لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ مقرر کیا اور شاہ عالم نے انگریزوں کی حمایت میں الہ آباد رہنا منظور کیا۔ اب اس کی حالت یہ تھی کہ بے ملک کا بادشاہ تھا۔ گویا سلطنت مغلیہ کا خاتمہ ہو گیا۔

 پانی پت کی لڑائی کے 10 سال بعد مرہٹوں نے وہی طاقت حاصل کر لی تھی جو پہلے تھی البتہ ان کا سردار اب پیشوا نہ تھا۔ مرہٹہ رئیسوں میں اس وقت سب سے زبردست مہاواجی سندھیا تھا۔ اس نے مہاراجہ کا لقب اختیار کیا اور راجپوتانہ کے کل راجپوت راجاﺅں سے چوتھ لی۔ پھر آگے بڑھ کر دہلی پہنچا اور شاہ عالم سے کہا کہ آپ الہ آباد سے چلے آئیں اور دہلی کے تخت پر فرمانروائی کریں۔ شاہ عالم نے انگریزوں کے بے اجازت ایسا ہی کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 25 لاکھ روپیہ کا وظیفہ جو انگریزوں کی طرف سے ملتا تھا بند ہو گیا۔

 کئی سال تک سندھیا نے شاہ عالم کو نظر بند رکھا اور اس کے نام سے دہلی کی قلمرو یعنی دہلی اور آگرہ کے نواح میں خود حکومت کرتا رہا۔ پھر اسے کسی کام کی وجہ سے اپنی راجدھانی گوالیار میں جانا پڑا۔ اس نے پیٹھ موڑی ہی تھی کہ ایک روہیلے سردار نے دہلی پر حملہ کر کے محل شاہی کو لوٹا اور بوڑھے غریب شاہ عالم کی آنکھیں نکلوا دیں۔ سندھیا اس خبر کے سنتے ہی بڑی فوج کے ساتھ دہلی واپس آیا اور اس موذی روہیلے کو قتل کیا۔ اس کے 20سال بعد 1803ءمیں انگریزوں نے دہلی لے لی اور دیکھا کہ آنکھوں سے اندھا بڑھاپے کا ستایا شاہ عالم مرہٹوں کی قید میں پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اسے قید سے نکالا اور ایک معقول پنشن مقرر کر کے قدیم شاہی محل میں رہنے کی اجازت دے دی۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -