اگر خزانے میں ہمارے چھوڑے پیسے نہیں تو 28 ارب کی سبسڈی کہاں سے دی جا رہی ہے، مزمل اسلم 

اگر خزانے میں ہمارے چھوڑے پیسے نہیں تو 28 ارب کی سبسڈی کہاں سے دی جا رہی ہے، ...
اگر خزانے میں ہمارے چھوڑے پیسے نہیں تو 28 ارب کی سبسڈی کہاں سے دی جا رہی ہے، مزمل اسلم 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  معاشی ماہر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مزمل اسلم نے کہا کہ اگر خزانے میں پچھلی حکومت کے پیسے موجود نہیں ہیں تو موجودہ حکومت  28  ارب روپے کی سبسڈی کہاں سے دے رہی ہے ۔

نجی ٹی وی اے آر وائی سے گفتگو میں وزیر خزانہ کی نیوز کانفرنس پر رد عمل دیتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ   پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے بعد عوام کی جانب سے غم و غصے کا اظہار پایا گیا جس کے بعد گزشتہ روز وزیر اعظم نے  ایک ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت موٹرسائیکل والوں کو  دو ہزار روپے دیے جائیں گے ،  میں نے ان کا جھوٹ پکڑ اکہ بینظر انکم سپورٹ پروگرام میں تو خواتین شامل ہیں ؟، جس کے بعد آج اعلان ہوا کہ  ایس ایم ایس کیا جائے ۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ  حکومت سے گن پوائنٹ پر پٹرول کی قیمت بڑھانے کا کہاگیا تھا ،  وزیر اعظم کے خطاب میں پچھلی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کے سوا کچھ نہیں تھا،  جب ہم گئے تھے تو ڈیزل پر سبسڈی 25 روپے تھی ، اب 100 روپے کیسے بتائی جا رہی ہے ؟، یہ صرف قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں ، یہ کہتے ہیں کہ  شوکت ترین بتا دیں کہ وہ پیسے کہاں رکھ کر گئے تھے جو ان کو نہیں مل رہے ، اگر انہیں خزانے میں پیسے   نہیں مل رہے تو سبسڈی کا اعلان کیسے کر رہے ہیں ؟، مفتاح اسماعیل نے  آئی ایم ایف سے 18 ارب روپے قرض لینے کا اعلان کیا ہے ۔

 مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ تین روز قبل مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے جا رہا ہوں ، میرے قائد نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ نہ کیا جائے مگر تین دن کے بعد 30 روپے اضافہ کر دیا ، مفتاح اسماعیل کو معیشت کا کچھ علم نہیں وہ صرف ایک پیغام رساں ہیں ،  جو یہاں کا پیغام وہاں اور وہاں کا یہاں کرتے ہیں ، مستقبل میں آنے والے  جس پیسے کی بات مفتاح اسماعیل نے کی  وہ سب قرضے ہیں  جس میں   ورلڈ بینک سے  8.9 ارب ، آئی ایم ایف سے چار یا پانچ ارب اور دو ارب ڈالرز ایشین ترقیاتی بینک سے ملیں گے ، اگر قرضے لے کر مہنگائی میں اضافہ ہی کرنا تھا تو آئے کیوں ہیں؟۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ معیشت سمیت ان کی کسی  شعبے میں کوئی کارکردگی نہیں، انہوں نے اگر کوئی نیا کام کیا ہے تو صرف دو تین میں  اسمبلیوں میں جو قانون پاس ہوئے ، وہی ہیں ۔

مزید :

بزنس -