پہلی مرتبہ خاتون پولیس افسر ڈاکٹر انوش مسعود کو لاہور آپریشنز کا سربراہ تعینات کر دیا گیا ، یہ کون ہیں ؟ وہ معلومات جو آپ جاننا چاہتے ہیں 

پہلی مرتبہ خاتون پولیس افسر ڈاکٹر انوش مسعود کو لاہور آپریشنز کا سربراہ ...
پہلی مرتبہ خاتون پولیس افسر ڈاکٹر انوش مسعود کو لاہور آپریشنز کا سربراہ تعینات کر دیا گیا ، یہ کون ہیں ؟ وہ معلومات جو آپ جاننا چاہتے ہیں 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پہلی مرتبہ آئی جی پنجاب نے خاتون پولیس افسر کو لاہور کے آپریشن ونگ کی سینئر سپریٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات کر دیاہے ، اس کے علاوہ دیگر چھ افسران کے تبادلے بھی کیئے گئے ہیں ۔

ڈان نیوز کے مطابق ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری کو مستنصر فیروز کی جگہ لاہور آپریشنز پولیس کا سربراہ مقرر کر دیا گیاہے ، انہیں سینٹرل پولیس آفس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ڈاکٹر انوش وہ پہلی خاتون افسر ہیں جنہیں بطور ایس ایس پی لاہور آپریشنز تعینات کیا گیاہے ، اس سے پہلے وہ لاہور کی کنٹونمنٹ اور ماڈل ٹاﺅن ڈویژن میں بطور ایس پی فرائض انجام دے چکی ہیں ۔

اس کے علاوہ ایس پی اعجاز احمد کو سینٹرل پولیس آفس میں اے آئی جی کمپلینٹس تعینات کر دیا گیاہے جبکہ ایس پی محمد عمر فاروق کا تبادلہ سپیشل پروٹیکشن یونٹ میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر کر دیا گیاہے ۔

ایس پی شعیب کو سی پی او آفس میں اے آئی جی لوجسٹکس ، ایس پی محمد فیصل پی سی راولپنڈی میں بٹالین کمانڈر تعینات کیا گیا ہے جبکہ بہاولنگر کے ایس پیر فاروق احمد اعوان کا تبادلہ کر دیا گیاہے اور انہیں سی پی او آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

وکی پیڈیا پر موجود معلومات کے مطابق ڈاکٹر انوش مسعود چودھری 26 ستمبر 2019 سے پنجاب ، پاکستان کی ایلیٹ پولیس کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر ، انتظامیہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے۔انہیں 2018 میں لاہور کی بہترین کرائم فائٹر کا نام دیا گیا تھا۔ وہ 11 دسمبر 2014 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے پہلی خاتون اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) بنیں۔

انہوں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی اور طب میں سونے کا تمغا حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ 40 ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے لیے CSA میں اور خصوصی تربیت کے لیے NPA اسلام آباد میں تربیت حاصل کر رہی ہے۔

ڈاکٹر انوش نے ایک میڈیکل ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میں آنے سے پہلے میڈیسن میں سونے کا تمغا جیتا۔ انہوں نے ایک سال تک میو ہسپتال میں ملازمت کی۔ 2008 میں ، وہ ڈرمیٹولوجی کی سارک بین الاقوامی کانفرنس میں سب سے کم عمر میں شریک تھیں۔ 

ابتدائی طور پر ،خاتون پولیس افسرنے لاہور میں پنجاب پولیس میں بطور اے ایس پی شمولیت اختیار کی تھی لیکن پھر وہ 11 دسمبر 2014 کو ایبٹ آباد چلی گئیں ، خیبر پختونخوا پولیس میں اپنی اے ایس پی کے عہدے پر برقرار رہیں۔ اس کردار میں ، وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی پہلی خاتون اے ایس پی بن گئیں۔ 

مزید :

قومی -