بھارت نے  یقین دہانی کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے  ۔پھر پاکستان نے بھی کر دیے ، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی کہانی، چشم دید بروس ریڈل کی زبانی 

بھارت نے  یقین دہانی کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے  ۔پھر پاکستان نے بھی کر دیے ، ...
بھارت نے  یقین دہانی کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے  ۔پھر پاکستان نے بھی کر دیے ، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی کہانی، چشم دید بروس ریڈل کی زبانی 

  

 نیویارک (طاہر محمود چوہدری سے)  امریکی صی آئی اے میں بطور اینالسٹ اور کاؤنٹر ٹیرر ازم ایسکپرٹ  ملازم کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے بروس ریڈل نے  پاکستان کے ایٹمی دھماکوں  سے متعلق کہا کہ  بھارت نے  یقین دہانی کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے   جواباً  پاکستان نے بھی 28 مئی کو ایٹمی دھماکے  کر دیے ۔

پاکستان کے ایٹمی دھاکوں کے چشم دید بروس ریڈل  امریکی سی آئی اے میں بطور اینالسٹ اور کاؤنٹر ٹرئیزم ایکسپرٹ  اپنی 29 سالہ مدتِ ملازمت پوری کرنے کے بعد 2006 ء میں رئٹائر ہو گئے ،  اس دوران وہ چار سابق امریکی صدور، جارج ہنری بش (بش سینئر) بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور باراک اُبامہ کے مشیر اور سپیشل اسسٹنٹ برائے مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیاء امور رہے. 1997 تا 2001 ء وہ صدر بل کلنٹن کے سپیشل اسسٹنٹ برائے نیشنل سیکورٹی کونسل تھے. بروس ریڈل کئی کتابوں کے مصنف ہیں ، علاوہ ازیں واشنگٹن کی جان ہپوکن یونیورسٹی کے سکول آف ایڈوانس سٹڈیز میں پروفیسر ہیں.  بروس ریڈل نے بھارت اور پاکستان کے 1998 ء میں ایٹمی دھماکے کرنے کی اندرونی کہانی بطور ایک چشم دید کے اپنی کتاب ”Avoiding Armageddon: America، India And Pakistan To the Brink and Back“ میں تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے. 

بروس ریڈل کے مطابق 1998ء میں امریکہ کو اطلاعات ملیں  کہ بھارت ایٹمی دھماکے کر سکتا ہے ،  اسی بنا پر ایک اعلیٰ سطحی تین رکنی امریکی وفد نے بھارت کا دورہ کیا، بطور صدر کے سپیشل اسسٹنٹ برائے جنوبی ایشیاء امور  مجھ سمیت اس وفد میں ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ سٹروب ٹالبوٹ اور اسسٹنٹ سیکرٹری برائے ساؤتھ ایشیاء کارل انڈرفرتھ شامل تھے. بھارتی وزیراعظم واجپائی نے وفد کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت ایٹمی دھماکے نہیں کرے گا. تاہم ہمیں  واپس آئے ہوئے ابھی بمشکل ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا کہ مئی 1998 ء میں بھارت نے یکے بعد دیگرے کئی ایٹمی دھماکے کر دیئے ۔

بروس ریڈل کے مطابق  بھارت کے اس حیران کن اقدام پر صدر بل کلنٹن سی آئی اے، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت تمام ایسے متعلقہ افراد پر سخت برہم تھے، امریکی صدر کا موقف تھا کہ اب بھارت پر اس کی فوجی اور اقتصادی امداد سمیت دیگر پابندیاں لگانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے ،  بھارت نے اس موقع پر اپنے ایٹمی دھماکے کرنے کا جواز پاکستان کی بجائے چین کو قرار دیا تھا."

بروس ریڈل کے مطابق"بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اب توقع تھی کہ پاکستان بھی ایسا ضرور کرے گا، لہذا پاکستان کو اس کے ارادوں سے باز رکھنے کے لیے واشنگٹن سے جو ٹیم پاکستان بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا  میں بھی بطور نیشنل سیکورٹی کونسل کے مشیر اور صدر بل کلنٹن کے سپیشل اسسٹنٹ فار جنوبی  ایشیاء  اس ٹیم کا حصہ تھا. دوسرے دو اراکین سٹروب تالبوٹ (ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ) اور کارل انڈر فرتھ (اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے جنوبی  ایشیاء) وفد میں شامل تھے۔ ہمیں یہ ”مشن ایمپوسیبل“ دیا گیا تھا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے سے باز رکھا جائے." 

بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ"ہم تینوں امریکی سنٹ کام کے جنرل انتھونی زینی کے خصوصی جہاز پر پاکستان پہنچے. اسلام آباد کا ماحول، خصوصاً وزیراعظم نواز شریف اور ان کی کابینہ سخت سراسیمگی کے عالم میں تھی. پاکستانی میڈیا، اہم ایلیٹ سمیت پاکستان کے سائنسدان، خصوصاً ڈاکٹر اے کیو خان ایٹمی دھماکے کے لیے گرین سگنل چاہ رہے تھے. پاکستانی وزیرِ خارجہ دھماکوں کے لیے چیخ رہا تھا. ایسے ماحول میں ہم نے محسوس کیا کہ صرف ایک آواز تھی، اور وہ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی۔  وہ واحد شخص تھے، جو ہمیں ٹھنڈے دماغ کے ساتھ محسوس ہوئے. ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پاس اب ایٹمی دھماکے کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے. اگر اب اس نے ایسا نہ کیا، تو وہ اپنے ہی ملک میں اپنی ساکھ کھو بیٹھیں گے. 

بروس ریڈل کے مطابق  ایسے وقت میں ہمارے لیے پاکستان میں کوئی خوش گوار صورتحال نہ تھی. وزیر خارجہ گوہر ایوب خاں نے سٹروب تالبوٹ کو بتایا تھا کہ اب جبکہ بھارت ایٹمی دھماکے کر کے دینا کی چھٹی ایٹمی قوت بن چکا ہے،  اب یہ دوڑ نہیں رکے  گی. بلکہ بھارت اب آگے بڑھ کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا بھی مطالبہ  کرے گا۔ 

بروس ریڈل لکھتے ہیں کہ "اس وقت ہمیں جو فوری امید نظر آئی وہ یہ تھی کہ نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے آخری امید کے طور پر پاکستان کو اقتصادی اور فوجی امداد کی آفر کی جائے. ایف- 16 طیاروں سمیت پریسلر ترمیم کو ختم کرنے اور عالمی سپورٹ کی یقین دہانی کرائی جائے. ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے اس موقع پر نواز شریف کو 6 بلین ڈالر کی امداد کی پیشکش کی گئی اور انہیں امریکہ کے سٹیٹ وزٹ کی دعوت بھی دی گئی تھی.  نواز شریف کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے اور صدر کلنٹن اپنا آئندہ دورہ صرف پاکستان کا کریں  وہ بھارت کا دورہ نہ کریں. اس سے پہلے کہ ہم پاکستان کا اپنا دورہ ختم کرکے واپس امریکہ روانہ ہوتے ، نواز شریف نے فوج اور سائنسدانوں کو ایٹمی دھماکے کرنے کی اجازت دے دی. اس طرح پاکستان نے بھارت کے جواب میں 28 اور  30  مئی کو ایٹمی دھماکے کر دیئے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اسرائیل اور بھارت پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے. جبکہ یہ صرف ایک ”سموک سکرین“ تھا."

مزید :

ادب وثقافت -