سانس کی ناگوار بو

سانس کی ناگوار بو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کچھ افراد کو لگتا ہے کہ انہیں سانس کی بو کے مسئلے کا سامنا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہوتا اور کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن میں یہ مسئلہ ہوتا ہے، مگر انہیں اس کا علم نہیں ہوتا کیونکہ انسان کے لئے اپنی سانس کو سونگھنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بہت عام مسئلہ ہوتا ہے، جس کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب منہ میں بیکٹیریا کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔عموماً کھانے کے بعد اس کے ذرات دانتوں میں پھنس جاتے ہیں اور ان میں بیکٹیریا کی نشوونما ہونے لگتی ہے جس کے باعث سلفر مرکبات خارج ہوتے ہیں، جس سے سانس میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔سانس کی بو کی اہم وجہ دانتوں کی ناقص صفائی ہے، اگر برش اور خلال نہ کیا جائے تو منہ میں بیکٹیریا کی تعداد بڑھنے لگتی ہے جبکہ وہ دانتوں پر بھی جمع ہونے لگتے ہیں، جن کو plaque کہا جاتا ہے۔یہ دانتوں کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ سانس کی بو کا باعث بھی بنتے ہیں۔اس سے ہٹ کر مخصوص غذائیں جیسے لہسن اور پیاز کھانے سے بھی سانس میں بو پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ انہیں کھانے سے خون میں سلفر مرکبات خارج ہوتے ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ایسے گھریلو ٹوٹکوں کی کمی نہیں جن کی مدد سے سانس کی بو سے نجات ممکن ہے۔
سب سے اہم یہ کہ دانتوں کی اچھی طرح صفائی کریں۔ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ سانس کی بو کی عام وجہ منہ کی ناقص صفائی ہوتی ہے، تو دن میں کم از کم دو بار دانتوں کو برش ضرور کرنا چاہئے، برش کی نسبت مسواک کرنا زیادہ بہتر ہے۔ مسواک کرنے سے دانت صاف ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح کوشش کریں کہ ہر کھانے کے بعد یا پھر دن میں کم از کم ایک بار خلال ضرور کریں۔
بات دراصل یہ ہے کہ زبان پر بھی بیکٹیریا جمع ہوتے ہیں جن سے سانس کی ناگوار بو کا سامنا ہوتا ہے، تو روزانہ ٹوتھ برش کے پیچھے والے حصے سے زبان کی صفائی ضرور کرنی چاہئے۔بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ انناس کا جوس سانس کی بو سے نجات کا تیز ترین اور موثر ذریعہ ہے۔اس مقصد کے لئے ہر کھانے کے بعد ایک گلاس جوس پینا یا اس پھل کا ایک ٹکڑا ایک سے دو منٹ تک چبانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اکثر سانس کی بو منہ خشک ہونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ لعاب دہن ہمارے منہ کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس کی کمی سے بیکٹیریا کی تعداد بڑھتی ہے۔ہمارا منہ نیند کے دوران قدرتی طور پر خشک ہو جاتا ہے ، اسی وجہ سے صبح کے وقت سانس کی بو کافی نمایاں ہوتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت سے لعاب دہن بننے کا عمل بہتر ہوتا ہے اور سانس کی بو پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔
دہی میں صحت کے لئے ایسے مفید بیکٹیریا ہوتے ہیں جو نقصان دہ بیکٹیریا کا مقابلہ کرتے ہیں۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دہی کھانے سے سانس کی بو کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔اس مقصد کے لئے دن میں ایک بار کچھ مقدار میں بغیر چینی کی دہی کا استعمال لازمی کریں۔ دودھ کو بھی سانس کی بو سے نجات کا اچھا ذریعہ مانا جاتا ہے۔خاص طور پر لہسن اور پیاز وغیرہ کھانے کے بعد دودھ کا ایک گلاس پینے سے سانس کی بو سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔سونف کھانے سے بھی سانس کو مہکانے میں مدد ملتی ہے۔ سونف میں ایسی خاصیت ہوتی ہے جو سانس کو مہکانے کا کام کرتی ہے۔
مالٹوں میں وٹامن سی موجود ہوتا ہے جو لعاب دہن بننے کا عمل تیز کرتا ہے جس سے سانس کی بو کا باعث بننے والے بیکٹیریاز کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ پھل دانتوں کی صفائی کے لئے بہترین ہے۔ گرم مشروب بھی سانس کی بو سے نجات کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبز چائے میں موجود خصوصیات سے سانس کی بو کو عارضی طور پر دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سیب کھانے سے لہسن یا پیاز کھانے کے بعد سانس میں پیدا ہونے والی بو کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔سیب میں موجود مخصوص قدرتی مرکبات اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بیکنگ سوڈا بھی منہ میں موجود بیکٹیریاز کا خاتمہ کرتا ہے۔اسے استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو چائے کے چمچ بیکنگ سوڈے کو ایک کپ گرم پانی میں ملائیں پھر اس محلول سے کلیاں کریں۔اسی طرح ایک یا دو لونگ چبانے سے بھی سانس کی بو پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ لونگ کی جراثیم کش خصوصیات منہ میں موجود بیکٹیریا کا مقابلہ کرتی ہیں۔
لیموں کے ایک ٹکڑے کو چبانے سے بھی سانس کو مہکانا ممکن ہے۔اس میں موجود ایسڈ سے لعاب دہن بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اس طرح سانس کی بو سے مقابلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ پودینے کے پتے چبانے سے بھی سانس کی بو سے نجات پانا آسان ہو جاتا ہے۔ ٭٭٭