سری نگرکا درخشاں موتی،   شاہ ہمدان مسجد !

 سری نگرکا درخشاں موتی،   شاہ ہمدان مسجد !

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


(دوسری و آخری قسط)
میر سید علی ہمدانی کے سامنے تو یہ منظر تھا۔اگر ساری دنیا کے علماءو حکماءجمع ہو کر سمجھاتے کہ حضرت ، آپ سے سوال نہیں ہوگا لیکن وہ کہتے کہ نہیں! مجھ ہی سے یہ سوال ہوگا، میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اللہ کی لمبی چوڑی زمین کے ایک چھوٹے سے خطے میں بھی غیراللہ کی پرستش ہو، غیر اللہ سے خوف و رجاءکا معاملہ ہو، انسانوں کو (خواہ زندہ ہوں، خواہ مردہ) قسمت کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھا جاتا ہو، اولاد اور رزق دینے والا باور کیا جاتا ہو، ان کو ہر وقت اور ہر جگہ حاضر و ناظر جانتے ہوں۔ اگر مجھے معلوم ہو گیا کہ قطب شمالی میں یا قطب جنوبی میں یا ہمالہ کی بلند و سبز چوٹی پر ایک تنفس بھی ایسا ہے، جو غیراللہ کی پرستش کررہا ہے، غیراللہ کو نافع وضار سمجھتا ہے، غیر اللہ کو اس کائنات پر حکومت کرنے والا سمجھتا ہے، تو میرا فرض ہے کہ میں وہاں پہنچوں اور اللہ کا پیغام پہنچاوں۔“
 ( اسلام کے تین بنیادی عقائد / صفحہ 49،50 )
آپ کا دعوتی اسلوب ، آپ کی تعلیماتِ قرآن، حدیث اور صحابہ کرامؓ کی سیرت کا آئینہ ہیں۔ آپ نے علمی مضامین میں تحقیق و تفحص سے کام لیا ہے۔ آپ پہلے قرآن و حدیث سے رجوع کرتے ہیں۔ آپ نے اختلافی و فروعی ،الہیانی و کلامی مباحث سے تعرض نہیں کیا ہے۔ مختصراً یہ کہ آپ کی دعوت و تصانیف اسلامی علم وادب اور ثقافت و فکر کا ایک نہایت ہی گرانقدر سرمایہ ہیں۔ ان میں ایسے حقائق و معارف پیش کئے گئے ہیں جن کی حقانیت اور افادیت واضح ہے۔ان میں صالح ذوق رکھنے والے سالک راہِ حق کے لئے نقوشِ ہدایت و رشد کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ان کی معروف کتاب ”ذخیرہ الملوک “ اور ”وظائف پر مشتمل اورادِ فتحیہ‘ ‘ وغیرہ ان کتب کے مطالعہ سے یہ بات بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ داعی ِاسلام صرف درویش خدا مست ہی نہیں تھے ،نہ ہی وہ کوئی فقیر قسم کے انسان تھے، ان کا تبحرِ علمی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے جہاں صاحب ِتصوف و خانقاہی مزاج کے اعلیٰ پائے کے صوفی بزرگ تھے، وہیں وہ جبال العلم کے منصب پر بھی فائز تھے جس کا سب سے بڑا ثبوت ان کی علمی خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنی دعوت کو صرف زبان سے بیان نہیں کیا بلکہ رشحاتِ قلمی سے اوراق کے دفاتر سجائے اور بندگان ِخدا کی وہ اصلاحی کاوشیں انجام دیں کہ وادی ¿کشمیر کا اکثریتی طبقہ اہل ِایمان کا ہوگیا اور اب یہاں سے صدائے لا الہ الا اللہ کا ترانہ پوری وادی میں گونجنے لگا۔ یہ ان کی خداداد محنت کا ثمر ہے کہ آج وادی کے اطراف و اکناف میں اسلام کے ماننے والے موجود ہیں،پھر یہیں پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ دورانِ سفر امیر کبیر حضرت شاہ ہمدان نے اسلام کی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ آٹھویں صدی ہجری کے ایک کامل عارف اور تیزبین مبلغ تھے۔ ہمدان سے کشمیر تک بجز امیر تیمور تمام بادشاہ و امراءان کے معتقد و عقیدت مند تھے۔
شاہ ہمدان نے صرف تبلیغ ِاسلام پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کشمیری مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم و تربیت کے ضمن میں بھی ٹھوس خدمات انجام دی ہیں۔ کشمیر کی صنعتوں کو ان کی سفارش سے سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی اور نیم مردہ صنعتیں دوبارہ نشو و نما پانے لگیں۔ انہوں نے وادی میں وسط ایشیا اور ایران کے ماہر اور تجربہ کار کاریگروں، فن کاروں اور دست کاروں کی ایک بڑی تعداد لا کر آباد کی جنہوں نے علوم و فنون میں عوام کی رہنمائی کی اور وادی میں پشمینہ سازی، قالین بافی، شال بافی، جالک دوزی، سوزن کاری، جلد سازی،چاندی اور تانبے کے ظروف، لکڑی پر نقش سازی، چکن دوزی اور کاغذ سازی کو رواج دیا۔ علم و ادب اور فنِ خطاطی کی ترویج و سرپرستی کے ساتھ ساتھ کشمیر میں کاغذ سازی کی صنعت کا تعارف بھی سیّد علی ہمدانی اور ان کے دیگر رفقاءکی کشمیر میں آمد کے ساتھ ہی شروع ہوئی۔ انہوں نے مذہبی و ثقافتی میدان میں علی ہمدانی کو کشمیر کے مفصل حالات سے آگاہ کیا۔ مرکزی ایشیا اور کشمیر کے روحانی روابط کا سب سے بڑا ذریعہ میر سید علی ہمدانی ہی ہیں۔ وہ ایک عظیم داعی ِاسلام تھے اور مختلف اسلامی ممالک کی سیر و سیاحت سے جو سماجی و تہذیبی روایات کے پاکیزہ اثرات ان کی شخصیت پر غالب تھے وہ تمام سماجی، تہذیبی و ثقافتی روایات کشمیر کے معاشرے میں سرایت ہوتے گئے۔ یوں یہاں کے ثقافتی اور سماجی افکار و نظریات اسلامی دنیا کا عکس بنتے گئے۔ شاہ ہمدان رحمہ اللہ علیہ ایک کثیر الجہت ہستی تھے۔ وہ ایک مبلغ تھے تو ساتھ ہی سماجی و فلاحی شخصیت بھی۔ انہوں نے کشمیر میں اسلام شناسی اور تبلیغ ِدین کا نیا انداز سکھلایا، دین مبین میں داخل ہونے والوں کے ایمان و عقائد کو مضبوط کیا۔ انہوں نے ان کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اسلام کو ایک منظم نظامِ حیات کے طور پر ثابت کیا۔
کشمیر میں جناب امیر کبیر رحمہ اللہ علیہ نے ایک نہایت ہی منظم انداز میں اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ ان کے پیروکاروں نے علاقے کی اہم گزرگاہوں اور مقامات پر مساجد کی تعمیر میں آپ رحمہ اللہ علیہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان مشہور مساجد میں دریائے جہلم کے کنارے واقع خانقاہ معلی ، درگاہ شاہ ہمدان سری نگر و دیگر شامل ہیں۔ آپ نے ہمیشہ کے لئے کشمیر میں پڑاﺅ نہیں ڈالا بلکہ مختلف اور مناسب مواقع پر اس علاقے کا دورہ فرماتے رہے۔ آپ نے اپنے تمام مریدین کو مساجد میں آئمہ جمعہ و جماعت کی ذمہ داریاں دے کر وہاں سکونت پذیر کر دیا اور خود تمام معاملات کی نگرانی فرماتے رہے۔ ان کی تعمیر کردہ خانقاہیں فن ِتعمیر کی شاہکار ہیں ، دیواروں میں لکڑیوں کا استعمال ، کھڑکیوں ، دروازوں اور روشندانوں میں لکڑی پر تزئین و آرائش کا انتہائی حسین فن آٹھویں صدی ہجری میں فن ِنقش نگاری کے عروج کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مساجد و خانقاہیں یہاں کے عوام کے لئے دینی تربیت گاہیں بھی تھیں اور مختلف مواقع کی مناسبت سے یہاں ذکر و اذکار کی مجالس بھی ہوا کرتی تھیں۔ ان سے منسوب کئی مساجد و خانقاہیں اب بھی اہلِ بصیرت کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتی ہیں جہاں کے نقش و نگار سے زیادہ روحانی تسکین میسر رہتی ہے۔ ہمیشہ یہ خانقاہیں، یہ مساجد یا ان کی یادگاریں ہمارے لئے تسکین ِقلب و جگر ہیں۔
6 ذی الحجہ جو کہ ان کی وفات کے دن سے معروف ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ جس تہذیب و ثقافت سے تم اب اپنی بقاءو سلامتی کا نام بنائے ہوئے ہو وہ سب امیر کبیر حضرت میر سید علی ہمدانی رحمہ اللہ کی لائی ہوئی ہے۔ اللہ نہ کرے اگر ہم نے اپنی کوتاہ طبیعت کے سبب سے اپنے اس مرشد و رہنما کی خدمات کو باقی رکھنے کے لئے کوشش نہ کی تو یاد رکھیں ہماری تہذیب و ثقافت اپنی موت آپ ہی مر جائے گئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلکی افراط و تفریط سے بلند ہوکر داعی ِاسلام کی خدمات کو عوام تک خاص طور پر اپنی نسل ِنو تک پہنچانا ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور اپنے تہذیبی و ثقافتی روایات کی بقاءکا ضامن بھی۔اس سلسلے میں کئی ادارے کام کر رہے ہیں جن کی کاوشیں لائق ِتحسین ہیں۔
شاہ ہمدان اکیڈمی جموں و کشمیر سینٹر کی بنیاد فروری 2021ءمیں برزلہ باغات سرینگر میں رکھی گئی۔بنیاد پڑنے کے ساتھ ہی یہ ادارہ اپنے کام کے لئے متحرک ہو گیا جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ بانی ¿اسلام کی تعلیمات، ان کے نظریات، ان کا شخصی خاکہ، ان کی تصانیف کو اپنی نسل ِنو تک منتقل کیا جائے۔ اس سلسلے میں اکیڈمی نے قلیل مدت میں کئی بڑے سیمینار مختلف جگہوں پر کئے۔ اس کے علاوہ تحریری مسابقوں کا بھی انعقاد ہوا جس میں کئی اہلِ قلم نے اپنی نگارشات پیش کیں۔ اب ان نگارشات کو کتابی شکل دینے کے لئے ادارہ کوشاں ہے۔اس کے علاوہ کشمیر میں معروف اور چنیدہ شخصیات سے ملاقاتیں انفرادی طور پر کی گئیں اور مسلسل ایسی کوششوں میں مصروف ہیں کہ نسل ِنو اپنے آباءکی نسبت پر فخر محسوس کرے جس کے لئے لازم ہے کہ نسل ِنو کو ان سے متعارف کرایا جائے۔ ہم دل سے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے اسلاف میں وادی¿ کشمیر میں جو امام کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں کو امیر کبیر میر سید علی ہمدانی کہتے ہیں۔ آئیے ہم سب مل کر ان کی تعلیمات کی نشرو اشاعت میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ تاریخ ان اقوام کو فراموش کردیتی ہے اور انہیں اپنے اوراق میں باغی و خائن کے نام سے ہی یاد کرتی ہے جو اپنے ماضی کو دھندلا کر، اپنے مستقبل کو اور جانب لگائے رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے درسِ اسلامی یہی ہے کہ ماضی کے تحفظ میں ہی مستقبل کی بقاءپوشیدہ ہے۔
٭٭٭